کتاب کلچر کے فروغ کی کوششیں
مذہبی انتہا پسندی اور مختلف سنگین جرائم میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ عوام کی کتاب کلچر سے دوری ہے
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
پچھلے کچھ دنوں سے مختلف ادبی تنظیموں کی تقریبات میں کتاب کلچر کے فروغ کی خواہشات اور اس حوالے سے بعض ٹھوس پروگراموں کا اعلان بھی کیا جاتا رہا جو یقینا ایک خوش آیند اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے سربراہ نے ادب کے قارئین کو یہ خوشخبری بھی سنائی کہ فاؤنڈیشن نہ صرف ادبی کتابوں کے سستے ایڈیشن چھاپنے کی تیاری کر رہا ہے بلکہ ادبی کتابوں کو عوام تک پہنچانے کی ایک جامع منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے۔
انجمن ترقی اردو کی ایک تقریب میں بھی شرکا نے کتاب کلچر کے فروغ کی خواہش کا اظہار کیا بعض بڑے اور معروف پبلشنگ ہاؤسز بھی اس حوالے سے مثبت اقدامات کرتے نظر آرہے ہیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ کی مشیر برائے ثقافت، سیاحت و نوادرات نے میرپورخاص میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا سندھ گورنمنٹ کلچر کمپلیکس اور میرپورخاص میں ایک لائبریری کی تعمیر پر 153 ملین روپے لگائے جا رہے ہیں اس کمپلیکس کی تعمیر کا بڑا حصہ مکمل ہوچکا ہے۔
حکومت سندھ اس کمپلیکس اور لائبریری کو تمام جدید سہولتوں سے آراستہ کر رہی ہے ''تاکہ لوگ دوبارہ لائبریریوں کا رخ کرسکیں۔'' انھوں نے کہا کہ حکومت لائبریری کے لیے 15 ریک باکس اور ادب کے قارئین کی سہولت کے لیے 18 ایئرکنڈیشن بھی فراہم کر رہی ہے۔ حکومتوں کے کچھ کام اپنے حلقہ انتخاب کے عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ہوتے ہیں اور کچھ کام عوام کے اجتماعی مفادات کے لیے ہوتے ہیں جن کی اہمیت الگ الگ ہوتی ہے لیکن آج کے دور میں کتاب کلچر کے فروغ کے لیے جو بھی کام کیا جا رہا ہے اس کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔
ہم ایک طویل عرصے سے اپنے کالموں میں حکومتوں اور ادبی تنظیموں کو یہ احساس دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک جن سنگین حالات سے گزر رہا ہے ۔مذہبی انتہا پسندی اور مختلف سنگین جرائم میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ عوام کی کتاب کلچر سے دوری ہے اور کتاب کلچر کے فروغ سے ان حالات پر قابو پانے میں بڑی مدد مل سکتی ہے کیونکہ ادبی کتابیں انسانوں کا ذہن بدلنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔اس حوالے سے ہمارے دیرینہ دوست سینیٹر اور پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات تاج حیدر سے بڑی تفصیلی گفتگو بھی ہوئی۔
اس حوالے سے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے سربراہ نے جن کوششوں اور منصوبوں کا اعلان کیا ہے اگر ان پر عملدرآمد ہو تو بلاشبہ کتاب کلچر کے فروغ میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ ادبی کتابوں کی بھاری قیمتوں کا ہے جو عموماً عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی ہیں نیشنل بک فاؤنڈیشن اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ادبی کتابوں کے سستے ایڈیشن چھاپنے کی جو نوید دے رہا ہے اس سے عام آدمی ادبی کتابیں خریدنے کے قابل ہوسکتا ہے۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے سربراہ نے ادبی کتابوں کو عوام تک پہنچانے کے جس مربوط منصوبے کا ذکر کیا ہے اس کی تفصیلات کا تو ہمیں علم نہیں لیکن یہ کام اس قدر بنیادی نوعیت کا ہے کہ اس پر ایک جامع اور قابل عمل منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔
تقریباً چار دہائیوں سے ملک میں کتاب کلچر ناپید ہے اور صورتحال یہ ہے کہ ادیب اور شاعر حضرات بڑی مشکلوں اور صبر آزما مرحلوں سے گزر کر جب کوئی کتاب چھپوا لیتے ہیں تو ان میں سے نصف سے زیادہ کتابیں دوست احباب میں مفت تقسیم کردی جاتی ہیں اور باقی گھر کے اسٹوروں میں پڑی سڑتی رہتی ہیں کیونکہ پبلسٹی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی فروخت ممکن نہیں ہوتی بک اسٹالوں اور کتاب گھروں میں ادبی کتابوں کی فروخت کا عالم یہ ہے کہ 10 کتابوں کی فروخت کے لیے دس ماہ لگ جاتے ہیں جب تک ایک جامع منصوبہ بندی کے ساتھ میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا میں معیاری ادبی کتابوں اور ادیبوں کا تعارف نہیں کرایا جاتا عام لوگوں میں ادبی کتابیں خریدنے کی ترغیب نہیں پیدا کی جاسکتی۔
