حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط پر انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترمیم کا فیصلہ کرلیا
قائمہ کمیٹی داخلہ اور قومی ایگزیکٹو کمیٹی منظوری دے چکی اب پارلیمنٹ سے منظوری لی جائیگی
قانون نافذکرنیوالے اداروں کے اختیارات میں اضافہہ وگا مسودے میں اقوام متحدہ کے فورم اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی تجاویزبھی شامل ۔ فوٹو: فائل
وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کیلیے انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم کا مسودہ منظوری کیلیے پارلیمنٹ پیش کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔
وزارت خزانہ ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کیساتھ ہونے والے تیسری اقتصادی جائزہ میں اسٹرکچرل بنچ مارک کے طور پر یہ طے پایا ہے کہ ستمبر 2014 تک انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم متعارف کروائی جائیں گی جس کے تحت ٹیکس چوری کے بڑے کیسوں کو بھی انسداد منی لانڈرنگ کے قوانین کے تحت ڈیل کیا جائیگا اور ٹیکس چوری کو منی لانڈرنگ قراردیا جائیگا ،ذرائع نے بتایا کہ اس حوالے وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کی زیر صدارت میں ہونیوالے قومی ایگزیکٹوکمیٹی(این ای سی)کے اجلاس میں انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم کے ابتدائی مسودے بارے تفصیلی تبادلہ خیال ہوچکا ہے اور اس اجلاس میں پرویز رشید، سرتاج عزیز، چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان طاہر محمود ،سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود،سیکریٹری داخلہ شاہد خان سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی تھی اور تمام متعلقہ وزارتوں کی طرف سے تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد اصولی منظوری دیدی،ذرائع کے مطابق انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے کی جانیوالی اصلاحات میں دہشتگردی کی کارروائیوں کیلیے فنانسنگ کو روکنے کیلیے ملک کی لا انفورسمنٹ ایجنسیوں اور انکے پرسانل کے اختیارات میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم کے مسودے میں اقوام متحدہ کے پابندیوں کے فورم اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کیساتھ ہونیوالے مذاکرات میں دی جانیوالی تجاویزکوبھی شامل کیاگیااور پاکستان کی انسداد منی لانڈرنگ اوردہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے فنانسنگ کی روک تھام(سی ٹی ایف) کومنی لانڈرنگ سے متعلقہ قوانین کو عالمی معیار کے ہم آہنگ بنانے کیلئے ترامیم تجویز کی گئی ہیں ،ذرائع کا کہنا ہے کہ انسدادمنی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم کے مسودے کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی طرف سے منظوری دی جاچکی ہے اور اب یہ مسودہ قومی اسمبلی میں منظوری کیلیے پیش کیاجائیگا۔
وزارت خزانہ ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کیساتھ ہونے والے تیسری اقتصادی جائزہ میں اسٹرکچرل بنچ مارک کے طور پر یہ طے پایا ہے کہ ستمبر 2014 تک انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم متعارف کروائی جائیں گی جس کے تحت ٹیکس چوری کے بڑے کیسوں کو بھی انسداد منی لانڈرنگ کے قوانین کے تحت ڈیل کیا جائیگا اور ٹیکس چوری کو منی لانڈرنگ قراردیا جائیگا ،ذرائع نے بتایا کہ اس حوالے وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کی زیر صدارت میں ہونیوالے قومی ایگزیکٹوکمیٹی(این ای سی)کے اجلاس میں انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم کے ابتدائی مسودے بارے تفصیلی تبادلہ خیال ہوچکا ہے اور اس اجلاس میں پرویز رشید، سرتاج عزیز، چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان طاہر محمود ،سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود،سیکریٹری داخلہ شاہد خان سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی تھی اور تمام متعلقہ وزارتوں کی طرف سے تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد اصولی منظوری دیدی،ذرائع کے مطابق انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے کی جانیوالی اصلاحات میں دہشتگردی کی کارروائیوں کیلیے فنانسنگ کو روکنے کیلیے ملک کی لا انفورسمنٹ ایجنسیوں اور انکے پرسانل کے اختیارات میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم کے مسودے میں اقوام متحدہ کے پابندیوں کے فورم اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کیساتھ ہونیوالے مذاکرات میں دی جانیوالی تجاویزکوبھی شامل کیاگیااور پاکستان کی انسداد منی لانڈرنگ اوردہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے فنانسنگ کی روک تھام(سی ٹی ایف) کومنی لانڈرنگ سے متعلقہ قوانین کو عالمی معیار کے ہم آہنگ بنانے کیلئے ترامیم تجویز کی گئی ہیں ،ذرائع کا کہنا ہے کہ انسدادمنی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم کے مسودے کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی طرف سے منظوری دی جاچکی ہے اور اب یہ مسودہ قومی اسمبلی میں منظوری کیلیے پیش کیاجائیگا۔