ججز کیخلاف کارروائی نیب کا سپریم کورٹ سے رجوع کا فیصلہ

نیب آرڈیننس سیکشن9میں اختیارات کے ناجائز استعمال پرکسی کیخلاف بھی ایکشن لیا جاسکتا ہے

نیب آرڈیننس سیکشن9میں اختیارات کے ناجائز استعمال پرکسی کیخلاف بھی ایکشن لیا جاسکتا ہے ۔ فوٹو: فائل

قومی احتساب بیورو (نیب) نے ججز اور سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کرنے کے حوالے سے نیب آرڈیننس کے دائرہ اختیار سے متعلق سپریم کورٹ سے قانونی رائے لینے کا فیصلہ کرلیاہے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری افسران کی مدت ملازمت میں توسیع پر سپریم کورٹ کی عائد کردہ پابندی کے باوجود رجسٹرار سپریم کورٹ کو دوبارہ توسیع دیے جانے پر نیب نے رجسٹرار کے خلاف کارروائی کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں، نیب ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ کے مطابق ججز اور سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار رکھنے کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے تاکہ نیب آرڈیننس کے دائرہ اختیار سے متعلق عدالت سے قانونی رائے حاصل کی جاسکے۔


ذرائع نے بتایا کہ عدالت سے نیب آرڈیننس کا دائرہ اختیار معلوم کرنے کا مقصد بالخصوص سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین کے خلاف کارروائی کرنا ہے کیونکہ سپریم کورٹ کی طرف سے سرکاری افسروں کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی مدت ملازمت میں توسیع نہ دینے کا حکم دیا گیاہے لیکن اس پابندی کے باوجود رجسٹرار سپریم کورٹ کو دوبار توسیع دی جاچکی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ نیب آرڈیننس کے سیکشن 9 کے تحت نیب اختیارات کے ناجائز استعمال پر کسی کے خلاف ایکشن لے سکتا ہے اور آرڈیننس کا ابتدائیہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ تمام افراد کے خلاف اس کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔

تاہم نیب آرڈیننس کی دفعہ 5 کی ذیلی دفعہ میں سرکاری افسران کی تفصیلات دی گئی ہیں صرف حاضر سروس فوجی افسران نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے کیونکہ ان کے خلاف پاکستان ملٹری لاء کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔ دفعہ 5 کی ذیلی دفعہ میں دی جانے والی لسٹ میں ججز شامل نہیں ہیں اس لیے اس معاملے پر عدالت سے رائے لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ رجسٹرار سپریم کورٹ ڈاکٹر فقیر حسین کھوکھر مارچ 2010ء میں ریٹائر ہوئے تھے تاہم انہیں 2 سال کی توسیع دی گئی اور رواں سال مارچ میں دوسری بار ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی ہے۔
Load Next Story