کابل میں امریکی جنرل کی ہلاکت
واقعہ فوری اشتعال کے باعث پیش آیا یا اس کے پیچھے کوئی پلاننگ کارفرما تھ
واقعہ فوری اشتعال کے باعث پیش آیا یا اس کے پیچھے کوئی پلاننگ کارفرما تھی۔ فوٹو؛فائل
ایک ایسے وقت میں جب کہ رواں سال کے آخر میں افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا شروع ہوجائے گا، اگلے روزکابل میں ایک حیرت ناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک افغان فوجی نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں امریکی فوج کا ایک میجر جنرل ہلاک اور دیگر19فوجی زخمی ہوئے جن میں ایک جرمن جنرل ،تین افغان فوجی بھی شامل ہیں۔
جوابی کارروائی میں حملہ آورکے ماردینے کی خبر نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے،کیونکہ افغانستان میں13سالہ جنگ کے دوران امریکی فوج کے سب سے بڑے عہدیدارکی ہلاکت اور زخمی ہونیوالے15امریکی فوجیوں کی حالت نازک ہونا ایک بڑا واقعہ ہے۔ طالبان نے واقعے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرنے والے اہلکارکو اپنا ساتھی قرار دیا ہے جو کہ تین برس قبل فوج میں بھرتی ہوا تھا جب کہ افغان وزارت دفاع نے اس کا انکار کیا ہے بعض ذرایع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فوجی اکیڈمی کی تقریب میں شریک ایک امریکی فوجی اہلکار نے اسلام اور افغانستان سے متعلق توہین آمیز کلمات کہے۔
آیا یہ واقعہ فوری اشتعال کے باعث پیش آیا یا اس کے پیچھے کوئی پلاننگ کارفرما تھی،اس کی تحقیقات کرنا تو افغان سیکیورٹی اداروں کی ذمے داری ہے ۔دوسری جانب مغربی صوبہ ہرات میں نیٹوکے فضائی حملے میں 4 شہری جاں بحق ہونے کی خبرسمیت افغان فورسز کا مختلف علاقوں میں آپریشن کے دوران 33 طالبان جنگجوئوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ اور پرتشدد واقعات میں 5 افغان فوجیوں کی ہلاکت بدامنی کی نشاندہی کر رہی ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان سے امریکی اور اتحادی فوجوں کے انخلا کے بعد دوبارہ یہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا، کیا اتحادی افواج کی زیر تربیت افغان افواج وار لارڈز اور طالبان پر قابو پانے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتی ہیں اور کیا اس کا براہ راست اثر پاکستان پر بھی پڑے گا،جہاں پہلے ہی آپریشن کے باعث متعدد طالبان فرار ہوکر افغانستان میں روپوش ہیں اور ملافضل اللہ سمیت دیگر مطلوب ملزمان افغانستان کی حکومت پاکستان کے حوالے نہیں کر رہی ہے ۔
جوابی کارروائی میں حملہ آورکے ماردینے کی خبر نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے،کیونکہ افغانستان میں13سالہ جنگ کے دوران امریکی فوج کے سب سے بڑے عہدیدارکی ہلاکت اور زخمی ہونیوالے15امریکی فوجیوں کی حالت نازک ہونا ایک بڑا واقعہ ہے۔ طالبان نے واقعے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرنے والے اہلکارکو اپنا ساتھی قرار دیا ہے جو کہ تین برس قبل فوج میں بھرتی ہوا تھا جب کہ افغان وزارت دفاع نے اس کا انکار کیا ہے بعض ذرایع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فوجی اکیڈمی کی تقریب میں شریک ایک امریکی فوجی اہلکار نے اسلام اور افغانستان سے متعلق توہین آمیز کلمات کہے۔
آیا یہ واقعہ فوری اشتعال کے باعث پیش آیا یا اس کے پیچھے کوئی پلاننگ کارفرما تھی،اس کی تحقیقات کرنا تو افغان سیکیورٹی اداروں کی ذمے داری ہے ۔دوسری جانب مغربی صوبہ ہرات میں نیٹوکے فضائی حملے میں 4 شہری جاں بحق ہونے کی خبرسمیت افغان فورسز کا مختلف علاقوں میں آپریشن کے دوران 33 طالبان جنگجوئوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ اور پرتشدد واقعات میں 5 افغان فوجیوں کی ہلاکت بدامنی کی نشاندہی کر رہی ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان سے امریکی اور اتحادی فوجوں کے انخلا کے بعد دوبارہ یہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا، کیا اتحادی افواج کی زیر تربیت افغان افواج وار لارڈز اور طالبان پر قابو پانے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتی ہیں اور کیا اس کا براہ راست اثر پاکستان پر بھی پڑے گا،جہاں پہلے ہی آپریشن کے باعث متعدد طالبان فرار ہوکر افغانستان میں روپوش ہیں اور ملافضل اللہ سمیت دیگر مطلوب ملزمان افغانستان کی حکومت پاکستان کے حوالے نہیں کر رہی ہے ۔