درجنوں ہلاکتیں بھی شہریوں کو سمندر کا رخ کرنے سے نہیں روک سکیں

ماڑی پور پولیس نے ناکے لگا کر تفریحی کیلیے ہاکس بے آنے والے شہریوں کو واپس کر دی

سانحہ سی ویو میں درجنوں افراد کی ہلاکتیں کے باوجود عید کے چوتھے روز شہریوں کی بڑی تعداد پکنک منانے کے لیے ہاکس بے کے لیے گھروں سے نکل پڑےفوٹو: اے ایف پی

سانحہ سی ویو میں درجنوں افراد کی ہلاکتیں بھی کراچی کے شہریوں کو سمندر کا رخ کرنے سے نہیں روک سکیں ۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ سی ویو میں درجنوں افراد کی ہلاکتیں کے باوجود عید کے چوتھے روز شہریوں کی بڑی تعداد پکنک منانے کے لیے ہاکس بے کے لیے گھروں سے نکل پڑے تاہم انھیں اس وقت شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب ایس ایچ او ماڑی پور چوہدری سلیم نے تھانے کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کر کے ہاکس بے کے ساحل پر آنے والے شہریوں کی گاڑیوں کو واپس کر دیا اور انھیں کسی بھی صورت میں ہاکس بے سمیت دیگر ساحل سمندر پر جانے سے روک دیا اس موقع پر شہریوں اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی کے بھی واقعات رونما ہوئے تاہم پولیس نے کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر ہاکس بے جانے والی شارع کو مستقل بند رکھا تاہم مقامی افراد کو آنے جانے کی اجازت تھی ۔


ایس ایچ او ماڑی پور انسپکٹر چوہدری سلیم نے بتایا کہ کئی افراد پولیس کو چکمہ دے کر مختلف راستوں سے ہاکس بے کے ساحل تک پہنچنے میں نہ صرف کامیاب ہوگئے بلکہ پابندی کے باوجود سمندر میں نہا رہے تھے جس کی اطلاع پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والے 15 افراد کو گرفتار کر کے دفعہ 188 کے تحت متعدد مقدمات درج کرلیے ۔

سانحہ سی ویو کے باوجود شہریوں کی بے حسی کا یہ عالم تھا کہ وہ ہاکس بے کے ساحل پر پکنک منانے کیلیے اپنے بچوں کے ہمراہ پہنچے تھے جبکہ یہ بات سب کو معلوم تھی کہ سمندر انتہائی بھپرا ہوا ہے اور سمندر کی لہریں کئی کئی فٹ بلند ساحل کی جانب آتی ہیں جو سمندر میں نہانے والوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہیں اور وہ پکنک منانے اپنے اہلخانہ کے ہمراہ ہاکس بے آئے تھے جبکہ انھیں اس باب سے بھی سروکار نہیں کہ سانحہ سی ویو میں کئی انسانی جانیں سمندر نگل چکا ہے۔
Load Next Story