نیشنل بک فاؤنڈیشن وغیرہ اس حوالے سے جو کوششیں کر رہے ہیں وہ یقینا قابل تعریف ہیں لیکن ہمارے خیال میں کتاب کلچر کے فروغ میں کیبن لائبریریز جو کردار ادا کرسکتی ہیں اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ قیام پاکستان کے بعد دو تین عشروں تک ہر محلے ہر گلی میں کیبن لائبریری موجود ہوتی تھی جہاں معمولی کرائے پر برصغیر کے معروف ادیبوں اور شاعروں کی کتابیں مل جاتی تھیں۔
ان کیبن لائبریریوں کی مقبولیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ ادب کے قاریوں کو اپنی پسند کی کتابیں حاصل کرنے کے لیے ہفتوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ کراچی کے علاوہ لاہور بھی ان لائبریریوں کا مرکز تھا جہاں معمولی کرائے پر ادبی کتابیں دستیاب ہوتی تھیں جو ادبی تنظیمیں ادب کے فروغ کے لیے کوششیں کر رہی ہیں انھیں محلہ محلہ ایسی کیبن لائبریریز کے قیام پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے جہاں مناسب کرائے پر ادبی کتابیں دستیاب ہوں۔
جن ادبی تنظیموں کو بھاری فنڈز ملتے ہیں ان کی اس حوالے سے کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔ آرٹس کونسل کراچی کو ہم ایک طویل عرصے سے یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ کتاب کلچر کے فروغ پر بھرپور توجہ دے اس حوالے سے حکومت سندھ سے یہ بات کی جاسکتی ہے کہ وہ ہر علاقے میں چھوٹی چھوٹی کیبن لائبریریوں کے قیام کے لیے چھوٹے قرضوں کی ایک اسکیم بنائے جس میں ایک لاکھ تک ایسے قرضے فراہم کیے جائیں جو کیبن لائبریریوں کے قیام میں مدد دے سکیں۔
سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اگر حکومتیں اربوں روپوں کے عموماً ناقابل واپسی اور امتیازی قرضے فراہم کرسکتی ہیں تو قومی مفاد کے حوالے سے کیبن لائبریریز کے قیام کے لیے قابل واپسی قرضے فراہم کرنے میں کیا دشواری ہے؟ قیام پاکستان کے بعد محلوں میں جو کیبن لائبریریاں قائم تھیں ان میں عموماً برصغیر کے ادیبوں کی کتابیں رکھی جاتی تھیں اب بڑی تیزی سے اچھے عالمی ادب کے ترجمے ہو رہے ہیں جنھیں کیبن لائبریریوں کے ذریعے عوام تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ جس کے معاشرے پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
پچھلے دنوں آرٹس کونسل کے شعبہ ادبیات کی فعال شخصیت برادرم سحر انصاری سے اس حوالے سے ہماری بڑی تفصیلی بات چیت ہوئی سحر انصاری نے یہ تجویز دی کہ کتاب کلچر کے فروغ کے لیے موبائل لائبریریز کا سلسلہ بھی بڑا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے بعض جماعتیں اگرچہ اس حوالے سے موبائل لائبریریز کے پروگرام پر عمل پیرا ہیں لیکن ان لائبریریوں میں ایسی کتابیں مہیا کی جا رہی ہیں جن کا ادب سے نہیں بلکہ نظریات سے تعلق ہوتا ہے۔ بھائی سحر انصاری اس حوالے سے ایک جامع پروگرام شروع کرنے پر اتفاق کرتے ہیں ہمیں امید ہے کہ آرٹس کونسل کراچی اس حوالے سے ایک فعال کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ آرٹس کونسل کو ہر سال حکومت کی طرف سے بھاری فنڈنگ ہوتی ہے اس فنڈ میں ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیوں کا بھی ایک معقول حصہ ہونا چاہیے۔
آرٹس کونسل سمیت کئی ادبی اور ثقافتی ادارے عموماً بڑی بڑی بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد کرتے ہیں جن پر بھاری سرمایہ خرچ ہوتا ہے لیکن نتائج کے حوالے سے یہ کانفرنسیں عموماً ''تقریب پر ملاقات'' سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں اور اس پر ملاقات کا فائدہ بھی ایک مخصوص ادبی ایلیٹ ہی کو حاصل ہوتا ہے عام آدمی اس قسم کے ادبی میلوں کو فوٹو سیشن سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا اس مایوس کن صورتحال میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کی کوششیں یقینا لائق تحسین ہیں لیکن کتاب کلچر کے فروغ کے لیے کیبن لائبریریز کے پروگرام پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے جو ہمارے جرائم سے آلودہ معاشرے میں ایک فکری انقلاب لاسکتا ہے۔
