کینال میں شگاف حب ڈیم سے 10کروڑ گیلن پانی کی فراہمی بند

مرمت میں 3دن لگیں گے

واپڈا حکام نے متاثرہ مقام کمزور ہونے کی نشاندہی پہلے ہی کردی تھی، مرمت میں 3دن لگیں گے. فوٹو: علی دراب، جمال خورشید/فائل

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی انتظامیہ کی غفلت ، لاپرواہی اور غیر سنجیدگی کے باعث کراچی کو فراہم کرنے والی حب ڈیم کی کینال میں شگاف پڑگیا ہے۔

واپڈا حکام کئی ماہ سے واٹربورڈ کو نشاندہی کررہے تھے کہ متاثرہ مقام کمزور ہورہا ہے فوری طور پر اس کی مرمت کی جائے مگر واٹربور کے بلک ڈپارٹمنٹ نے اس حوالے سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا جس کے باعث حب ڈیم کی کینال میں نہ صرف شگاف پڑگیا بلکہ کراچی کے شہریوں کو دس کروڑ گیلن پانی کی فراہمی رک گئی، تفصیلات کے مطابق حب ڈیم میں جمع ہونے والے پانی کو کراچی کے شہریوں تک پہنچانے کا راستہ فراہم کرنے والی حب ڈیم کی کینال میں شگاف پڑگیاجس کے باعث کراچی کو تین روز تک یومیہ دس کروڑ گیلن پانی کی فراہمی معطل رہے گی۔

پانی کی اس کمی سے سب سے زیادہ جو علاقے متاٖثر ہونگے ان میں اورنگی ٹاؤن ، بلدیہ ٹاؤن ، شیرشاہ ، نارتھ ناظم آباد ، منگھوپیر سمیت اطراف کے علاقے شامل ہیں واٹربورڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس شگاف کی مرمت میں تین دن لگیں گے جس کے بعد صورتحال معمول پر آجائے گی تاہم واٹربورڈ کی طرف سے تین دن کے لیے متاثرہ علاقوں میں متبادل انتظامات کا اعلان نہیں کیا گیا جس کے باعث ان علاقوں کے مکینوں کو بدترین صورتحال کا سامنا ہے جس پر واٹربورڈ کی بے حس انتظامیہ نے مکمل طور پر آنکھیں بند کرلی ہیں۔


باخبر ذرائع نے بتایا کہ اس صورتحال کی ذمے داری مکمل طور پر واٹربورڈ کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے، انتظامیہ کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے کیونکہ واپڈا کی طرف سے مسلسل واٹربورڈ کی انتظامیہ کواس بات کی نشاندہی کی جارہی تھی کہ جس مقام پر شگاف پڑا ہے وہ جگہ کمزور ہورہی ہے کسی بھی وقت یہ متاثر ہوسکتی ہے تاہم واٹربورڈ کی انتظامیہ نے اپنی آنکھوں کو مکمل طورپر بند رکھا خاص طور پر واٹربورڈ کے بلک ڈپارٹمنٹ نے واپڈا کی نشاندہی پر کان دھرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جس کا خمیازہ کراچی کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو پانی کی کمی کی صورت میں برداشت کرنا پڑے گا۔

واٹربورڈ نے اعلان کیا ہے اس شگاف کو دور کرنے میں تین دن لگیں گے زرائع کا کہنا ہے اس حوالے سے بھی واٹربورڈ سست روی کا مظاہرہ کررہا ہے کیونکہ ماضی میں پڑنے والے اس نوعیت کے شگاف زیادہ سے زیادہ 36گھنٹے میں دور کرلیے جاتے تھے، شگاف کو بھرنے کے لیے کوئی بہت مشکل انجینئرنگ درکار نہیں ہوتی بلکہ صرف شگاف کی جگہ پر مٹی بھری جاتی ہے،دریں اثنا شہری حکومت کی انتظامیہ کی نااہلی کے باعث ڈاکخانہ کے علاقے میں زیر تعمیر فلائی اوور کی پائلنگ کے دوران فراہمی آب کی لائن پھٹ گئی جس کے باعث نہ صرف پورا علاقہ زیرآب آگیا ہے بلکہ لیاقت آباد میں پانی کا بدترین بحران بھی پیدا ہوگیا ہے۔

واٹربورڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم نے شہری حکومت کی انتظامیہ کو علاقے کی مکمل ڈرائنگ فراہم کردیں تھیں جس میں اس بات کی مکمل وضاحت تھی کہ کس مقام کونسی لائن گزر رہی ہے تاہم اس کے باوجود شہری حکومت کی انتظامیہ نے فلائی اوور کے تعمیراتی کام میں غفلت کا مظاہرہ کیا پائلنگ کے عمل میں ڈرائنگ دیکھنے کی زحمت گوارہ نہیں کی جس کے باعث لیاقت آباد میں یہ بحرانی کیفیت پیدا ہوئی ہے جس کی تمام تر ذمے داری شہری حکومت کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے ۔
Load Next Story