اسرائیلی وزیراعظم کی حملے جاری رکھنے کی دھمکی
غزہ کی صورت حال پر یورپی ممالک کی بے حسی اور دوغلی پالیسیاں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔
غزہ کی صورت حال پر یورپی ممالک کی بے حسی اور دوغلی پالیسیاں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔ . فوٹو:فائل
ISLAMABAD:
اقوام عالم کے مذمتی بیانات اور مسلم ممالک کی روایتی ناراضگی اور غم و غصے کے اظہار کے باوجود غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بار پھر دھمکی دی کہ حماس کی سرنگوں کا نیٹ ورک تباہ ہونے کے بعد بھی اسرائیلی سیکیورٹی ضروریات کے مطابق غزہ پر بمباری اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رہے گا اور اپنے مغوی فوجی کو چھڑانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ انھوں نے حماس کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل پر حملے کرنے کی اسے ناقابل برداشت قیمت ادا کرنا ہوگی۔
اسرائیل کا ایک فوجی لیفٹیننٹ گولڈن لاپتہ ہے اس کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ اس کو حماس نے یرغمال بنا رکھا ہے جب کہ حماس کا کہنا ہے اسے اس لاپتہ اسرائیلی فوجی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ گولڈن غزہ میں لڑائی کے دوران ہلاک ہو گیا تھا۔ دوسری جانب امریکی صدر بارک اوباما نے بھی اسرائیل کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر حماس کشیدگی کو ختم کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہے تو وہ فوراً اسرائیلی فوجی کو غیر مشروط طور پر رہا کرے اگر حماس اپنے ذیلی گروہوں کو کنٹرول نہیں کر سکتی تو اسرائیل کے لیے اس بات کا یقین کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا کہ جنگ بندی قائم رہ سکتی ہے۔
غزہ کی صورت حال پر یورپی ممالک کی بے حسی اور دوغلی پالیسیاں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔ ایک جانب وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف روایتی مذمتی بیان بازی کر رہے ہیں دوسری جانب برطانوی اخبار دی انڈی پینڈنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیار برطانوی ساختہ ہیں۔ برطانوی حکومت نے 2010ء سے لے کر اب تک اسلحہ ساز کمپنیوں کو 7 کروڑ ڈالر مالیت کے ایکسپورٹ لائسنس فراہم کیے ہیں اور تاکید کی ہے کہ یہ اسلحہ تیار کر کے اسرائیل کو فروخت کریں۔ برطانوی اسلحہ سازوں کی طرف سے اسرائیل کو فروخت کیے جانے والا دوسرا اہم ترین بی اے ای سسٹم ہے جو امریکی فراہم کردہ ایف سولہ طیاروں کی کارروائی کو موثر بناتا ہے۔
برطانیہ کی ایک ڈیلی ویب سائٹ کے مطابق مزید کئی برطانوی اسلحہ ساز کمپنیوں نے اسرائیلی فوج کے علاوہ اسرائیلی اسلحہ سازوں کے ساتھ ڈیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس تناظر میں صورت حال کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ دنیا بھر میں غزہ پر جارحیت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا اسرائیل پر اثر کیوں نہیں ہو رہا اور وہ اپنی جارحیت میں روز بروز شدت کیوں لا رہا ہے، جب عالمی طاقتیں درپردہ اسرائیل کا ساتھ دیںگی اسے جدید ترین اسلحہ فراہم کریں گی تو ایسے میں اسرائیل کو ہلہ شیری نہیں ملے گی تو اور کیا ہو گا۔ صدر اوباما نے بھی اسرائیل کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
انھوں نے ساری صورت حال کا ذمے دار اور ملزم حماس کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی پر قائم تھا لیکن حماس نے جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوجیوں کو اغوا اور ہلاک کیا، انھوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک خود پر راکٹ حملے اور اپنی سرحد پر سرنگیں برداشت نہیں کر سکتا۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سے کیا گلہ کرنا مسلم ممالک بھی اس سلسلے میں کوئی موثر اور عملی کردار ادا نہیں کر رہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کچھ مسلم ممالک حماس کی مخالفت میں درپردہ اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں اور شاید ان کا خیال ہے کہ اسرائیلی حملوں سے حماس کی کمر ٹوٹ جائے گی۔
