چربہ ساز ریونیو کو نقصان پہنچا رہے ہیں حمیداللہ جان آفریدی
مستند برانڈز کی نقول تیار کر کے صارفین کو دھوکا دینے والے عناصر سے قطعی رعایت نہ کی جائے
چیئرمین ادارہ حقوق ملکیت دانش (آئی پی او) حمیداللہ جان آفریدی نے کہاہے کہانھوںنے کہا کہ پاکستان میںآئی پی رائٹس کی خلاف ورزی روکنے کے لیے قوانین کی پاسداری کو یقینی بناناہوگا. فوٹو: فائل
چیئرمین ادارہ حقوق ملکیت دانش (آئی پی او) حمیداللہ جان آفریدی نے کہاہے کہ پاکستان میںحقوق ملکیت دانش کی خلاف ورزی روکنے کے لیے قوانین کی پاسداری کویقینی بنانا ہو گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ججز صاحبان اورپبلک پراسیکیوٹرزپرمشتمل 20رکنی وفدآج پاکستان سے سنگاپور کے لیے روانہ ہوگا۔انھوںنے کہا کہ پاکستان میںآئی پی رائٹس کی خلاف ورزی روکنے کے لیے قوانین کی پاسداری کو یقینی بناناہوگااس ضمن میں پہلی مرتبہ ملک بھرسے منتخب ڈسٹرکٹ اینڈسیشن ججز اور پبلک پراسیکیوٹرز کے لیے یورپی یونین اور ورلڈ انٹیلکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کے تعاون سے خصوصی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ہے جو 26 تا 27 ستمبر سنگاپور میں ہو گی۔
انھوں نے کہاکہ پاکستان میں چربہ سازی روکنے کے لیے ضروری ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قرار واقعی سزائیں دی جائیںاوران عناصر سے کوئی رعایت نہ کی جائے جو اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ملکی ساکھ کو نقصان پہنچارہے ہیںاورمستند برانڈزکی نقول تیار کر کے صارفین کے اعتماد کودھوکادینے کے ساتھ ساتھ قومی ریونیو میں خسارے کا باعث بن رہے ہیں۔ حمید اللہ جان آفریدی نے کہاکہ سنگا پور میں ہونے والی دوروزہ کانفرنس پاکستان میں آئی پی سیکٹر کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہو گی، ماہرین قانون ورکشاپ میں اہم موضوعات پر اظہار خیال کریں گے اوراہم قانونی پہلوئوںکو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ججز صاحبان اورپبلک پراسیکیوٹرزپرمشتمل 20رکنی وفدآج پاکستان سے سنگاپور کے لیے روانہ ہوگا۔انھوںنے کہا کہ پاکستان میںآئی پی رائٹس کی خلاف ورزی روکنے کے لیے قوانین کی پاسداری کو یقینی بناناہوگااس ضمن میں پہلی مرتبہ ملک بھرسے منتخب ڈسٹرکٹ اینڈسیشن ججز اور پبلک پراسیکیوٹرز کے لیے یورپی یونین اور ورلڈ انٹیلکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کے تعاون سے خصوصی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا ہے جو 26 تا 27 ستمبر سنگاپور میں ہو گی۔
انھوں نے کہاکہ پاکستان میں چربہ سازی روکنے کے لیے ضروری ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قرار واقعی سزائیں دی جائیںاوران عناصر سے کوئی رعایت نہ کی جائے جو اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ملکی ساکھ کو نقصان پہنچارہے ہیںاورمستند برانڈزکی نقول تیار کر کے صارفین کے اعتماد کودھوکادینے کے ساتھ ساتھ قومی ریونیو میں خسارے کا باعث بن رہے ہیں۔ حمید اللہ جان آفریدی نے کہاکہ سنگا پور میں ہونے والی دوروزہ کانفرنس پاکستان میں آئی پی سیکٹر کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہو گی، ماہرین قانون ورکشاپ میں اہم موضوعات پر اظہار خیال کریں گے اوراہم قانونی پہلوئوںکو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