سلیم ملک اور عامر کرپٹ پلیئرز کو جیل بھیجنے کے حامی
پی سی بی سینئر کرکٹرز پرمشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے جو نوجوان کرکٹرز کو اچھے برے کے بارے میں سمجھا سکے، محمد عامر
میں نے جو کیا وہ غلط تھا جس کا خمیازہ میں اب تک بھگت رہا ہوں۔ ، محمد عامر فوٹو : فائل
KARACHI:
فکسنگ میں ملوث قرار پانے والے پاکستان کے سابق کرکٹرز سلیم ملک اور عامر نے کرپٹ پلیئرز کو جیل بھیجنے کی حمایت کردی۔
تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ نے گذشتہ دنوں میچ فکسنگ کی روک تھام کیلیے سخت قانون پاس کیا جس کے تحت کرپٹ پلیئرز کو 7 برس تک کے لیے جیل بھیجا جا سکے گا۔خود اس برائی کی وجہ سے پابندی کی سزا کاٹنے والے سابق کپتان سلیم ملک اور فاسٹ بولر عامر بھی جیل کی سزاؤں کی حمایت کرتے ہیں۔سلیم ملک نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ نیوزی لینڈ نے قانون سازی کرکے ایک اچھا اقدام کیا، دیگرکرکٹ ممالک کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے، میں ان چیزوں کو اچھی طرح جانتا ہوں کیونکہ فکسنگ کی وجہ سے کافی متاثر ہوا، میرے خیال پاکستان کو بھی ایسا ہی قانون بنانا چاہیے تاکہ اگر کوئی اس قسم کی چیزوں میں ملوث ہو تو اسے فوری سزا مل جائے۔ انگلینڈ میں 2010 میں ملک کی نیک نامی کو داغ لگانے والے عامر کہتے ہیں کہ اس قسم کے قوانین کھلاڑیوں کو برے راستے پر چلنے سے روکیں گے۔
وہ کچھ بھی ایسا ویسا کرنے سے قبل دو بار سوچیں گے، میں نے جو کیا وہ غلط تھا جس کا خمیازہ میں اب تک بھگت رہا ہوں۔ عامر نے پی سی بی کو مشورہ دیا کہ وہ سینئر کرکٹرز پرمشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے جو ڈومیسٹک اور ٹاپ لیول پر کرکٹ کھیلنے والے نوجوانوں کو ان کے اچھے برے کے بارے میں سمجھا سکے۔ پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے کہاکہ یہ چیز آئی سی سی لیول پر پہلے ہی زیر غور لائی جا چکی ہے، انگلینڈ میں بھی کرپٹ پلیئرز کا ٹھکانہ جیل ہی ہے۔
فکسنگ میں ملوث قرار پانے والے پاکستان کے سابق کرکٹرز سلیم ملک اور عامر نے کرپٹ پلیئرز کو جیل بھیجنے کی حمایت کردی۔
تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ نے گذشتہ دنوں میچ فکسنگ کی روک تھام کیلیے سخت قانون پاس کیا جس کے تحت کرپٹ پلیئرز کو 7 برس تک کے لیے جیل بھیجا جا سکے گا۔خود اس برائی کی وجہ سے پابندی کی سزا کاٹنے والے سابق کپتان سلیم ملک اور فاسٹ بولر عامر بھی جیل کی سزاؤں کی حمایت کرتے ہیں۔سلیم ملک نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ نیوزی لینڈ نے قانون سازی کرکے ایک اچھا اقدام کیا، دیگرکرکٹ ممالک کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے، میں ان چیزوں کو اچھی طرح جانتا ہوں کیونکہ فکسنگ کی وجہ سے کافی متاثر ہوا، میرے خیال پاکستان کو بھی ایسا ہی قانون بنانا چاہیے تاکہ اگر کوئی اس قسم کی چیزوں میں ملوث ہو تو اسے فوری سزا مل جائے۔ انگلینڈ میں 2010 میں ملک کی نیک نامی کو داغ لگانے والے عامر کہتے ہیں کہ اس قسم کے قوانین کھلاڑیوں کو برے راستے پر چلنے سے روکیں گے۔
وہ کچھ بھی ایسا ویسا کرنے سے قبل دو بار سوچیں گے، میں نے جو کیا وہ غلط تھا جس کا خمیازہ میں اب تک بھگت رہا ہوں۔ عامر نے پی سی بی کو مشورہ دیا کہ وہ سینئر کرکٹرز پرمشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے جو ڈومیسٹک اور ٹاپ لیول پر کرکٹ کھیلنے والے نوجوانوں کو ان کے اچھے برے کے بارے میں سمجھا سکے۔ پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد نے کہاکہ یہ چیز آئی سی سی لیول پر پہلے ہی زیر غور لائی جا چکی ہے، انگلینڈ میں بھی کرپٹ پلیئرز کا ٹھکانہ جیل ہی ہے۔