پاک بھارت مذاکرات پیش رفت ناگزیر
دنیا کے تمام ممالک باہمی تنازعات نمٹا کر اپنے ملک و قوم کی ترقی کے لیے کام کررہے ہیں
دنیا کے تمام ممالک باہمی تنازعات نمٹا کر اپنے ملک و قوم کی ترقی کے لیے کام کررہے ہیں. فوٹو: فائل
پاکستان اور بھارت کے درمیان رواں ماہ کی 25 تاریخ کو اسلام آباد میں پاک بھارت سیکریٹری خارجہ سطح کے مذاکرات ہوں گے، جس میں مسئلہ کشمیر کے علاوہ دہشت گردی، بھارت کو تجارت کے شعبے میں انتہائی پسندیدہ ملک قرار دیے جانے، ویزا پالیسی اور لائن آف کنٹرول پر پائی جانے والی کشیدگی پر جامع بات چیت ہوگی۔پاک بھارت بہتر تعلقات کی بحالی کے لیے اعلیٰ سطح پر کئی بار مذاکرات کیے جاچکے ہیں، ہر بار متنازعہ نکات پر پہنچ کر بات چیت ٹھہرائو کا شکار ہوجاتی ہے۔
پوری پاک بھارت بات چیت کی نشیب وفراز سے بھری تاریخ اس امر کی گواہی دیتی ہے۔ سفارتی ذرایع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ پاکستان کے سفارتی حکام رواں ماہ کے اواخر میں ہونے والے پاک بھارت سیکریٹری خارجہ مذاکرات کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں اور اس حوالے سے ملک کی اعلیٰ قیادت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز جن میں فوجی حکام بھی شامل ہیں، کے ساتھ مشاورت کی گئی ہے۔ ذرایع نے بتایا کہ سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری اور بھارتی سیکریٹری خارجہ سجاتا سنگھ کے درمیان 25 اگست کو ہونے والے مذاکرات میں اگرچہ اولین ترجیح ''جامع مذاکرات''کی بحالی اور اس حوالے سے کسی شیڈول اور کلینڈر پر اتفاق ہوگا تاہم اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی وفد کشمیر سمیت اہم دو طرفہ مسائل پر بات چیت کرے گا، کشمیر کے ساتھ ساتھ سیاچن اور سرکریک پر بات چیت ہوسکتی ہے۔
سیاچن اور سرکریک ایسے معاملات ہیں جو کہ نسبتاً آسانی سے حل ہوسکتے ہیں، بھارت پر زور دیا جائے گا کہ وہ ان تنازعات کے حل کی جانب پیش قدمی کرے ۔ ایک اہم موضوع لائن آف کنٹرول پر پائی جانے والی کشیدگی کا بھی ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ ورکنگ بائونڈری پر بھارتی فائرنگ کا موضوع بھی زیر بحث آسکتا ہے۔ بارڈرز پر بھارتی فائرنگ اور الزام بھارت کا وطیرہ بن چکا ہے، بدھ کو بھی بھارتی میڈیا نے پاک فوج پر بھارتی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ کا الزام عائد کیا، منگل کو بھی بھارت نے ایسا ہی الزام عائد کیا تھا جب کہ حقیقت یہی ہے کہ ہر بار بلااشتعال فائرنگ کے واقعات میں بھارت ملوث ہوتا ہے۔
سیکریٹری خارجہ سطح کے اہم مذاکرات میں اس نکتے پر بات چیت کرنا ازحد ضروری ہے ۔ سفارتی ذرایع نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے جن موضوعات کو سیکریٹری خارجہ سطح مذاکرات میں اٹھائے جانے کا امکان ہے ان میں تجارت کے شعبے میں تعاون اور بالخصوص بھارت کو اس شعبے میں انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کا معاملہ شامل ہے، یہ بھارت کا اہم مطالبہ ہوسکتا ہے ۔بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دیے جانے کا معاملہ ایک عرصہ سے پاکستانی عوام کے درمیان بے چینی کا سبب بنا ہوا ہے، اس معاملے میں بھی ابہام دور کیا جانا اشد ضروری ہے۔
کچھ عاقبت نااندیش سیاستدانوں نے ''موسٹ فیورڈ'' کو ''موسٹ فیورٹ'' کی اصطلاح دے کر پاکستانی عوام کے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی ہے، اگر عوام کے تحفظات دور کردیے جائیں تو یہ معاملہ بحسن خوبی نمٹایا جاسکتا ہے۔ کشمیر، سیاچن اور سرکریک کا معاملہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں ہمیں اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ کشمیر جیسے متنازعہ موضوع پر پہلو تہی بھارت کا وطیرہ ہے اور اس پوائنٹ پر آکر تمام مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہوجاتے ہیں اور ہر سعی لاحاصل ثابت ہوتی ہے ۔ بھارت کو اب یہ روش ترک کرنا ہوگی۔
