اسرائیل عالمی پابندیوں میں جکڑا جائے
اسرائیل نے غزہ میں 29 روز تک خون کی ہولی کھیلنے کے بعد مقبوضہ علاقے سے اپنے تمام فوجیوں کو واپس بلانے کا جو اعلان کیا
اسرائیل نے غزہ میں 29 روز تک خون کی ہولی کھیلنے کے بعد مقبوضہ علاقے سے اپنے تمام فوجیوں کو واپس بلانے کا جو اعلان کیا . فوٹو؛فائل
KARACHI:
اسرائیل نے غزہ میں 29 روز تک خون کی ہولی کھیلنے کے بعد مقبوضہ علاقے سے اپنے تمام فوجیوں کو واپس بلانے کا جو اعلان کیا ہے اور جس کے بعد غزہ سے اسرائیلی فوجیوں کی واپسی شروع ہوگئی ہے وہ دیدہ دلیری کی انتہا اور جدید سیاست گروں کی مصلحت اندیشی ، مفاد پرستی اور دو عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے جب کہ مشرق وسطیٰ کی خون بار سیاسی اور سماجی تاریخ میں اسرائیلی بربریت اور دہشت گردی پر ''چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد '' کی مثال صادق آتی ہے۔
غزہ کی اندوہ ناکی نے عالمی برادری کے کردار کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے جو بے لگام اور وحشیانہ طاقت کے غیر انسانی استعمال کی روک تھام میں نہ صرف لاچارگی کی تصویر بنی ہوئی ہے بلکہ صیہونی رعونت، جبر و ستم ، جنگی جرائم اور انسانیت سوزمظالم کے باوجود اسرائیلی چوری اور سینہ زوری کی اس دیدہ دلیری کے سامنے جمہوریت، انصاف ،آزادی اور مشترک انسانی اقدار کا چرچا کرنے اور ڈھنڈورا پیٹنے والے مغربی ممالک اور ان کے باضمیر دانشوروں کی خاموشی حد درجہ افسوس ناک ہے۔
کیا ان کے سیاسی اکابرین کے پاس فلسطینیوں کی مظلومیت پر رد عمل کے چند پر زور احتجاجی الفاظ تک کا قحط پڑگیا ہے ۔تاہم اجتماعی بے حسی کے اس ماحول میں بھی اس نڈر اکیلی امریکی خاتون اور فلسطینی کاز کے حامی یہودی النسل صحافی گیڈون لی سمیت بے شمار انسان دوست اسرائیلی مظالم پر مائل بہ احتجاج ہیں، دنیا کے ہر حصے میں فلسطینیوں اور غزہ پر بمباری کے خلاف صیہونی نسل پرستوں کو مطعون کیا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تین روزہ جنگ بندی کا معاہدہ جو قاہرہ میں فریقین کے بلواسطہ مذاکرات کے نتیجے میں طے پایا تھا کس قدر نتیجہ خیز ثابت ہوتاہے۔
اندازہ کیجیے کہ آٹھ جولائی سے شروع ہونے والی لڑائی میں تقریباً 1900فلسطینی شہید اور نو ہزار زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچوں سمیت اکثریت عام شہریوں کی تھی جب کہ اسرائیل کے فوجیوں سمیت 67 لوگ مارے گئے ۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 430 بچے شہید ہوئے ہیں ۔ان کی خطا کیا تھی؟ امریکا اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اس کی مکمل پاسداری کریں ۔مگر اتنا کہنا کافی نہیں، سلامتی کونسل کو اسرائیل سے باز پرس کرنی چاہیے، امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی کا کہنا تھا کہ امریکا فریقین کے درمیان طویل المدت پائیدار اور دیرپا حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
دریں اثنا تہران میں سیکڑوں طلبا نے فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان' ترکی اور مصر کے سفارتخانوں کے سامنے احتجاج کیا۔ ادھر عرب ممالک کی درخواست پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس بدھ کو ہو گا جب کہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ میں وبائی امراض پھوٹ سکتے ہیں ۔ امریکا میں انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اسرائیلی افواج نے غزہ میں بیگناہ شہریوں کا قتل عام کر کے جنگی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے ۔
غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف واضح موقف نہ اپنانے پر پاکستانی نژاد برطانوی وزیر سعیدہ وارثی نے منگل کو وزارت سے استعفیٰ دیدیا جو ضمیر کی آواز پر بروقت لبیک کہنے کا ایک چشم کشا واقعہ ہے ، یہ لرزہ براندام حکمرانوں اور عالمی ضمیر پر ایک تازیانہ ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عالم اسلام ، دنیائے عرب اور اہل فلسطین کی اپیل پر غزہ میں بربریت کے خلاف عالمی برادری اور سپر پاورز کے ارباب اختیار ، دانشوروں اور اراکین پارلیمنٹ کو بھی سعیدہ وارثی کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں پاکستانی نژاد سعیدہ وارثی کا کہنا تھا کہ وہ غزہ کے معاملے پر اپنی حکومت کی پالیسی کی مزید حمایت نہیں کر سکتیں ۔ اس لیے انھوں نے دکھ اور افسوس کے ساتھ اپنا استعفیٰ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو بھجوا دیا ۔ سعیدہ وارثی نے اپنے استعفے میں لکھا کہ حکومت کی غزہ کے حوالے سے پالیسی اخلاقی لحاظ سے قابلِ دفاع ہے نہ برطانیہ کے قومی مفاد میں ہے ۔ اس کے ملکی ساکھ پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
سعیدہ وارثی برطانوی کابینہ میں شامل ہونے والی پہلی خاتون مسلمان رکن ہیں جب کہ برطانوی حکمران جماعت کے کئی اراکین نے وزیرِاعظم پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے حوالے سے اپنی پالیسی کو متوازن بنائیں ۔ اسلام آباد میں فلسطین امن کانفرنس کے شرکا نے اقوام عالم سے مطالبہ کیا ہے کہ نہتے فلسطینیوں پر جاری جنگ کے بعد اسرائیل کودہشت گرد ملک قراردیا جائے، عالمی طاقتیں اسرائیل پر پابندیاں عائد کریں، پاکستان علما کونسل کے زیراہتمام فلسطین امن کے موضع پر منعقدہ آل پارٹیزکانفرنس کے اختتام پرجاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ 12 اگست کو اسلامی سربراہ کانفرنس میں فلسطینیوں کے معاملے پر واضع پالیسی اختیارکی جائے۔
پاکستان علما کونسل کے زیراہتمام کل جماعتی کانفرنس میں 30 سے زاہد مذہبی، سیاسی جماعتوں نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی بھرپور مذمت کی ۔ فلسطین امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات پرویزرشید نے کہاکہ اسرائیلی بربریت قابل مذمت ہے ۔ عالمی قوتوں، اقوام متحدہ نے اس مسئلے پر توجہ نہ دی تو دنیا میںدہشت گردی بڑھے گی ۔ اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ تمام اسلامی ممالک اپنا کردار ادا کریں ۔
جے یوآئی(س) کے مولانا سمیع الحق نے اس موقعے پر یاد دلایا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون جب وزیرخارجہ تھے تواس وقت افغانستان میںقید 35نوجوان لڑکیوںکو طالبان نے یرغمال بنا لیا تھا تو اس وقت بانکی مون نے کوریا کے سفیرکے ذریعے مجھے پیغام پہنچایا تھا کہ طالبان سے قیدیوں کی رہائی کے لیے اقدام کیے جائیں۔ اس ضمن میں میرے کہنے پرطالبان نے قیدیوں کو رہا کردیا۔
آج بانکی مون کو فلسطین پرجاری دہشت گردی نظر کیوں نہیں آتی۔ ادھر فلسطین کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے جنگ بندی معاہدے کے فوراً بعد انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (ہیگ) کے پراسیکیوٹر سے ملاقات کی ہے اور ان پر واضح کیا کہ غزہ میں اسرائیلی بربریت کے جنگی جرائم پر مبنی کافی شواہد موجود ہیں ۔انھوں نے کہا کہ 28 روز کی قتل و غارت جنگی جرائم کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔اب انصاف کے منصب پر فائز منصفوں اور عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کا ٹرائل یقینی بنائے ۔
