غزہ لہو لہان عالمی ضمیرچپ
اسرائیلی دہشت گردی کیخلاف مسلم ممالک میں رائے عامہ بیدار کرنے کی جتنی آج ضرورت ہے اس سے کسی ذی فہم کو انکار نہیں ۔۔۔
اسرائیلی دہشت گردی کیخلاف مسلم ممالک میں رائے عامہ بیدار کرنے کی جتنی آج ضرورت ہے اس سے کسی ذی فہم کو انکار نہیں. فوٹو؛ اے ایف پی
ISLAMABAD:
صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ فلسطین سمیت دنیا میں رونما ہونیوالے واقعات سے مسلم دنیا میں بے چینی کی لہر ہے، او آئی سی مسئلہ کشمیر اور فلسطین کا تنازع حل کرنے میں کردار ادا کرے۔ صدر سے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل ایاد امین عبداللہ مدنی نے یہاں ملاقات کی ۔ ایاد امین نے کہا کہ او آئی سی ممالک کی سائنس کانفرنس جلد پاکستان میں ہوگی ۔ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے بھی ملاقات کی۔
اسرائیلی دہشت گردی اور بربریت کے خلاف مسلم ممالک میں رائے عامہ کو بیدار کرنے کی جتنی آج ضرورت ہے اس سے کسی ذی فہم کو انکار نہیں ہوسکتا، اسرائیل نے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑائی ہیں اور فلسطینیوں کی نسل کشی اور انسانیت سوز جرائم کا مرتکب ہوا ہے ۔ اس لیے ملت اسلامیہ اپنے صحیح فورمز سے صدائے احتجاج اور عملی جدوجہد کا آغاز کرے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ اسلامی دنیا کے اختلافات کے خاتمے کے لیے او آئی سی مناسب پلیٹ فارم ہے، اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے مسلم دنیا کی قوت محسوس نہیں کی جاتی ۔ پاکستان غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے اور فلسطینی عوام کی جدوجہد میں ان کی غیر مشروط حمایت جاری رکھے گا۔
ادھر قومی اسمبلی نے غزہ میں اسرائیلی بربریت کے خلاف اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر کے مسئلے کی شدت کو اجاگر کیا ہے جب کہ پختونخوا میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان خود اس وقت غزہ بنا ہوا ہے ، ایسی صورت حال میں پارلیمنٹ اپنی پوزیشن واضح کرے ۔
پیر کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت اجلاس شروع ہوا ، کچھ ارکان آرٹیکل 245 کے نفاذ اور دیگر غزہ کی صورت حال پر بات کرنا چاہتے تھے، تاہم اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے یہ استدلال پیش کیا کہ پیپلز پارٹی فلسطین کے حقوق سے کبھی منہ نہیں موڑ سکتی ، جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا غزہ کا معاملہ انتہائی اہم ہے، مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل اور اوآئی سی میں فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھاتا رہے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کے خلاف مسلم ممالک اور عرب دنیا کے مابین تعلقات کار اور یکجہتی کو مہمیز کیے بغیر کوئی آواز عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ نہیں سکے گی کیونکہ سامراجی ممالک اور مغرب کی پشت پناہی سے ہی اسرائیل فلسطینیوں کے گھر بار اجاڑ رہا ہے اور اس کی وحشیانہ جارحیت اور بربریت کو روکنے کے لیے عالم اسلام بے بسی اور بے عملی کی تصویر بنا ہوا ہے۔اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ کیا عالم اسلام کے پاس اسرائیل کے ظالمانہ اور غیر انسانی جارحیت و دہشت گردی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے وسائل اور عزم کی کمی ہے۔
ارباب اختیار کو ادراک کرنا چاہیے کہ پاکستان کو داخلی و خارجی مسائل کے گرداب کا بھی سامنا ہے، آر پی ڈیز کی عارضی آبادکاری ، سیاسی درجہ حرارت میں تیزی ، قومی ایشوز پر عدم اتفاق اور روزمرہ کے مسائل پر عوامی اضطراب نے معاشرتی بدامنی کی سنگین صورتحال پیدا کی ہے، ادھر لیبیا میں سیکیورٹی کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر تیونس کے راستے پاکستانی باشندوں کی وطن واپسی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں ، ہزاروں پاکستانی باشندوں کو تیونس کی سرحد پر آمد کے وقت وہاں کے ویزے دیے جائیں گے، جس کے بعد وہ وہاں سے نکلنے کے لیے مطلوبہ فلائٹس لے سکیں گے۔
دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ لیبیا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر پاکستانی سفارتخانہ ہم وطنوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے ۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ غزہ کے معاملے میں قومی امنگوں اور عالمی طرز عمل کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جائیں کہ فلسطینی کاز اور وطن عزیز پر کوئی آنچ نہ آئے اور اسرائیل کو مسلم امہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑ جائیں ۔
صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ فلسطین سمیت دنیا میں رونما ہونیوالے واقعات سے مسلم دنیا میں بے چینی کی لہر ہے، او آئی سی مسئلہ کشمیر اور فلسطین کا تنازع حل کرنے میں کردار ادا کرے۔ صدر سے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل ایاد امین عبداللہ مدنی نے یہاں ملاقات کی ۔ ایاد امین نے کہا کہ او آئی سی ممالک کی سائنس کانفرنس جلد پاکستان میں ہوگی ۔ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے بھی ملاقات کی۔
اسرائیلی دہشت گردی اور بربریت کے خلاف مسلم ممالک میں رائے عامہ کو بیدار کرنے کی جتنی آج ضرورت ہے اس سے کسی ذی فہم کو انکار نہیں ہوسکتا، اسرائیل نے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑائی ہیں اور فلسطینیوں کی نسل کشی اور انسانیت سوز جرائم کا مرتکب ہوا ہے ۔ اس لیے ملت اسلامیہ اپنے صحیح فورمز سے صدائے احتجاج اور عملی جدوجہد کا آغاز کرے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ اسلامی دنیا کے اختلافات کے خاتمے کے لیے او آئی سی مناسب پلیٹ فارم ہے، اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے مسلم دنیا کی قوت محسوس نہیں کی جاتی ۔ پاکستان غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے اور فلسطینی عوام کی جدوجہد میں ان کی غیر مشروط حمایت جاری رکھے گا۔
ادھر قومی اسمبلی نے غزہ میں اسرائیلی بربریت کے خلاف اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر کے مسئلے کی شدت کو اجاگر کیا ہے جب کہ پختونخوا میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان خود اس وقت غزہ بنا ہوا ہے ، ایسی صورت حال میں پارلیمنٹ اپنی پوزیشن واضح کرے ۔
پیر کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت اجلاس شروع ہوا ، کچھ ارکان آرٹیکل 245 کے نفاذ اور دیگر غزہ کی صورت حال پر بات کرنا چاہتے تھے، تاہم اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے یہ استدلال پیش کیا کہ پیپلز پارٹی فلسطین کے حقوق سے کبھی منہ نہیں موڑ سکتی ، جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا غزہ کا معاملہ انتہائی اہم ہے، مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل اور اوآئی سی میں فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھاتا رہے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کے خلاف مسلم ممالک اور عرب دنیا کے مابین تعلقات کار اور یکجہتی کو مہمیز کیے بغیر کوئی آواز عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ نہیں سکے گی کیونکہ سامراجی ممالک اور مغرب کی پشت پناہی سے ہی اسرائیل فلسطینیوں کے گھر بار اجاڑ رہا ہے اور اس کی وحشیانہ جارحیت اور بربریت کو روکنے کے لیے عالم اسلام بے بسی اور بے عملی کی تصویر بنا ہوا ہے۔اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ کیا عالم اسلام کے پاس اسرائیل کے ظالمانہ اور غیر انسانی جارحیت و دہشت گردی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے وسائل اور عزم کی کمی ہے۔
ارباب اختیار کو ادراک کرنا چاہیے کہ پاکستان کو داخلی و خارجی مسائل کے گرداب کا بھی سامنا ہے، آر پی ڈیز کی عارضی آبادکاری ، سیاسی درجہ حرارت میں تیزی ، قومی ایشوز پر عدم اتفاق اور روزمرہ کے مسائل پر عوامی اضطراب نے معاشرتی بدامنی کی سنگین صورتحال پیدا کی ہے، ادھر لیبیا میں سیکیورٹی کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر تیونس کے راستے پاکستانی باشندوں کی وطن واپسی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں ، ہزاروں پاکستانی باشندوں کو تیونس کی سرحد پر آمد کے وقت وہاں کے ویزے دیے جائیں گے، جس کے بعد وہ وہاں سے نکلنے کے لیے مطلوبہ فلائٹس لے سکیں گے۔
دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ لیبیا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر پاکستانی سفارتخانہ ہم وطنوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے ۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ غزہ کے معاملے میں قومی امنگوں اور عالمی طرز عمل کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جائیں کہ فلسطینی کاز اور وطن عزیز پر کوئی آنچ نہ آئے اور اسرائیل کو مسلم امہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑ جائیں ۔