خوراک کی پیداوار میں خود کفالت

جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کو کاشتکاروں کی دہلیز پر پہنچا کر زرعی شعبے میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے

زرعی سائنسدانوں کی محنت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے ملک خوراک کی پیداوار میں خود کفالت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان ایک زرعی ملک ہے ، زرعی سیکٹر کئی مشکلات کا شکار ہے۔

لیکن یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ شعبہ پاکستان کو خوراک کی خود کفالت کی طرف لے جارہا ہے۔پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے آر سی) کے چیئرمین کے حوالے یہ خبر اخبارات کی زینیت بنی ہے کہ زرعی سائنسدانوں کی محنت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ سے ملک خوراک کی پیداوار میں خود کفالت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کو کاشتکاروں کی دہلیز پر پہنچا کر زرعی شعبے میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔

یہ بات بالکل درست ہے۔زرعی شعبے کی مربوط ترقی کے لیے وفاقی اور صوبائی ادارے باہم مل کر کوئی پالیسی تشکیل دی تو پاکستان میں سبز انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے جس سے ملک خوشحال ہوسکتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او نے ایک رپورٹ جاری کی تھی کہ ایشیائی ممالک میں خوراک کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ پاکستان میں ہوا ہے جو بیس فیصد کے لگ بھگ ہے۔


اس رپورٹ کے مطابق بھارت میں یہ اضافہ سولہ فیصد، انڈونیشیا میں پندرہ فیصد، سری لنکا میں تیرہ فیصد، بنگلہ دیش میں گیارہ فیصد، چین میں دس فیصد، بھوٹان میں آٹھ فیصد، ملائیشیا میں تین اعشاریہ چھ فیصد جب کہ فلپائن میں صرف تین اعشاریہ ایک فیصد اضافہ ہوا۔ یہ مایوس کن بات تھی لیکن اگر توجہ دی جائے تو پاکستان خوراک میں خود کفیل بھی ہوسکتا ہے اور یہاں خوراک کی قیمتوں میں کمی بھی لائی جاسکتی ہے۔ زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے چونکہ ملک بھر میں تمام زیر کاشت رقبے کو نہری پانی کی سہولت مہیا نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی مصنوعی طریقے سے آبپاشی کے لیے ٹیوب ویلوں کو وافر بجلی یا ڈیزل میسر آ سکتا ہے۔

لہٰذا ضروری ہے کہ توانائی کے متبادل ذرایع کی ترقی پر غور کیا جائے ۔ اس معاملے میں حکومت بھی توجہ دے اور نجی شعبے بھی اپنا کردار ادا کرے ۔ اگر صرف پنجاب کی بات کی جائے تو یہاں سوا آٹھ لاکھ کے لگ بھگ ٹیوب ویل ڈیزل سے چلتے ہیں۔ سندھ میں بھی بڑی تعداد میں ٹیوب ویل چل رہے ہیں۔کسانوں کو بجلی مہنگی ملتی ہے ، اس لیے ان کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے۔ یہ اطلاعات بھی موجود ہیں کہ پنجاب دس ہزار ٹیوب ویلوں کو مرحلہ وار بائیو گیس پر منتقل کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔

جہاں تک نہری پانی میں اضافے کی کوششوں کا تعلق ہے تو اس مقصد کے لیے منگلا ڈیم کے توسیعی منصوبے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے، جس سے 120 میگاواٹ بجلی کے اضافے کی توقع ہے۔ توسیعی منصوبے کے تحت ڈیم کی بلندی میں مزید 30 فٹ کا اضافہ کیا جا رہا ہے جس کے بعد ڈیم میں 29 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔ اس منصوبے سے متاثر ہونے والے 96 فیصد سے زائد افراد کی آباد کاری پہلے ہی کی جا چکی ہے۔

فی الوقت منگلا ڈیم سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے جس میں 12 فیصد تک اضافہ ہو نے کی امید ہے۔ اس سے پاکستان میں توانائی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ زرعی شعبے کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا ، وقت کا تقاضا ہے۔ پاکستان کے پاس زرخیز زمین ہے، زیرزمین میٹھا پانی،بہترین نہری نظام موجود ہے، اگر نیت ٹھیک ہو تو اس شعبے کی بنیاد پر ہی پاکستان دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں شامل ہوسکتا ہے۔
Load Next Story