مسلم ممالک خود فکری انتشار اور داخلی طور پر عدم استحکام کا شکار ہیں۔ کئی مسلم ممالک میں اس وقت خانہ جنگی ہو رہی ہے۔ عراق میں ہونے والی خانہ جنگی نے اسے کھنڈر بنا دیا ہے، وہاں ابھرنے والی مسلح تنظیم داعش سرکاری فوجوں سے لڑ رہی اور ملکی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے علاوہ انبیا اور صحابہ کرام کے مزارات کو تباہ کر رہی ہے۔داعش نہ صرف عراق کی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئی ہے بلکہ اب سعودی عرب بھی اسے اپنی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ محسوس کر رہا ہے۔
برطانوی اخبار''دی ٹائمز'' کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کو دولت اسلامیہ(سابقہ داعش) کی جانب سے سرحد پار بڑے حملوں کا خطرہ ہے۔ ادھر لیبیا بھی خانہ جنگی کے باعث تباہ ہو چکا ہے، اس کے اہم شہر بن غازی میں حریف عسکری گروپوں کے درمیان بدترین لڑائی جاری ہے جس میں بہت سے افراد مارے گئے ہیں۔ لیبیا کے اسلامی عسکریت پسند گروپ انصار الشریعہ نے بن غازی شہر پر قبضے کے اعلان کے ساتھ ہی شہر میں اسلامی امارات کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ عراق اور لیبیا میں مذہب کے نام پر مسلح گروہ وجود میں آ گئے جو سرکاری فوجوں کے علاوہ اپنے مخالف گروہوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
اس طرح یہ دونوں ممالک مکمل طور پر خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں اور اس قابل نہیں رہے کہ کسی دوسرے کی مدد کر سکیں۔ یہی صورت حال شام کی بھی ہے۔ ان مسلح اسلامی تنظیموں کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ان کے اس عمل سے مسلم امہ کو فائدہ پہنچ رہا ہے یا نقصان' انھیں بگڑتی ہوئی صورت حال کا جائزہ لینا چاہیے کہ ان کے اس عمل سے مسلم دنیا فکری انتشار کا شکار ہو کر مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئی ہے ۔ اسی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل نے فلسطینیوں کا قتل عام شروع کر رکھا ہے۔ مسلم ممالک اور مسلم تنظیموں نے حالات کی نزاکت کو نہ سمجھا تو آنے والے دنوں میں معاملات مزید بگڑ سکتے ہیں جس کا خمیازہ خود انھیں بھی بھگتنا پڑے گا۔
اقوام عالم کے مذمتی بیانات اور مسلم ممالک کی روایتی ناراضگی اور غم و غصے کے اظہار کے باوجود غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بار پھر دھمکی دی کہ حماس کی سرنگوں کا نیٹ ورک تباہ ہونے کے بعد بھی اسرائیلی سیکیورٹی ضروریات کے مطابق غزہ پر بمباری اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رہے گا اور اپنے مغوی فوجی کو چھڑانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ انھوں نے حماس کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل پر حملے کرنے کی اسے ناقابل برداشت قیمت ادا کرنا ہوگی۔
اسرائیل کا ایک فوجی لیفٹیننٹ گولڈن لاپتہ ہے اس کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ اس کو حماس نے یرغمال بنا رکھا ہے جب کہ حماس کا کہنا ہے اسے اس لاپتہ اسرائیلی فوجی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ گولڈن غزہ میں لڑائی کے دوران ہلاک ہو گیا تھا۔ دوسری جانب امریکی صدر بارک اوباما نے بھی اسرائیل کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر حماس کشیدگی کو ختم کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہے تو وہ فوراً اسرائیلی فوجی کو غیر مشروط طور پر رہا کرے اگر حماس اپنے ذیلی گروہوں کو کنٹرول نہیں کر سکتی تو اسرائیل کے لیے اس بات کا یقین کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا کہ جنگ بندی قائم رہ سکتی ہے۔
غزہ کی صورت حال پر یورپی ممالک کی بے حسی اور دوغلی پالیسیاں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔ ایک جانب وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف روایتی مذمتی بیان بازی کر رہے ہیں دوسری جانب برطانوی اخبار دی انڈی پینڈنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیار برطانوی ساختہ ہیں۔ برطانوی حکومت نے 2010ء سے لے کر اب تک اسلحہ ساز کمپنیوں کو 7 کروڑ ڈالر مالیت کے ایکسپورٹ لائسنس فراہم کیے ہیں اور تاکید کی ہے کہ یہ اسلحہ تیار کر کے اسرائیل کو فروخت کریں۔ برطانوی اسلحہ سازوں کی طرف سے اسرائیل کو فروخت کیے جانے والا دوسرا اہم ترین بی اے ای سسٹم ہے جو امریکی فراہم کردہ ایف سولہ طیاروں کی کارروائی کو موثر بناتا ہے۔
