بھارت کے خلاف میچ وننگ کارکردگی سے انگلش کپتان الیسٹر کک کے دکھ کم ہوگئے

دباؤ میں بہترین پرفارم کیا، انگلینڈ کو کپتانی سے زیادہ بطور بیٹسمین ان کی ضرورت ہے، ناصر

دباؤ میں بہترین پرفارم کیا، انگلینڈ کو کپتانی سے زیادہ بطور بیٹسمین ان کی ضرورت ہے، ناصر۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

ساؤتھپٹن ٹیسٹ میں انگلش کپتان کی جانب سے پہلی اننگز میں 95اور دوسری میں ناقابل شکست 70رنز بناکر بھارت کے خلاف فتح میں اہم کردار نبھانے والے انگش کپتان الیسٹر کک کے دکھ کم ہو گئے جبکہ ان کے مستقبل پر اٹھائے جانے والے سوالات میں کمی آگئی ہے۔


سابق قائد ناصر حسین نے کہاکہ الیسٹرکک نے دبائو میں بہترین پرفارم کیا، انگلینڈ کو کپتانی سے زیادہ بطور بیٹسمین ان کی ضرورت ہے۔ ایک اخباری کالم میں انھوں نے تحریر کیا کہ سیریز میں خسارے میں جانے کے بعد میں الیسٹرکک کی کیفیت سمجھ سکتا تھا، میں بھی اپنے قیادت کے دور میں اس طرح کے حالات کا سامنا کرچکا ہوں۔ انگلش ٹیم کا کپتان ہونے کی کیا قیمت ادا کرنا پڑتی ہے یہ وہی جان سکتا ہے جس نے کبھی یہ ذمہ داری اٹھائی ہو، ذاتی فارم خراب اور حالات بس میں نہ ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر کوئی آپ کے خلاف ہے۔

ایک مرحلہ پر آپ کو خود بھی یہ احساس ستانے لگتا ہے کہ شاید عوامی امیدوں پرپانی پھیرنے کا جرم سرزد کررہے ہیں، میں 2001 کے دورہ سری لنکا میں اس صورتحال سے گزر چکا ہوں۔ ناصر حسین نے کہا کہ دباؤ کے باوجود مشکل حالات میں ڈٹ جانے کا حوصلہ قابل ستائش ہے، میں اب بھی اپنی اس رائے پر قائم ہوں کہ انگلینڈ کو الیسٹرکک کی کپتانی سے زیادہ اچھی بیٹنگ کی ضرورت ہے،بطور بیٹسمین کارکردگی میں استحکام سے دیگر مسائل خود بخود ختم ہوتے جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ سائوتھمپٹن ٹیسٹ میں گراسی وکٹ پر پہلے بیٹنگ بہادرانہ فیصلہ تھا جس پر قسمت نے بھی ٹیم کا ساتھ دیا۔
Load Next Story