محتاط خریداری سرگرمیوں کے باعث روئی کی قیمتوں میں کمی
روئی کی قیمتیں بڑھنے یا کم ہونے کے بجائے مستحکم رہیں
مقامی کاٹن مارکیٹ میں ہفتہ وارکاروبارکے دوران ٹیکسٹائل واسپننگ ملوں کی جانب سے خریداری سرگرمیاں انتہائی محتاط رہیں. فوٹو: فائل
لاہور:
پاکستان سمیت دنیابھرکی کاٹن مارکیٹس میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی تجارتی سرگرمیوںکمی کے باعث قیمتوں میںبھی کمی کارحجان غالب رہا۔
مقامی کاٹن مارکیٹ میں ہفتہ وارکاروبارکے دوران ٹیکسٹائل واسپننگ ملوں کی جانب سے خریداری سرگرمیاں انتہائی محتاط رہیں، گزشتہ ہفتے اگرچہ پھٹی کی رسد میں نسبتاً اضافہ ہوالیکن مطلوبہ معیار نہ ہونے کی وجہ سے روئی کی قیمتیں بڑھنے یا کم ہونے کے بجائے مستحکم رہیں،پاکستان کاٹن جنرز ایسو سی ایشن کے ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے '' ایکسپریس'' کو بتایاکہ گزشتہ ہفتے کے دوران بارشیں رکنے کی وجہ سے پھٹی کی آمد میںممکنہ اضافے کے باعث توقع ہے کہ رواں ہفتے پاکستان بھرمیں روئی کی تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق آنے سے قیمتوںمیںبھی بتدریج اضافہ متوقع ہے۔
بھارتی حکام کی جانب سے روئی کی برآمدات ایک بار پھر بند کرنے کی اطلاعات اوربھارت میںمون سون کی بارشیںتوقعات سے کم ہونے کی وجہ سے گزشتہ ہفتے بھارت میںبھی روئی کی قیمتوں میں غیرمعمولی مندی دیکھی گئی،احسان الحق نے بتایاکہ بھارتی کاٹن مارکیٹس میںروئی کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھائو کے اثرات پاکستان میںبھی مرتب ہوسکتے ہیںجس سے روئی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان بھی سامنے آسکتاہے،ذرائع کے مطابق بھارتی روئی برآمدکنندگان جو کچھ عرصہ قبل تک شنکر اور جے 34 نامی روئی کی اقسام 90سینٹ فی پائونڈ تک برآمد کر رہے تھے وہ اب پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کو 85-86 سینٹ فی پائونڈتک روئی فروخت کرنے کی پیشکشیں دے رہے ہیں۔
احسان الحق نے بتایا کہ چینی حکام نے کچھ عرصہ قبل اپنے اسٹریٹجیک ریزروزسے 45لاکھ روئی کی بیلزفروخت کرنے کا فیصلہ کیاتھاتاہم ناگزیر وجوہات کی بناپرچینی حکام نے ملکی ٹیکسٹائل ملزسے کہا ہے کہ وہ اسٹریٹجیک ریزروز سے زیادہ سے زیادہ 30ستمبر تک موجودہ شرائط کے تحت روئی کی خریداری کرسکتے ہیں۔ معلوم ہواہے کہ چینی حکام 30 ستمبر کے بعد نئی شرائط کے تحت اسٹریٹجیک ریزروز سے روئی کی فروخت کے حوالے سے اپنی پالیسی کااعلان کریں گے۔
بین الاقوامی منڈیوں میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوں میں اتار چڑھائو سے متعلق انھوںنے بتایاکہ نیویارک کاٹن ایکس چینج نے گزشتہ ہفتے کے دوران حاضرروئی کے سودے 1.05 سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 84.10 سینٹ فی پائونڈ، اکتوبر ڈلیوری روئی کے سودے 3.39 سینٹ فی پائونڈ کمی کے بعد 72سینٹ فی پائونڈ،چائنہ میں نومبر ڈلیوری روئی کے سودے 150فی یوآن فی ٹن اضافے کے ساتھ 19 ہزار 250یوآن فی ٹن جبکہ بھارت میں روئی کی قیمتیں گزشتہ ہفتے کے دوران ریکارڈ ایک ہزار 362 روپے فی کینڈی کمی کے بعد 34 ہزار 688روپے فی کینڈی تک گر گئیں۔
جبکہ کاٹن ایسوسی ایشن روئی کے اسپاٹ ریٹ بغیر تیزی مندی کے 5 ہزار 600 روپے فی من تک مستحکم رہے۔ انھوں نے بتایاکہ کچھ عرصہ قبل ہونے والی بارشوںسے پاکستان بھرکے کاٹن زونز میں کپاس کی فصل کافی حدتک متاثرہوئی لیکن سب سے زیادہ نقصان ضلع رحیم یارخان کی تحصیل خانپور اور سندھ کے ضلع بدین میں ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان شہروں میں کپاس کی فصل 30 سے 35 فیصد تک متاثر ہوئی ہے اورکپاس کی فصل میںتاحال پانی کھڑا رہنے سے ان شہروں میںکپاس کی فصل مزید خراب ہونے کااندیشہ ہے۔