برطانیہ کی ایک ڈیلی ویب سائٹ کے مطابق مزید کئی برطانوی اسلحہ ساز کمپنیوں نے اسرائیلی فوج کے علاوہ اسرائیلی اسلحہ سازوں کے ساتھ ڈیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس تناظر میں صورت حال کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ دنیا بھر میں غزہ پر جارحیت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا اسرائیل پر اثر کیوں نہیں ہو رہا اور وہ اپنی جارحیت میں روز بروز شدت کیوں لا رہا ہے، جب عالمی طاقتیں درپردہ اسرائیل کا ساتھ دیںگی اسے جدید ترین اسلحہ فراہم کریں گی تو ایسے میں اسرائیل کو ہلہ شیری نہیں ملے گی تو اور کیا ہو گا۔ صدر اوباما نے بھی اسرائیل کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
انھوں نے ساری صورت حال کا ذمے دار اور ملزم حماس کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی پر قائم تھا لیکن حماس نے جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوجیوں کو اغوا اور ہلاک کیا، انھوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک خود پر راکٹ حملے اور اپنی سرحد پر سرنگیں برداشت نہیں کر سکتا۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سے کیا گلہ کرنا مسلم ممالک بھی اس سلسلے میں کوئی موثر اور عملی کردار ادا نہیں کر رہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کچھ مسلم ممالک حماس کی مخالفت میں درپردہ اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں اور شاید ان کا خیال ہے کہ اسرائیلی حملوں سے حماس کی کمر ٹوٹ جائے گی۔
مسلم ممالک خود فکری انتشار اور داخلی طور پر عدم استحکام کا شکار ہیں۔ کئی مسلم ممالک میں اس وقت خانہ جنگی ہو رہی ہے۔ عراق میں ہونے والی خانہ جنگی نے اسے کھنڈر بنا دیا ہے، وہاں ابھرنے والی مسلح تنظیم داعش سرکاری فوجوں سے لڑ رہی اور ملکی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے علاوہ انبیا اور صحابہ کرام کے مزارات کو تباہ کر رہی ہے۔داعش نہ صرف عراق کی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئی ہے بلکہ اب سعودی عرب بھی اسے اپنی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ محسوس کر رہا ہے۔
برطانوی اخبار''دی ٹائمز'' کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کو دولت اسلامیہ(سابقہ داعش) کی جانب سے سرحد پار بڑے حملوں کا خطرہ ہے۔ ادھر لیبیا بھی خانہ جنگی کے باعث تباہ ہو چکا ہے، اس کے اہم شہر بن غازی میں حریف عسکری گروپوں کے درمیان بدترین لڑائی جاری ہے جس میں بہت سے افراد مارے گئے ہیں۔ لیبیا کے اسلامی عسکریت پسند گروپ انصار الشریعہ نے بن غازی شہر پر قبضے کے اعلان کے ساتھ ہی شہر میں اسلامی امارات کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ عراق اور لیبیا میں مذہب کے نام پر مسلح گروہ وجود میں آ گئے جو سرکاری فوجوں کے علاوہ اپنے مخالف گروہوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
اس طرح یہ دونوں ممالک مکمل طور پر خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں اور اس قابل نہیں رہے کہ کسی دوسرے کی مدد کر سکیں۔ یہی صورت حال شام کی بھی ہے۔ ان مسلح اسلامی تنظیموں کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ان کے اس عمل سے مسلم امہ کو فائدہ پہنچ رہا ہے یا نقصان' انھیں بگڑتی ہوئی صورت حال کا جائزہ لینا چاہیے کہ ان کے اس عمل سے مسلم دنیا فکری انتشار کا شکار ہو کر مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئی ہے ۔ اسی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل نے فلسطینیوں کا قتل عام شروع کر رکھا ہے۔ مسلم ممالک اور مسلم تنظیموں نے حالات کی نزاکت کو نہ سمجھا تو آنے والے دنوں میں معاملات مزید بگڑ سکتے ہیں جس کا خمیازہ خود انھیں بھی بھگتنا پڑے گا۔