امریکی سینیٹ میں پاکستان مخالف بل مسترد

امریکی سینیٹ نے پاکستان کی امداد ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کرنے کا بل مسترد کر کے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے

امریکا کی جانب سے یہ ایک مثبت اشارہ ہے کہ وہ پاکستان کو اپنا ایک اہم اتحادی سمجھتا ہے اور وہ کسی بھی صورت پاکستان سے اپنے تعلقات خراب کرنے کو تیار نہیں۔ فوٹو: فائل

امریکی سینیٹ نے پاکستان کی امداد ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کرنے کا بل کثرت رائے سے مسترد کر دیا۔ بل ری پبلکن سینیٹر رینڈ پال نے پیش کیا۔

ایوان بالا کے 10 ارکان نے بل کی حمایت جب کہ 81 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ بل میں مصر اور لیبیا کی امداد معطل کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

امریکی سینیٹ نے پاکستان کی امداد ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کرنے کا بل مسترد کر کے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے۔ امریکا کی جانب سے یہ ایک مثبت اشارہ ہے کہ وہ پاکستان کو اپنا ایک اہم اتحادی سمجھتا ہے اور وہ کسی بھی صورت پاکستان سے اپنے تعلقات خراب کرنے کو تیار نہیں۔ اس نے پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے واضح عندیہ دے دیا ہے کہ وہ تمام تر مخالفت اور رکاوٹوں کے باوجود پاکستان سے اپنے تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اس فیصلے سے پاک امریکا تعلقات میں مثبت پیشرفت ہو گی۔

رینڈپال کی جانب سے پاکستان کی امداد کو مشروط کرنے کا بل پیش کرنے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکی سینیٹ میں پاکستان مخالف لابی موجود ہے جو اسے کسی نہ کسی صورت دبائو میں رکھ کر اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کرنا چاہتی ہے۔ مگر خوش آیند امر یہ ہے کہ امریکی سینیٹ کے اکثریتی ارکان پاکستان کی جغرافیائی اہمیت سے آگاہ ہیں اور انھیں اس حقیقت کا بھی ادراک ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کے طور پر امریکا کو بھرپور معاونت فراہم کی اور اس جنگ میں بے شمار قربانیاں دیں ۔ اس جنگ سے نہ صرف وہ خود دہشت گردی کا شکار ہوا ہے بلکہ اس کی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی پر امریکی سی آئی اے کے لیے اسامہ بن لادن کی جاسوسی کرنے کا الزام ہے۔اصل معاملہ یہ ہے کہ شکیل آفریدی کو اگر اسامہ بن لادن کے حوالے سے کوئی معلومات ملی تھیں تو اسے پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے ملکی اداروں سے رابطہ کرنا چاہیے تھا مگراس نے امریکی سی آئی اے کو اسامہ کے بارے میں معلومات فراہم کرکے پاکستان کے لیے نت نئے مسائل پیدا کیے۔ ایبٹ آباد پر امریکی حملہ پر اسی جاسوسی کا نتیجہ تھا جس سے پاک امریکا تعلقات میں تلخی پیدا ہوئی اور نہ صرف پاکستان کے اندرونی حلقوں میں اس کی خود مختاری اور سلامتی سوالیہ نشان بن گئی بلکہ پوری دنیا میں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے خلاف الزامات میں تیزی آ گئی۔


ڈاکٹر شکیل آفریدی کو 24 مئی کو قبائلی نظام انصاف کے تحت 33 سال کی سزا دی گئی تھی اس پر الزام تھا کہ اس کے لشکر اسلام سے تعلقات ہیں جو غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔ امریکی ارکان کی جانب سے وقفے وقفے سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کا معاملہ اٹھایا جاتا اور پاکستان سے اسے رہا کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور اب بھی رینڈ پال کی جانب سے پاکستان کو دبائو میں لانے کے لیے امریکی امداد کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کا معاملہ عدالت میں ہے۔ امریکا کو دوسرے ممالک کے قوانین کا بھی احترام کرنا چاہیے اور کوئی ایسا ناروا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے جس سے دوسرے ممالک کے عدالتی نظام پر حرف آئے۔

