آپریشن ضرب عضب میں بہتر پیشرفت
شمالی وزیرستان کے اہم شہروں اور قصبوں کو دہشت گردوں سے آزاد کرا دیا ہے
شمالی وزیرستان کے اہم شہروں اور قصبوں کو دہشت گردوں سے آزاد کرا دیا ہے. فوٹو؛ فائل
KARACHI:
پاک فوج شمالی وزیرستان میں جس رفتار اور منصوبہ بندی سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہی ہے' اسے مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ تھوڑے عرصے میں ہی اس انتہائی مشکل قبائلی ایجنسی کو دہشت گردوں سے کلیئر کرالیا جائے گا اور اس کے بعد وہاں نقل مکانی کرنے والوں کی بحالی کا عمل شروع ہو گا۔ اگلے روز آئی ایس پی آر کی اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کا آپریشن ''ضرب عضب'' بہتر پیشرفت کے ساتھ جاری ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے میرانشاہ، میر علی، بویا دیگان اور دتہ خیل کو دہشت گردوں سے کلیئر کرا لیا ہے۔ پاک فوج نے کلئیر کرائے جانے والے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ جب کہ مومن، گل زیارت درپہ خیل، سپالگہ اور دریائے ٹوچی کے علاقوں میں کلیئرنس کے لیے پیش رفت جاری ہے۔ تاہم پانچ دیہات میں دہشت گروں کی طرف سے قدرے مزاحمت کی گئی۔ عسکری ذرایع کے حوالے سے اطلاع ہے کہ دہشت گرد گھبرا چکے ہیں اور وہ منتشر ہو کر آخری لڑائی لڑ رہے ہیں۔ پاک فوج نے دہشت گردوں کی سپلائی کے تمام راستے منقطع کر دیے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے اوائل جون میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تھا۔ جس میں اب تک پانچ سو سے زائد شدت پسند مارے جا چکے ہیں جن میں غیرملکیوں کی بھی کثیر تعداد شامل ہے۔ ان غیر ملکیوں میں ازبک دہشت گردوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ آپریشن میں پاک فوج کے جوان بھی شہید ہوئے ہیں۔ جس سے یہاں ہونے والی لڑائی کی شدت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ملک بھر میں جو صورتحال تھی'وہ اب مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔
آپریشن ضرب عضب شروع ہونے سے پہلے قوم میں ایک خوف اور مایوسی تھی کیونکہ دہشت گردی کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری تھا۔ ادھر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے حوالے سے بھی کنفیوژن کی فضا قائم تھی۔ بعض حلقے آپریشن کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے قوم میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے' وفاقی حکومت طالبان سے مذاکرات میں مصروف تھی' مذاکرات تو ہو رہے تھے لیکن اس عمل کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ رہے تھے' مذاکراتی عمل کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کی وارداتیں ہو رہی تھیں۔ جس کی وجہ سے عوام میں مزید مایوسی پھیل رہی تھی۔
ادھر بعض سیاستدان یہ خوف پیدا کر رہے تھے کہ اگر شمالی وزیرستان میں آپریشن کیاگیا تو پورے ملک پر تباہی ٹوٹ پڑے گی اور یہ بھی دلیل دی جا رہی تھی کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ فضا تھی جس میں مایوسی چھائی ہوئی تھی' حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہو گیا تھا لیکن وہ پھر بھی مذاکرات کی باتیں کر رہی تھی' ایسے حالات میں بلاآخر وفاقی حکومت کو آپریشن کی آپشن اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا کیونکہ دہشت گردوں نے مذاکرات کو ریاست کی کمزوری سمجھ رکھا تھا' اب جب کہ آپریشن شروع ہوئے تقریباً چھ سات ہفتے ہوچکے ہیں۔
اس دوران پاک فوج نے شمالی وزیرستان کے اہم شہروں اور قصبوں کو دہشت گردوں سے آزاد کرا دیا ہے جو یقینی طور پر بڑی کامیابی ہے۔ اس آپریشن کے اثرات یہ برآمد ہوئے ہیں کہ دہشت گردوں کا آزاد علاقہ ان سے چھن گیا ہے جہاں وہ آزادی سے منصوبہ بندی کرتے تھے۔ شمالی وزیرستان میں دہشت گرد بغیر کسی خوف کے نقل و حرکت کر رہے تھے۔ ملک میں جو دہشت گردی کی واردات ہوتی یا اغوا برائے تاوان کی واردات ہوتی' اس کے ڈانڈے وزیرستان سے ہی ملتے تھے۔
یہ آزاد علاقہ ختم ہونے سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ گو اس آپریشن کے ردعمل کے خطرات موجود ہیں لیکن آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد سے اب تک ملک میں دہشت گردی کی کوئی بڑی واردات نہیں ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے دہشت گرد منتشر ہو چکے ہیں' ان کی پناہ گاہیں اور اسلحہ تیار کرنے کے مراکز تباہ کر دیے گئے ہیں' لڑنے والوں کی اکثریت ماری جا چکی ہے اور جو بچ گئے ہیں' وہ فرار ہو رہے ہیں' ان مفرور دہشت گردوں کی بڑی تعداد افغانستان میں پناہ گزین ہے اور ممکن ہے کہ مفرور دہشت گردوں کی ایک خاطر خواہ تعداد پاکستان کے شہروں میں بھی موجود ہو۔