پاکستان سمیت دنیابھرکی کاٹن مارکیٹس میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی تجارتی سرگرمیوںکمی کے باعث قیمتوں میںبھی کمی کارحجان غالب رہا۔
مقامی کاٹن مارکیٹ میں ہفتہ وارکاروبارکے دوران ٹیکسٹائل واسپننگ ملوں کی جانب سے خریداری سرگرمیاں انتہائی محتاط رہیں، گزشتہ ہفتے اگرچہ پھٹی کی رسد میں نسبتاً اضافہ ہوالیکن مطلوبہ معیار نہ ہونے کی وجہ سے روئی کی قیمتیں بڑھنے یا کم ہونے کے بجائے مستحکم رہیں،پاکستان کاٹن جنرز ایسو سی ایشن کے ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے '' ایکسپریس'' کو بتایاکہ گزشتہ ہفتے کے دوران بارشیں رکنے کی وجہ سے پھٹی کی آمد میںممکنہ اضافے کے باعث توقع ہے کہ رواں ہفتے پاکستان بھرمیں روئی کی تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق آنے سے قیمتوںمیںبھی بتدریج اضافہ متوقع ہے۔
بھارتی حکام کی جانب سے روئی کی برآمدات ایک بار پھر بند کرنے کی اطلاعات اوربھارت میںمون سون کی بارشیںتوقعات سے کم ہونے کی وجہ سے گزشتہ ہفتے بھارت میںبھی روئی کی قیمتوں میں غیرمعمولی مندی دیکھی گئی،احسان الحق نے بتایاکہ بھارتی کاٹن مارکیٹس میںروئی کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھائو کے اثرات پاکستان میںبھی مرتب ہوسکتے ہیںجس سے روئی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان بھی سامنے آسکتاہے،ذرائع کے مطابق بھارتی روئی برآمدکنندگان جو کچھ عرصہ قبل تک شنکر اور جے 34 نامی روئی کی اقسام 90سینٹ فی پائونڈ تک برآمد کر رہے تھے وہ اب پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کو 85-86 سینٹ فی پائونڈتک روئی فروخت کرنے کی پیشکشیں دے رہے ہیں۔
احسان الحق نے بتایا کہ چینی حکام نے کچھ عرصہ قبل اپنے اسٹریٹجیک ریزروزسے 45لاکھ روئی کی بیلزفروخت کرنے کا فیصلہ کیاتھاتاہم ناگزیر وجوہات کی بناپرچینی حکام نے ملکی ٹیکسٹائل ملزسے کہا ہے کہ وہ اسٹریٹجیک ریزروز سے زیادہ سے زیادہ 30ستمبر تک موجودہ شرائط کے تحت روئی کی خریداری کرسکتے ہیں۔ معلوم ہواہے کہ چینی حکام 30 ستمبر کے بعد نئی شرائط کے تحت اسٹریٹجیک ریزروز سے روئی کی فروخت کے حوالے سے اپنی پالیسی کااعلان کریں گے۔
بین الاقوامی منڈیوں میں گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوں میں اتار چڑھائو سے متعلق انھوںنے بتایاکہ نیویارک کاٹن ایکس چینج نے گزشتہ ہفتے کے دوران حاضرروئی کے سودے 1.05 سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 84.10 سینٹ فی پائونڈ، اکتوبر ڈلیوری روئی کے سودے 3.39 سینٹ فی پائونڈ کمی کے بعد 72سینٹ فی پائونڈ،چائنہ میں نومبر ڈلیوری روئی کے سودے 150فی یوآن فی ٹن اضافے کے ساتھ 19 ہزار 250یوآن فی ٹن جبکہ بھارت میں روئی کی قیمتیں گزشتہ ہفتے کے دوران ریکارڈ ایک ہزار 362 روپے فی کینڈی کمی کے بعد 34 ہزار 688روپے فی کینڈی تک گر گئیں۔
جبکہ کاٹن ایسوسی ایشن روئی کے اسپاٹ ریٹ بغیر تیزی مندی کے 5 ہزار 600 روپے فی من تک مستحکم رہے۔ انھوں نے بتایاکہ کچھ عرصہ قبل ہونے والی بارشوںسے پاکستان بھرکے کاٹن زونز میں کپاس کی فصل کافی حدتک متاثرہوئی لیکن سب سے زیادہ نقصان ضلع رحیم یارخان کی تحصیل خانپور اور سندھ کے ضلع بدین میں ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان شہروں میں کپاس کی فصل 30 سے 35 فیصد تک متاثر ہوئی ہے اورکپاس کی فصل میںتاحال پانی کھڑا رہنے سے ان شہروں میںکپاس کی فصل مزید خراب ہونے کااندیشہ ہے۔