امریکا نے ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر پاکستان پر دبائو بڑھا کر اسے رہا کرا لیا تھا۔ شاید اس نے یہ تصور کر لیا ہے کہ وہ پاکستانی قوانین کی بالادستی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے طاقت کے زور پر اپنے جائز و ناجائز مطالبات پاکستان سے منوا سکتا ہے۔ پاکستان اور امریکا کے باہمی تعلقات نشیب و فراز کی پگڈنڈیوں سے گزرتے رہے ہیں۔ روس کے خلاف سرد جنگ میں پاکستان نے امریکا کا ساتھ دیا۔ اس دوران امریکا نے پاکستان کی دل کھول کر امداد کی اور اسے جدید ہتھیار فراہم کیے۔ اس دورانیہ میں امریکی سینیٹ میں پاکستان کے خلاف کبھی آواز نہیں اٹھی۔ پاکستان امریکا کا وہ لاڈلا رہا جو کھیلن کو چاند بھی مانگتا رہا تو امریکی ماتھے پر شکنیں نہیں پڑیں۔ امریکا کی جانب سے نہ صرف جدید ترین ایف سولہ طیارے فراہم کیے گئے بلکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف دبی آواز میں بھی کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا۔

جیسے ہی سرد جنگ ختم ہوئی تو امریکی رویے میں بھی تبدیلی آنا شروع ہو گئی اور پاک امریکا تعلقات سردمہری کی نذر ہو گئے۔ مگر نائن الیون کے بعد امریکا نے پاکستان کو پھر گلے لگا لیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ہر ممکن طور پر امریکا کا ساتھ دیا۔ مگر امریکا نے اپنے مفادات کے کھیل میں مقصد پورا ہونے پر پاکستان کے ساتھ اپنے رویے میں پھر تبدیلی پیدا کر لی اور دہشت گردی کی آڑ میں پاکستان کی سرحدی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈرون حملے شروع کر دیے۔ امریکی ہٹ دھرمی اس قدر بڑھی کہ اس نے پاکستان کو کمزور سمجھتے ہوئے سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کر کے پاک فوج کے جوانوں کو شہید کر دیا۔ جس کے بعد پاک امریکا تعلقات میں پھر تلخی آ گئی اور پاکستان نے نیٹو سپلائی معطل کر کے اس کی بحالی امریکا کی جانب سے معافی مانگنے تک مشروط کر دی۔

تمام تر تلخیوں کے باوجود دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کسی نہ کسی صورت قائم رہے اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ اب گستاخانہ فلم کے بعد پوری دنیا میں امریکا مخالف جذبات کی لہر پرتشدد رخ اختیار کر گئی ہے اور امریکا لیبیا میں اپنے سفیر کی ہلاکت اور سفارتخانوں پر حملوں کے خلاف غم و غصہ کا اظہار تو کر رہا ہے مگر وہ ان شرانگیز اقدامات کے انسداد کے لیے کارروائی نہیں کر رہا جو ان مظاہروں کا سبب بن رہے ہیں۔ ایسے گستاخانہ اقدامات سے پاکستان میں بھی امریکا مخالف جذبات بھڑک اٹھتے ہیں جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی رکاوٹیں پیدا ہو جاتی ہیں اور حکومت پاکستان کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

امریکا گستاخانہ فلم بنانے والے مافیا کے خلاف کارروائی کرے تو پاکستان سمیت پوری دنیا میں امریکا کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا جائے گا اور اس کے بارے میں اچھی رائے پیدا ہو گی۔ اب واشنگٹن میں پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ڈرون حملوں کا معاملہ پھر اٹھایا ہے۔ امریکا کو پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی کا احترام کرتے ہوئے ڈرون حملوں کا سلسلہ فی الفور بند کر دینا چاہیے۔ امریکا اور پاکستان کے درمیان تعاون کے روڈ میپ پر عملدرآمد پر اتفاق رائے ہوا ہے اگر اسے کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے تو امریکا کو پاکستان کے تحفظات بھی دور کرنا ہوں گے۔
Load Next Story