یوں دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب وفاقی و صوبائی حکومتوں کو آپریشن ضرب عضب کے ردعمل کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ریاست کے سول اداروں کو اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔ شہروں اور دیہات میں تھانوں کی سطح پر انٹیلی جنس نظام کو زیادہ متحرک اور قابل اعتماد بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر سول ادارے پوری تندہی اور ذمے داری سے کام کریں تو ملک کے بڑے شہروں اور دیہات میں دہشت گردوں کے قیام کو نا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کو بھی ہر ممکن مدد فراہم کی جانی چاہیے۔
اس معاملے میں صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کو ہی نہیں بلکہ چاروں صوبوں کی حکومتوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وفاقی حکومت ان کے سر پر ہو تو آئی ڈی پیز کو سنبھالنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اگر ممکن ہو تو آئی ڈی پیز کی بحفاظت گھروں کو واپسی یقینی بنانے کے لیے شمالی وزیرستان کے کلیئر علاقوں میں بحالی کی سرگرمیاں جلد از جلد شروع ہونی چاہئیں تاکہ آئی ڈی پیز کا کم از کم ایک حصہ اپنے گھروں کو واپس جا سکے۔
جنوبی وزیرستان اور سوات کا ماڈل ہمارے سامنے ہے۔ ان علاقوں میں بھی آپریشن ہوا تھا' یہاں سے بھی لاکھوں کی تعداد میں آئی ڈی پیز نے کیمپوں اور ملک کے دیگر شہروں میں پناہ لی تھی لیکن آپریشن مکمل ہونے کے بعد ان علاقوں میں جلد ہی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا۔ آج سوات پھر سے پرامن ہے اور یہاں ملک بھر سے سیاح آ جا رہے ہیں اور انھیں یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ ان علاقوں سے دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
اس طرح جنوبی وزیرستان میں بھی آباد کاری مکمل ہوچکی ہے اور وہاں جنڈولہ' سراروغہ اور کوٹ کئی وغیرہ میں زندگی معمول پر آ گئی ہے اور قبائلی عوام اپنے اپنے کاروبار میں مصروف ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ شمالی وزیرستان کا آپریشن جلد مکمل ہو جائے گا اور یہاں بحالی کا کام بھی جلد شروع ہو جائے گا اور وہ دن دور نہیں جب میرانشاہ اور میر علی دوبارہ پر رونق شہر بن جائیں اور پورے ملک سے لوگ وہاں آزادی کے ساتھ جا اور آ سکیں گے۔
پاک فوج شمالی وزیرستان میں جس رفتار اور منصوبہ بندی سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہی ہے' اسے مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ تھوڑے عرصے میں ہی اس انتہائی مشکل قبائلی ایجنسی کو دہشت گردوں سے کلیئر کرالیا جائے گا اور اس کے بعد وہاں نقل مکانی کرنے والوں کی بحالی کا عمل شروع ہو گا۔ اگلے روز آئی ایس پی آر کی اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کا آپریشن ''ضرب عضب'' بہتر پیشرفت کے ساتھ جاری ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے میرانشاہ، میر علی، بویا دیگان اور دتہ خیل کو دہشت گردوں سے کلیئر کرا لیا ہے۔ پاک فوج نے کلئیر کرائے جانے والے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ جب کہ مومن، گل زیارت درپہ خیل، سپالگہ اور دریائے ٹوچی کے علاقوں میں کلیئرنس کے لیے پیش رفت جاری ہے۔ تاہم پانچ دیہات میں دہشت گروں کی طرف سے قدرے مزاحمت کی گئی۔ عسکری ذرایع کے حوالے سے اطلاع ہے کہ دہشت گرد گھبرا چکے ہیں اور وہ منتشر ہو کر آخری لڑائی لڑ رہے ہیں۔ پاک فوج نے دہشت گردوں کی سپلائی کے تمام راستے منقطع کر دیے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے اوائل جون میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تھا۔ جس میں اب تک پانچ سو سے زائد شدت پسند مارے جا چکے ہیں جن میں غیرملکیوں کی بھی کثیر تعداد شامل ہے۔ ان غیر ملکیوں میں ازبک دہشت گردوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ آپریشن میں پاک فوج کے جوان بھی شہید ہوئے ہیں۔ جس سے یہاں ہونے والی لڑائی کی شدت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ملک بھر میں جو صورتحال تھی'وہ اب مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔
آپریشن ضرب عضب شروع ہونے سے پہلے قوم میں ایک خوف اور مایوسی تھی کیونکہ دہشت گردی کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری تھا۔ ادھر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے حوالے سے بھی کنفیوژن کی فضا قائم تھی۔ بعض حلقے آپریشن کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے قوم میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے' وفاقی حکومت طالبان سے مذاکرات میں مصروف تھی' مذاکرات تو ہو رہے تھے لیکن اس عمل کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ رہے تھے' مذاکراتی عمل کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کی وارداتیں ہو رہی تھیں۔ جس کی وجہ سے عوام میں مزید مایوسی پھیل رہی تھی۔
