بلدیاتی انتخابات سے فرار کب تک

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کرائے جائیں

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کرائے جائیں تاکہ عوامی مسائل جلد ہوسکیں کیونکہ مقامی حکومتوں کے بغیر لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے پریشان ہیں اور ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی مقامی حکومت سے محروم چلا آرہا ہے۔

قبل ازیں الیکشن کمیشن کے حوالے سے آیندہ جنوری میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے اخبارات میں خبریں شایع ہوئیں جن کی اگلے روز ہی الیکشن کمیشن نے تردید کردی اور واضح کیا کہ حلقہ بندیاں صوبائی حکومتوں کی ذمے داری ہے جس کے بعد ہی انتخابات ممکن ہوں گے۔ سپریم کورٹ نے کئی ماہ قبل سندھ و پنجاب حکومتوں کی متنازعہ حلقہ بندیاں منسوخ کرکے الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں کی ہدایت کی تھی جس پر الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں قانون سازی کے بغیر الیکشن کمیشن حلقہ بندی نہیں کراسکتا۔

آئینی ترمیم کے بعد بلدیاتی انتخابات کرانا وفاقی حکومت کا نہیں صوبائی حکومتوں کا کام ہے اور صوبائی حکومتوں نے گزشتہ چھ سالوں سے بلدیاتی انتخابات سے فرار کی راہ اختیار کر رکھی ہے اور سندھ، بلوچستان اور کے پی کے کی حکومتیں اپنے صوبوں میں اور وفاقی حکومت کنٹونمنٹس بورڈز کے انتخابات کرانے کو قطعی تیار نہیں ہیں۔

سپریم کورٹ میں جب تک افتخار محمد چوہدری چیف جسٹس تھے تو انھوں نے متعدد بار صوبائی حکومتوں کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا کہا مگر بلوچستان حکومت کے سوا کسی نے بھی بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے۔ گزشتہ سال نومبر میں بلوچستان حکومت نے بلدیاتی انتخابات کرا دیے تھے جس کے بعد مخصوص بلدیاتی نشستوں کے بھی انتخابات ہوئے مگر 9 ماہ گزر جانے کے باوجود بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کا انتخاب نہیں کرایا جا رہا اور بلدیاتی انتخابات کرانا بے مقصد ہوچکا ہے اور بلوچستان حکومت بھی اس سلسلے میں مخلص نظر نہیں آرہی۔

تحریک انصاف نے بھی اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا ہے۔ اس نے کے پی کے میں تین ماہ میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا تھا مگر ان کے 3 ماہ تیرہ ماہ میں بھی نہیں آئے اور پی ٹی آئی کی حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے اور وہ بھی سندھ اور پنجاب حکومتوں کی طرح بلدیاتی انتخابات کرانا ہی نہیں چاہتی۔

سپریم کورٹ متعدد بارکہہ چکی ہے کہ بلدیاتی انتخابات نہ کرانا غیر آئینی ہے جس پر صوبائی حکومتوں کے خلاف آئین کی خلاف ورزی کی کارروائی ہوسکتی ہے مگر صوبائی حکومتوں نے ثابت کردیا ہے کہ انھیں آئین اور سپریم کورٹ کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ صوبائی حکومتوں کو سپریم کورٹ کی طاقت کا بھی علم ہے جو وفاقی حکومت کو ختم اور بحال بھی کرسکتی ہے مگر سندھ، پنجاب اور کے پی کے کی جمہوری حکومتوں نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیا اور صوبائی حکومتوں کو ڈھیل پر ڈھیل مل رہی ہے تاکہ صوبائی حکومتیں نہ کہہ سکیں کہ عدلیہ انھیں کام نہیں کرنے دے رہی۔


صوبائی حکومتیں عدلیہ سے متعلق کہتی رہی ہیں کہ ان کی پولیس جب ملزموں کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرتی ہے تو عدلیہ اہم ملزموں کو ضمانت پر رہا کردیتی ہیں۔ صوبائی حکومتیں یہ نہیں دیکھ رہیں کہ وہ 6 سالوں سے بلدیاتی انتخابات نہ کروا کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اور عدالت انھیں مسلسل مہلت پہ مہلت دے رہی ہیں اور صوبائی حکومتیں اس کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

گزشتہ سال پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے امیدواروں سے کاغذات نامزدگی ایک نہیں دو بار وصول کرکے امیدواروں سے اربوں روپے وصول کرلیے گئے مگر دونوں بار انتخابات ملتوی کردیے گئے اور امیدواروں کی زرضمانت کی رقم بھی واپس نہیں کی جا رہی۔

بلدیاتی انتخابات کا مسئلہ زیر سماعت ہے اور عوام کو یقین ہے کہ نچلی سطح پر عوام کی نمایندگی کا آئینی حق صوبائی حکومتوں سے عدالت عظمیٰ ہی دلا سکتی ہے جو صوبائی حکومتیں غصب کیے بیٹھی ہیں۔

نام نہاد جمہوریت کی دعویدار صوبائی حکومتیں عوام کو ان کا جمہوری حق دینے کو تیار نہیں جب کہ تین فوجی حکومتوں نے عوام کو ان کا یہ حق ایک نہیں چھ سات بار دیا اور ایک فوجی صدر جنرل پرویز نے تو نچلی سطح پر بلدیاتی نمایندوں کو سب سے زیادہ اختیارات دینے کا ریکارڈ قائم کیا تھا اور بیوروکریسی کو ان کے ماتحت کردکھایا تھا۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ جمہوری حکومت کے دعویداروں میں حکومت چلانے کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی اور وہ بیوروکریسی کے محتاج ہوتے ہیں اور ان کے اشاروں پر چلتے ہیں جب کہ آمر بیوروکریسی کو اپنے اشاروں پر چلاتے ہیں۔

سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے جان بوجھ کر بلدیاتی حلقوں کی متنازعہ حلقہ بندیاں کرائی تھیں جنھیں ہائی کورٹوں میں چیلنج ہونا تھا وہ ہوئیں اور غیر قانونی قرار پائیں۔سندھ اور پنجاب کی حکومتیں کسی بھی طرح بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتیں اسی لیے اب ایسے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں کہ کوئی بھی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے اور اب ان پر آئین پر عمل کرنے کا الزام بھی نہ لگ سکے۔

پانچ ماہ قبل سپریم کورٹ نے سندھ پنجاب کی حکومتوں کو 18 اگست تک بلدیاتی حلقہ بندیاں کرانے کی ہدایت کی تھی جس پر دونوں حکومتیں سوتی رہیں اور اب جولائی کے آخر میں انھیں ہوش آیا اور انھوں نے گیند وفاقی حکومت کے کورٹ میں ڈال دی کہ وہ پارلیمنٹ سے مجوزہ حلقہ بندیوں کے لیے قانون منظور کرائے کہ حلقہ بندیاں اب صوبوں کی بجائے الیکشن کمیشن کرے گا۔ وفاقی حکومت بھی صوبوں سے کم نہیں ہے اس نے کنٹونمنٹس بورڈز کے انتخابات کے لیے قانون سازی نہیں کی تو وہ سندھ اور پنجاب حکومتوں کے کہنے پر عمل کیوں کرے گی؟ سندھ، پنجاب، کے پی کے اور وفاق کی حکومتیں بلدیاتی انتخابات سے خوفزدہ ہیں اسی لیے راہ فرار اختیار کیے ہوئے ہیں اور چال چل رہی ہیں تاکہ بلدیاتی اداروں کے فنڈ خود خرچ کرکے من مانیاں جاری رکھ سکیں۔
Load Next Story