کراچی کبھی امن کاگہواراتھاآج تاریکی کا راج ہےشہری
پہلے زبانی لڑائی ہوتی تھی اب ٹکرائو اور جنگ ہوتی ہے، پروگرام تکرار میں عمران خان سے گفتگو
پہلے زبانی لڑائی ہوتی تھی اب ٹکرائو اور جنگ ہوتی ہے، پروگرام تکرار میں عمران خان سے گفتگو
کراچی کبھی امن کا گہوارہ اور روشنیوں کا شہر تھا۔
لوگوں میں محبت تھی ، آپس میں لگائو تھا ، پھر اس شہر کو نظر لگ گئی اب یہاں خوف اور تاریکی کا راج ہے۔ ہم نے اپنی آزادی کھو دی ہے ۔ ہم اپنے حکمرانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہم کو پرانا کراچی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار وہاں کے شہریوں حکیم شبیراؔحمد ، بشیر، عبدالستار، چودھری محمد اکرم، آسیہ اور پروین نے ایکسپریس نیوز کے پروگرام تکرار کے میزبان عمران خان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک زمانہ تھا کہ کراچی میں رت جگا ہوتا تھا۔ شہری اپنی فیملیوں کے ساتھ رات گئے تک گھومتے تھے اور زندگی کا لطف اٹھاتے تھے۔ کوئی ڈر خوف نہیں تھا۔ میلے کا سماں ہوا کرتا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔
ہر طرف امن تھا۔ پھر کراچی کو لسانی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کر دیا گیا۔ اسلحہ کا کلچر چھا گیا۔ پہلے زبانی لڑائی ہوتی تھی اب ٹکرائو اور جنگ ہوتی ہے۔ پہلے موت کا کنواں ایک جگہ لگتا تھا اب ہر جگہ لگتا ہے۔ کبھی یہ شہر پھول تھا اب کانٹا ہے۔ ایک شہر میں ہوتے ہوئے ہم ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں جاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کب کہیں سے گولی آ کر کام تمام کر دے۔ حکومت کو چاہیے کہ پورے ملک بالخصوص کراچی میں تمام اسلحہ ضبط کیا جائے اور نئے اسلحہ لائسنس جاری نہ کیے جائیں۔ پٹھان، پنجابی ، سندھی، بلوچی کا چکر ختم کیا جائے۔
لوگوں میں محبت تھی ، آپس میں لگائو تھا ، پھر اس شہر کو نظر لگ گئی اب یہاں خوف اور تاریکی کا راج ہے۔ ہم نے اپنی آزادی کھو دی ہے ۔ ہم اپنے حکمرانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہم کو پرانا کراچی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار وہاں کے شہریوں حکیم شبیراؔحمد ، بشیر، عبدالستار، چودھری محمد اکرم، آسیہ اور پروین نے ایکسپریس نیوز کے پروگرام تکرار کے میزبان عمران خان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک زمانہ تھا کہ کراچی میں رت جگا ہوتا تھا۔ شہری اپنی فیملیوں کے ساتھ رات گئے تک گھومتے تھے اور زندگی کا لطف اٹھاتے تھے۔ کوئی ڈر خوف نہیں تھا۔ میلے کا سماں ہوا کرتا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔
ہر طرف امن تھا۔ پھر کراچی کو لسانی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کر دیا گیا۔ اسلحہ کا کلچر چھا گیا۔ پہلے زبانی لڑائی ہوتی تھی اب ٹکرائو اور جنگ ہوتی ہے۔ پہلے موت کا کنواں ایک جگہ لگتا تھا اب ہر جگہ لگتا ہے۔ کبھی یہ شہر پھول تھا اب کانٹا ہے۔ ایک شہر میں ہوتے ہوئے ہم ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں جاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کب کہیں سے گولی آ کر کام تمام کر دے۔ حکومت کو چاہیے کہ پورے ملک بالخصوص کراچی میں تمام اسلحہ ضبط کیا جائے اور نئے اسلحہ لائسنس جاری نہ کیے جائیں۔ پٹھان، پنجابی ، سندھی، بلوچی کا چکر ختم کیا جائے۔