ملکی معیشت کے اشاریے

پاکستان کی جی ڈی پی میں صنعتی شعبے کا حصہ 20 فیصد سے زائد ہے اور ملک کی سالانہ برآمدات کا حجم 26 ارب ڈالر بنتا ہے

درپیش چیلنجز میں توانائی کے بحران اور دہشت گردی نے ملک کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ فوٹو: فائل

ملکی اقتصادیات میں درپیش چیلنجز کے وسیع تر تناظر میں حکومت عوامی خوشحالی کے لیے بہت سے اقدامات کر رہی ہے مگر ابھی تک ان اقدامات کے ثمرات عوام کی دہلیز پر نہیں پہنچے اور معاشی انقلاب لانے کے لیے جو دعوے کیے جا رہے تھے وہ ابھی تک حقیقت کا روپ نہیں دھار سکے۔ درپیش چیلنجز میں توانائی کے بحران اور دہشت گردی نے ملک کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے سبب گزشتہ تین سال کے دوران معیشت کو ساڑھے اٹھائیس ارب ڈالر کے لگ بھگ نقصان اٹھانا پڑا۔ جس کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے' صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں ماند پڑنے سے ٹیکس وصولیاں بھی بری طرح متاثر ہوئیں اورایکسپورٹ کی مد میں عالمی مارکیٹ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا جس سے حکومت پر معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا۔ اطلاعات کے مطابق رواں مالی سال ٹیکس وصولیوں کے لیے 2.81 ٹریلین کا ہدف مقرر کیا گیا ہے مگر عید کے موقع پر 5 روز کی تعطیلات کے دوران پیداواری سرگرمیاں اور بیرونی تجارت معطل رہنے سے 35 ارب سے زائد ٹیکس وصولیاں متاثر ہوئیں۔

پاکستان کی جی ڈی پی میں صنعتی شعبے کا حصہ 20 فیصد سے زائد ہے اور ملک کی سالانہ برآمدات کا حجم 26 ارب ڈالر بنتا ہے اس طرح ایک روز کا برآمدی حجم 7 کروڑ ڈالر سے زائد ہے لہٰذا ایک ہفتے تک صنعتوں میں پیداواری سرگرمیاں معطل رہنے سے معیشت کو محض برآمدات کی مد میں 35 ارب روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا جس سے جی ڈی پی کی افزائش پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ ایک جانب جہاں ٹیکس وصولیاں متاثرہوں وہیں اندرون ملک عید پر بڑے پیمانے پر ہونے والی خریداری سے معاشی سرگرمیوں کو بھی مہمیز ملی۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کے مطابق عید پر 8 سو ارب روپے کی خریداری کی گئی' ایک ارب کے کیک اور مٹھائیاں فروخت ہوئیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی معاشی حالت اور قوت خرید بہتر ہوئی ہے اور ملک ترقی کی جانب بڑھا ہے۔یہ حقیقت مدنظر رہنا چاہیے کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اس کی معیشت اتنی زیادہ تعطیلات کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتی۔ حکومت کو تعطیلات کی تعداد کم کرنے پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ جتنی زیادہ تعطیلات ہوتی ہیں ملک کی مجموعی معیشت کو اتنا ہی زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ دوسری جانب سیاسی سطح پر بحرانی کیفیت بھی ملکی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے۔


جلسے، جلوسوں، ہنگاموں، ہڑتالوں اور کسی قسم کی سیاسی محاذ آرائی سے صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں ماند پڑنے سے ملکی ترقی رک جاتی ہے۔ اس وقت ملک میں حکومت مخالف رونما ہونے والی سیاسی ہلچل کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں جس کی ایک واضح علامت اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان ہے۔ اگر سیاسی ہلچل میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس سے جنم لینے والی بے یقینی کی کیفیت کے منفی اثرات صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی پڑیں گے۔ملک توانائی کے شدید بحران اور دہشت گردی کے خطرے سے دوچار ہے ایسی صورت میں ملک کسی نئے سیاسی خلفشار اور افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ملکی معیشت بہتر بنانے کے لیے حکومتی کارکردگی تسلی بخش ہے، اس نے توانائی بحران ختم کرنے کے لیے بہت سے منصوبے شروع کر رکھے ہیں، گوجرانوالہ میں نندی پور بجلی گھر نے 95 میگاواٹ بجلی کی پیداوار شروع کردی ہے جب کہ ساہیوال میں کوئلے سے چلنے والے 1320 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے دو منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا جا چکا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ نندی پور پاور پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد اگلے چند سال میں قومی گرڈ میں 21 سو میگاواٹ بجلی شامل ہو جائے گی۔

گڈانی میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے 10 منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں جب کہ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے دس منصوبے تھر سندھ اور 6 پنجاب میں بھی لگائے جائیں گے۔ وزیراعظم بارہا اپنے بیانات میں اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ ملک کو دبئی' سنگا پور اور ہانگ کانگ کی طرز پر ترقی دینا چاہتے ہیں۔ حکومت چین کے تعاون سے بہت سے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ پاکستان چین اقتصادی راہداری دونوں ملکوں کے لیے معاشی تبدیلی کی نوید ثابت ہوگی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کا معاشی نظام اس وقت شدید دبائو کا شکار ہے، حکومت کو ہر سال بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے مختص کرنا پڑتا ہے۔ نئے مالی سال کے بجٹ میں اس مقصد کے لیے 12 کھرب 80ارب روپے رکھے جانے کی تجویز دی گئی تھی۔ اگر یہ خطیر رقم ملکی ترقی پر خرچ کی جائے تو اس سے معاشی خوشحالی کے نئے در وا ہوسکتے ہیں۔ معاشی ماہرین اس بات پر معترض ہیں کہ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضے لے کر قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ کیا ہے جس سے خزانے پر مالی دباؤ بڑھا ہے۔

حکومت کو غیر ملکی اداروں سے قرضے لینے کے بجائے ملکی وسائل کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لا کر اس مسئلے کو حل کرنے پر توجہ دینا چاہیے۔ کوئی حکومت عوام اور سیاسی جماعتوں کے تعاون کے بغیر تنہا ملک کو ترقی نہیں دے سکتی۔ ہمارے ہاں ٹیکس چوری کا رواج عام ہو چکا ہے۔ عوام کا بھی فرض ہے کہ وہ ایمانداری سے ٹیکس ادا کریں۔ اگر ٹیکس سسٹم ہی بہتر بنا دیا جائے تو حکومت کی آمدن میں اربوں روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے جس پر اسے ملکی اور غیر ملکی اداروں سے قرضے لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
Load Next Story