پولیس اہلکار طفیل بچوں کو پڑھا لکھا مفید شہری بنانا چاہتا تھا

ہنگامی حالات کے پیش نظر اس کی ڈیوٹی نیٹی جیٹی پل پر لگائی گئی جہاں وہ فائرنگ سے جاں بحق ہوگیا

طفیل اعوان جمعہ کو گستاخانہ فلم کے خلاف مظاہروں کے دوران نیٹی جیٹی پل پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔ فوٹو: فائل

جمعہ کو نیٹی جیٹی پل پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق پولیس اہلکار طفیل اعوان اپنے بچوں کو پڑھا لکھا کر بڑا آدمی بنانے کا خواب پورا نہ کرسکا اور منوں مٹی تلے ابدی نیند سوگیا۔


مقتول کی رہائش گاہ پر سوگ کی فضا طاری ہے ، مقتول کا سوئم آج (پیر) ہوگا ، مقتول 4 بچوں کا باپ تھا ، تفصیلات کے مطابق جمعہ کو شہر میں پیش آنے والے پر تشدد واقعات میں جہاں کئی افراد ہلاک ہوئے، وہیں پولیس اہلکار 35 سالہ طفیل اعوان بھی شامل تھا ، مقتول نیٹی جیٹی پل پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوا ، مقتول کے رشتے دار اس کے ہم نام طفیل نے ایکسپریس کو بتایا کہ وہ گذشتہ 16 برس سے محکمہ پولیس میں ملازمت کررہا تھا اور اس وقت پولیس ٹریننگ سینٹر سعید آباد میں کورس پر گیا ہوا تھا۔

ہنگامی حالات کے پیش نظر اس کی ڈیوٹی نیٹی جیٹی پل پر لگائی گئی جہاں وہ فائرنگ سے جاں بحق ہوگیا ، مقتول 4 بچوں کا باپ تھا ، طفیل کا اپنے بچوں کو پڑھا لکھا کر بڑا آدمی اور معاشرے کے لیے مفید شخصیت بنانے کا خواب تھا جوکہ پورا نہ ہوسکا اور وہ اس سے قبل ہی منوں مٹی تلے ابدی نیند سوگیا ، مقتول کے رشتے دار نے مزید بتایا کہ اسے اپنے بچوں کو پڑھانے کا بہت شوق تھا اور اس کے بچے صدر میں واقع آرمی پبلک اسکول میں زیر تعلیم ہیں ، مقتول کے والد کو اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے۔
Load Next Story