انجمن ترقی اردو کی ایک تقریب میں بھی شرکا نے کتاب کلچر کے فروغ کی خواہش کا اظہار کیا بعض بڑے اور معروف پبلشنگ ہاؤسز بھی اس حوالے سے مثبت اقدامات کرتے نظر آرہے ہیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ کی مشیر برائے ثقافت، سیاحت و نوادرات نے میرپورخاص میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا سندھ گورنمنٹ کلچر کمپلیکس اور میرپورخاص میں ایک لائبریری کی تعمیر پر 153 ملین روپے لگائے جا رہے ہیں اس کمپلیکس کی تعمیر کا بڑا حصہ مکمل ہوچکا ہے۔
حکومت سندھ اس کمپلیکس اور لائبریری کو تمام جدید سہولتوں سے آراستہ کر رہی ہے ''تاکہ لوگ دوبارہ لائبریریوں کا رخ کرسکیں۔'' انھوں نے کہا کہ حکومت لائبریری کے لیے 15 ریک باکس اور ادب کے قارئین کی سہولت کے لیے 18 ایئرکنڈیشن بھی فراہم کر رہی ہے۔ حکومتوں کے کچھ کام اپنے حلقہ انتخاب کے عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ہوتے ہیں اور کچھ کام عوام کے اجتماعی مفادات کے لیے ہوتے ہیں جن کی اہمیت الگ الگ ہوتی ہے لیکن آج کے دور میں کتاب کلچر کے فروغ کے لیے جو بھی کام کیا جا رہا ہے اس کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔
ہم ایک طویل عرصے سے اپنے کالموں میں حکومتوں اور ادبی تنظیموں کو یہ احساس دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک جن سنگین حالات سے گزر رہا ہے ۔مذہبی انتہا پسندی اور مختلف سنگین جرائم میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ عوام کی کتاب کلچر سے دوری ہے اور کتاب کلچر کے فروغ سے ان حالات پر قابو پانے میں بڑی مدد مل سکتی ہے کیونکہ ادبی کتابیں انسانوں کا ذہن بدلنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔اس حوالے سے ہمارے دیرینہ دوست سینیٹر اور پیپلز پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات تاج حیدر سے بڑی تفصیلی گفتگو بھی ہوئی۔
اس حوالے سے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے سربراہ نے جن کوششوں اور منصوبوں کا اعلان کیا ہے اگر ان پر عملدرآمد ہو تو بلاشبہ کتاب کلچر کے فروغ میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ ادبی کتابوں کی بھاری قیمتوں کا ہے جو عموماً عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی ہیں نیشنل بک فاؤنڈیشن اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ادبی کتابوں کے سستے ایڈیشن چھاپنے کی جو نوید دے رہا ہے اس سے عام آدمی ادبی کتابیں خریدنے کے قابل ہوسکتا ہے۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے سربراہ نے ادبی کتابوں کو عوام تک پہنچانے کے جس مربوط منصوبے کا ذکر کیا ہے اس کی تفصیلات کا تو ہمیں علم نہیں لیکن یہ کام اس قدر بنیادی نوعیت کا ہے کہ اس پر ایک جامع اور قابل عمل منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔
تقریباً چار دہائیوں سے ملک میں کتاب کلچر ناپید ہے اور صورتحال یہ ہے کہ ادیب اور شاعر حضرات بڑی مشکلوں اور صبر آزما مرحلوں سے گزر کر جب کوئی کتاب چھپوا لیتے ہیں تو ان میں سے نصف سے زیادہ کتابیں دوست احباب میں مفت تقسیم کردی جاتی ہیں اور باقی گھر کے اسٹوروں میں پڑی سڑتی رہتی ہیں کیونکہ پبلسٹی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی فروخت ممکن نہیں ہوتی بک اسٹالوں اور کتاب گھروں میں ادبی کتابوں کی فروخت کا عالم یہ ہے کہ 10 کتابوں کی فروخت کے لیے دس ماہ لگ جاتے ہیں جب تک ایک جامع منصوبہ بندی کے ساتھ میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا میں معیاری ادبی کتابوں اور ادیبوں کا تعارف نہیں کرایا جاتا عام لوگوں میں ادبی کتابیں خریدنے کی ترغیب نہیں پیدا کی جاسکتی۔