اسرائیل نے غزہ میں 29 روز تک خون کی ہولی کھیلنے کے بعد مقبوضہ علاقے سے اپنے تمام فوجیوں کو واپس بلانے کا جو اعلان کیا ہے اور جس کے بعد غزہ سے اسرائیلی فوجیوں کی واپسی شروع ہوگئی ہے وہ دیدہ دلیری کی انتہا اور جدید سیاست گروں کی مصلحت اندیشی ، مفاد پرستی اور دو عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے جب کہ مشرق وسطیٰ کی خون بار سیاسی اور سماجی تاریخ میں اسرائیلی بربریت اور دہشت گردی پر ''چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد '' کی مثال صادق آتی ہے۔
غزہ کی اندوہ ناکی نے عالمی برادری کے کردار کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے جو بے لگام اور وحشیانہ طاقت کے غیر انسانی استعمال کی روک تھام میں نہ صرف لاچارگی کی تصویر بنی ہوئی ہے بلکہ صیہونی رعونت، جبر و ستم ، جنگی جرائم اور انسانیت سوزمظالم کے باوجود اسرائیلی چوری اور سینہ زوری کی اس دیدہ دلیری کے سامنے جمہوریت، انصاف ،آزادی اور مشترک انسانی اقدار کا چرچا کرنے اور ڈھنڈورا پیٹنے والے مغربی ممالک اور ان کے باضمیر دانشوروں کی خاموشی حد درجہ افسوس ناک ہے۔
کیا ان کے سیاسی اکابرین کے پاس فلسطینیوں کی مظلومیت پر رد عمل کے چند پر زور احتجاجی الفاظ تک کا قحط پڑگیا ہے ۔تاہم اجتماعی بے حسی کے اس ماحول میں بھی اس نڈر اکیلی امریکی خاتون اور فلسطینی کاز کے حامی یہودی النسل صحافی گیڈون لی سمیت بے شمار انسان دوست اسرائیلی مظالم پر مائل بہ احتجاج ہیں، دنیا کے ہر حصے میں فلسطینیوں اور غزہ پر بمباری کے خلاف صیہونی نسل پرستوں کو مطعون کیا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تین روزہ جنگ بندی کا معاہدہ جو قاہرہ میں فریقین کے بلواسطہ مذاکرات کے نتیجے میں طے پایا تھا کس قدر نتیجہ خیز ثابت ہوتاہے۔
اندازہ کیجیے کہ آٹھ جولائی سے شروع ہونے والی لڑائی میں تقریباً 1900فلسطینی شہید اور نو ہزار زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچوں سمیت اکثریت عام شہریوں کی تھی جب کہ اسرائیل کے فوجیوں سمیت 67 لوگ مارے گئے ۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 430 بچے شہید ہوئے ہیں ۔ان کی خطا کیا تھی؟ امریکا اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اس کی مکمل پاسداری کریں ۔مگر اتنا کہنا کافی نہیں، سلامتی کونسل کو اسرائیل سے باز پرس کرنی چاہیے، امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی کا کہنا تھا کہ امریکا فریقین کے درمیان طویل المدت پائیدار اور دیرپا حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
دریں اثنا تہران میں سیکڑوں طلبا نے فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان' ترکی اور مصر کے سفارتخانوں کے سامنے احتجاج کیا۔ ادھر عرب ممالک کی درخواست پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس بدھ کو ہو گا جب کہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ میں وبائی امراض پھوٹ سکتے ہیں ۔ امریکا میں انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اسرائیلی افواج نے غزہ میں بیگناہ شہریوں کا قتل عام کر کے جنگی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے ۔
غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف واضح موقف نہ اپنانے پر پاکستانی نژاد برطانوی وزیر سعیدہ وارثی نے منگل کو وزارت سے استعفیٰ دیدیا جو ضمیر کی آواز پر بروقت لبیک کہنے کا ایک چشم کشا واقعہ ہے ، یہ لرزہ براندام حکمرانوں اور عالمی ضمیر پر ایک تازیانہ ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ عالم اسلام ، دنیائے عرب اور اہل فلسطین کی اپیل پر غزہ میں بربریت کے خلاف عالمی برادری اور سپر پاورز کے ارباب اختیار ، دانشوروں اور اراکین پارلیمنٹ کو بھی سعیدہ وارثی کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں پاکستانی نژاد سعیدہ وارثی کا کہنا تھا کہ وہ غزہ کے معاملے پر اپنی حکومت کی پالیسی کی مزید حمایت نہیں کر سکتیں ۔ اس لیے انھوں نے دکھ اور افسوس کے ساتھ اپنا استعفیٰ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو بھجوا دیا ۔ سعیدہ وارثی نے اپنے استعفے میں لکھا کہ حکومت کی غزہ کے حوالے سے پالیسی اخلاقی لحاظ سے قابلِ دفاع ہے نہ برطانیہ کے قومی مفاد میں ہے ۔ اس کے ملکی ساکھ پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
سعیدہ وارثی برطانوی کابینہ میں شامل ہونے والی پہلی خاتون مسلمان رکن ہیں جب کہ برطانوی حکمران جماعت کے کئی اراکین نے وزیرِاعظم پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے حوالے سے اپنی پالیسی کو متوازن بنائیں ۔ اسلام آباد میں فلسطین امن کانفرنس کے شرکا نے اقوام عالم سے مطالبہ کیا ہے کہ نہتے فلسطینیوں پر جاری جنگ کے بعد اسرائیل کودہشت گرد ملک قراردیا جائے، عالمی طاقتیں اسرائیل پر پابندیاں عائد کریں، پاکستان علما کونسل کے زیراہتمام فلسطین امن کے موضع پر منعقدہ آل پارٹیزکانفرنس کے اختتام پرجاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ 12 اگست کو اسلامی سربراہ کانفرنس میں فلسطینیوں کے معاملے پر واضع پالیسی اختیارکی جائے۔
پاکستان علما کونسل کے زیراہتمام کل جماعتی کانفرنس میں 30 سے زاہد مذہبی، سیاسی جماعتوں نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی بھرپور مذمت کی ۔ فلسطین امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات پرویزرشید نے کہاکہ اسرائیلی بربریت قابل مذمت ہے ۔ عالمی قوتوں، اقوام متحدہ نے اس مسئلے پر توجہ نہ دی تو دنیا میںدہشت گردی بڑھے گی ۔ اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ تمام اسلامی ممالک اپنا کردار ادا کریں ۔
جے یوآئی(س) کے مولانا سمیع الحق نے اس موقعے پر یاد دلایا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون جب وزیرخارجہ تھے تواس وقت افغانستان میںقید 35نوجوان لڑکیوںکو طالبان نے یرغمال بنا لیا تھا تو اس وقت بانکی مون نے کوریا کے سفیرکے ذریعے مجھے پیغام پہنچایا تھا کہ طالبان سے قیدیوں کی رہائی کے لیے اقدام کیے جائیں۔ اس ضمن میں میرے کہنے پرطالبان نے قیدیوں کو رہا کردیا۔
آج بانکی مون کو فلسطین پرجاری دہشت گردی نظر کیوں نہیں آتی۔ ادھر فلسطین کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے جنگ بندی معاہدے کے فوراً بعد انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (ہیگ) کے پراسیکیوٹر سے ملاقات کی ہے اور ان پر واضح کیا کہ غزہ میں اسرائیلی بربریت کے جنگی جرائم پر مبنی کافی شواہد موجود ہیں ۔انھوں نے کہا کہ 28 روز کی قتل و غارت جنگی جرائم کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔اب انصاف کے منصب پر فائز منصفوں اور عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کا ٹرائل یقینی بنائے ۔