سویڈن کے ساتھ تجارت کا فروغ

دنیا انتہائی تیزی سے گلوبل ولیج میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے اورکوئی بھی ملک اقوام عالم سے کٹ کر نہیں رہ سکتا

دنیا انتہائی تیزی سے گلوبل ولیج میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے اورکوئی بھی ملک اقوام عالم سے کٹ کر نہیں رہ سکتا. فوٹو؛ فائل

سویڈن کے لیے نامزد سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت ممنون حسین نے سویڈن کے ساتھ باہمی تعلقات کے فروغ اورتجارتی حجم کے بڑھانے پر زوردیا ہے، کیونکہ دوطرفہ تجارت کا حجم صرف 297 ملین ڈالر کے قریب ہے جو دونوں ممالک کے درمیان موجود حقیقی تجارتی صلاحیت سے انتہائی کم ہے۔

درحقیقت دنیا انتہائی تیزی سے گلوبل ولیج میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے اورکوئی بھی ملک اقوام عالم سے کٹ کر نہیں رہ سکتا اور نہ اقتصادی اورمعاشی طور پر ترقی کی منازل طے کرسکتا ہے، ماضی کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان میں امن وامان کی صورتحال مخدوش ہوئی تو بیرونی سرمایہ کاری کا عمل بھی رک گیا تھا، لیکن موجودہ حکومت کی تجارت دوست پالیسی کے بدولت ملک میں ایک مرتبہ پھر بیرونی سرمایہ کاری کا رجحان بتدریج فروغ پا رہا ہے۔


سویڈن کی ایکسپورٹ میں شامل ہیں، پیپر ، ٹیلی کمیونی کیشن ، مشینری ، ٹرک ، کیمیکلز ، دھاتی اور دفاعی سازوسامان، سویڈن کی ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں جب کہ سویڈن کی بعض کمپنیوں نے براہ راست پاکستان میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے جب کہ جی ایس پی پلس سے پاکستانی برآمدات کو یورپی منڈیوں تک رسائی بھی حاصل ہو رہی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان وسیع تجارت کے وسیع مواقعے موجود ہیں۔

اس ضمن میں صدر مملکت کا یہ کہنا بجا ہے کہ سویڈن کی کمپنیوں اور بزنس ہائوسزکو بہترین مراعات کی موجودگی کے ساتھ پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے اور اس سلسلے میں ہر سطح پر رابطے کیے جائیں ۔پاکستان کو معاشی واقتصادی میدان میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر اور توانائی کا بحران جلد ازجلد ختم ہو تاکہ دوست ممالک سے باہمی تجارت کے باعث بیروزگاری کا خاتمہ اور ملکی معاشی ترقی کے اہداف پورے کیے جاسکیں اور ایک خوشحال پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔
Load Next Story