نیشنل بک فاؤنڈیشن وغیرہ اس حوالے سے جو کوششیں کر رہے ہیں وہ یقینا قابل تعریف ہیں لیکن ہمارے خیال میں کتاب کلچر کے فروغ میں کیبن لائبریریز جو کردار ادا کرسکتی ہیں اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ قیام پاکستان کے بعد دو تین عشروں تک ہر محلے ہر گلی میں کیبن لائبریری موجود ہوتی تھی جہاں معمولی کرائے پر برصغیر کے معروف ادیبوں اور شاعروں کی کتابیں مل جاتی تھیں۔
ان کیبن لائبریریوں کی مقبولیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ ادب کے قاریوں کو اپنی پسند کی کتابیں حاصل کرنے کے لیے ہفتوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ کراچی کے علاوہ لاہور بھی ان لائبریریوں کا مرکز تھا جہاں معمولی کرائے پر ادبی کتابیں دستیاب ہوتی تھیں جو ادبی تنظیمیں ادب کے فروغ کے لیے کوششیں کر رہی ہیں انھیں محلہ محلہ ایسی کیبن لائبریریز کے قیام پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے جہاں مناسب کرائے پر ادبی کتابیں دستیاب ہوں۔
جن ادبی تنظیموں کو بھاری فنڈز ملتے ہیں ان کی اس حوالے سے کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔ آرٹس کونسل کراچی کو ہم ایک طویل عرصے سے یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ کتاب کلچر کے فروغ پر بھرپور توجہ دے اس حوالے سے حکومت سندھ سے یہ بات کی جاسکتی ہے کہ وہ ہر علاقے میں چھوٹی چھوٹی کیبن لائبریریوں کے قیام کے لیے چھوٹے قرضوں کی ایک اسکیم بنائے جس میں ایک لاکھ تک ایسے قرضے فراہم کیے جائیں جو کیبن لائبریریوں کے قیام میں مدد دے سکیں۔
سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اگر حکومتیں اربوں روپوں کے عموماً ناقابل واپسی اور امتیازی قرضے فراہم کرسکتی ہیں تو قومی مفاد کے حوالے سے کیبن لائبریریز کے قیام کے لیے قابل واپسی قرضے فراہم کرنے میں کیا دشواری ہے؟ قیام پاکستان کے بعد محلوں میں جو کیبن لائبریریاں قائم تھیں ان میں عموماً برصغیر کے ادیبوں کی کتابیں رکھی جاتی تھیں اب بڑی تیزی سے اچھے عالمی ادب کے ترجمے ہو رہے ہیں جنھیں کیبن لائبریریوں کے ذریعے عوام تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ جس کے معاشرے پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
پچھلے دنوں آرٹس کونسل کے شعبہ ادبیات کی فعال شخصیت برادرم سحر انصاری سے اس حوالے سے ہماری بڑی تفصیلی بات چیت ہوئی سحر انصاری نے یہ تجویز دی کہ کتاب کلچر کے فروغ کے لیے موبائل لائبریریز کا سلسلہ بھی بڑا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے بعض جماعتیں اگرچہ اس حوالے سے موبائل لائبریریز کے پروگرام پر عمل پیرا ہیں لیکن ان لائبریریوں میں ایسی کتابیں مہیا کی جا رہی ہیں جن کا ادب سے نہیں بلکہ نظریات سے تعلق ہوتا ہے۔ بھائی سحر انصاری اس حوالے سے ایک جامع پروگرام شروع کرنے پر اتفاق کرتے ہیں ہمیں امید ہے کہ آرٹس کونسل کراچی اس حوالے سے ایک فعال کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ آرٹس کونسل کو ہر سال حکومت کی طرف سے بھاری فنڈنگ ہوتی ہے اس فنڈ میں ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیوں کا بھی ایک معقول حصہ ہونا چاہیے۔
آرٹس کونسل سمیت کئی ادبی اور ثقافتی ادارے عموماً بڑی بڑی بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد کرتے ہیں جن پر بھاری سرمایہ خرچ ہوتا ہے لیکن نتائج کے حوالے سے یہ کانفرنسیں عموماً ''تقریب پر ملاقات'' سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں اور اس پر ملاقات کا فائدہ بھی ایک مخصوص ادبی ایلیٹ ہی کو حاصل ہوتا ہے عام آدمی اس قسم کے ادبی میلوں کو فوٹو سیشن سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا اس مایوس کن صورتحال میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کی کوششیں یقینا لائق تحسین ہیں لیکن کتاب کلچر کے فروغ کے لیے کیبن لائبریریز کے پروگرام پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے جو ہمارے جرائم سے آلودہ معاشرے میں ایک فکری انقلاب لاسکتا ہے۔