ادھر بعض سیاستدان یہ خوف پیدا کر رہے تھے کہ اگر شمالی وزیرستان میں آپریشن کیاگیا تو پورے ملک پر تباہی ٹوٹ پڑے گی اور یہ بھی دلیل دی جا رہی تھی کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ فضا تھی جس میں مایوسی چھائی ہوئی تھی' حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہو گیا تھا لیکن وہ پھر بھی مذاکرات کی باتیں کر رہی تھی' ایسے حالات میں بلاآخر وفاقی حکومت کو آپریشن کی آپشن اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا کیونکہ دہشت گردوں نے مذاکرات کو ریاست کی کمزوری سمجھ رکھا تھا' اب جب کہ آپریشن شروع ہوئے تقریباً چھ سات ہفتے ہوچکے ہیں۔
اس دوران پاک فوج نے شمالی وزیرستان کے اہم شہروں اور قصبوں کو دہشت گردوں سے آزاد کرا دیا ہے جو یقینی طور پر بڑی کامیابی ہے۔ اس آپریشن کے اثرات یہ برآمد ہوئے ہیں کہ دہشت گردوں کا آزاد علاقہ ان سے چھن گیا ہے جہاں وہ آزادی سے منصوبہ بندی کرتے تھے۔ شمالی وزیرستان میں دہشت گرد بغیر کسی خوف کے نقل و حرکت کر رہے تھے۔ ملک میں جو دہشت گردی کی واردات ہوتی یا اغوا برائے تاوان کی واردات ہوتی' اس کے ڈانڈے وزیرستان سے ہی ملتے تھے۔
یہ آزاد علاقہ ختم ہونے سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ گو اس آپریشن کے ردعمل کے خطرات موجود ہیں لیکن آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد سے اب تک ملک میں دہشت گردی کی کوئی بڑی واردات نہیں ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے دہشت گرد منتشر ہو چکے ہیں' ان کی پناہ گاہیں اور اسلحہ تیار کرنے کے مراکز تباہ کر دیے گئے ہیں' لڑنے والوں کی اکثریت ماری جا چکی ہے اور جو بچ گئے ہیں' وہ فرار ہو رہے ہیں' ان مفرور دہشت گردوں کی بڑی تعداد افغانستان میں پناہ گزین ہے اور ممکن ہے کہ مفرور دہشت گردوں کی ایک خاطر خواہ تعداد پاکستان کے شہروں میں بھی موجود ہو۔
یوں دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب وفاقی و صوبائی حکومتوں کو آپریشن ضرب عضب کے ردعمل کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ریاست کے سول اداروں کو اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔ شہروں اور دیہات میں تھانوں کی سطح پر انٹیلی جنس نظام کو زیادہ متحرک اور قابل اعتماد بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر سول ادارے پوری تندہی اور ذمے داری سے کام کریں تو ملک کے بڑے شہروں اور دیہات میں دہشت گردوں کے قیام کو نا ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کو بھی ہر ممکن مدد فراہم کی جانی چاہیے۔
اس معاملے میں صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کو ہی نہیں بلکہ چاروں صوبوں کی حکومتوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وفاقی حکومت ان کے سر پر ہو تو آئی ڈی پیز کو سنبھالنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اگر ممکن ہو تو آئی ڈی پیز کی بحفاظت گھروں کو واپسی یقینی بنانے کے لیے شمالی وزیرستان کے کلیئر علاقوں میں بحالی کی سرگرمیاں جلد از جلد شروع ہونی چاہئیں تاکہ آئی ڈی پیز کا کم از کم ایک حصہ اپنے گھروں کو واپس جا سکے۔
جنوبی وزیرستان اور سوات کا ماڈل ہمارے سامنے ہے۔ ان علاقوں میں بھی آپریشن ہوا تھا' یہاں سے بھی لاکھوں کی تعداد میں آئی ڈی پیز نے کیمپوں اور ملک کے دیگر شہروں میں پناہ لی تھی لیکن آپریشن مکمل ہونے کے بعد ان علاقوں میں جلد ہی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا۔ آج سوات پھر سے پرامن ہے اور یہاں ملک بھر سے سیاح آ جا رہے ہیں اور انھیں یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ ان علاقوں سے دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
اس طرح جنوبی وزیرستان میں بھی آباد کاری مکمل ہوچکی ہے اور وہاں جنڈولہ' سراروغہ اور کوٹ کئی وغیرہ میں زندگی معمول پر آ گئی ہے اور قبائلی عوام اپنے اپنے کاروبار میں مصروف ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ شمالی وزیرستان کا آپریشن جلد مکمل ہو جائے گا اور یہاں بحالی کا کام بھی جلد شروع ہو جائے گا اور وہ دن دور نہیں جب میرانشاہ اور میر علی دوبارہ پر رونق شہر بن جائیں اور پورے ملک سے لوگ وہاں آزادی کے ساتھ جا اور آ سکیں گے۔