دنیا کے تمام ممالک باہمی تنازعات نمٹا کر اپنے ملک و قوم کی ترقی کے لیے کام کررہے ہیں جب کہ پاک بھارت دونوں اپنی آزادی کے 68 سال بعد بھی مسئلہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں ناکام ہیں ۔ یاد رہے کہ مسائل سے نگاہیں چرانے یا فرسودہ و جمود زدہ ذہن و حکمت عملی لے کر بھارتی مذاکرات کار مسئلہ حل نہیں کرسکیں گے ۔ وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کے فہمیدہ حلقے ان دیرینہ معاملات کے مستقل اور پائیدار حل کی جانب فیصلہ کن پیش رفت کریں تاکہ خطے میں امن ، ترقی اور خوشحالی کے خوابوں کی تعبیر مل سکے۔
پوری پاک بھارت بات چیت کی نشیب وفراز سے بھری تاریخ اس امر کی گواہی دیتی ہے۔ سفارتی ذرایع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ پاکستان کے سفارتی حکام رواں ماہ کے اواخر میں ہونے والے پاک بھارت سیکریٹری خارجہ مذاکرات کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں اور اس حوالے سے ملک کی اعلیٰ قیادت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز جن میں فوجی حکام بھی شامل ہیں، کے ساتھ مشاورت کی گئی ہے۔ ذرایع نے بتایا کہ سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری اور بھارتی سیکریٹری خارجہ سجاتا سنگھ کے درمیان 25 اگست کو ہونے والے مذاکرات میں اگرچہ اولین ترجیح ''جامع مذاکرات''کی بحالی اور اس حوالے سے کسی شیڈول اور کلینڈر پر اتفاق ہوگا تاہم اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی وفد کشمیر سمیت اہم دو طرفہ مسائل پر بات چیت کرے گا، کشمیر کے ساتھ ساتھ سیاچن اور سرکریک پر بات چیت ہوسکتی ہے۔
سیاچن اور سرکریک ایسے معاملات ہیں جو کہ نسبتاً آسانی سے حل ہوسکتے ہیں، بھارت پر زور دیا جائے گا کہ وہ ان تنازعات کے حل کی جانب پیش قدمی کرے ۔ ایک اہم موضوع لائن آف کنٹرول پر پائی جانے والی کشیدگی کا بھی ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ ورکنگ بائونڈری پر بھارتی فائرنگ کا موضوع بھی زیر بحث آسکتا ہے۔ بارڈرز پر بھارتی فائرنگ اور الزام بھارت کا وطیرہ بن چکا ہے، بدھ کو بھی بھارتی میڈیا نے پاک فوج پر بھارتی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ کا الزام عائد کیا، منگل کو بھی بھارت نے ایسا ہی الزام عائد کیا تھا جب کہ حقیقت یہی ہے کہ ہر بار بلااشتعال فائرنگ کے واقعات میں بھارت ملوث ہوتا ہے۔
سیکریٹری خارجہ سطح کے اہم مذاکرات میں اس نکتے پر بات چیت کرنا ازحد ضروری ہے ۔ سفارتی ذرایع نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے جن موضوعات کو سیکریٹری خارجہ سطح مذاکرات میں اٹھائے جانے کا امکان ہے ان میں تجارت کے شعبے میں تعاون اور بالخصوص بھارت کو اس شعبے میں انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کا معاملہ شامل ہے، یہ بھارت کا اہم مطالبہ ہوسکتا ہے ۔بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دیے جانے کا معاملہ ایک عرصہ سے پاکستانی عوام کے درمیان بے چینی کا سبب بنا ہوا ہے، اس معاملے میں بھی ابہام دور کیا جانا اشد ضروری ہے۔
کچھ عاقبت نااندیش سیاستدانوں نے ''موسٹ فیورڈ'' کو ''موسٹ فیورٹ'' کی اصطلاح دے کر پاکستانی عوام کے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی ہے، اگر عوام کے تحفظات دور کردیے جائیں تو یہ معاملہ بحسن خوبی نمٹایا جاسکتا ہے۔ کشمیر، سیاچن اور سرکریک کا معاملہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں ہمیں اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ کشمیر جیسے متنازعہ موضوع پر پہلو تہی بھارت کا وطیرہ ہے اور اس پوائنٹ پر آکر تمام مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہوجاتے ہیں اور ہر سعی لاحاصل ثابت ہوتی ہے ۔ بھارت کو اب یہ روش ترک کرنا ہوگی۔
دنیا کے تمام ممالک باہمی تنازعات نمٹا کر اپنے ملک و قوم کی ترقی کے لیے کام کررہے ہیں جب کہ پاک بھارت دونوں اپنی آزادی کے 68 سال بعد بھی مسئلہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں ناکام ہیں ۔ یاد رہے کہ مسائل سے نگاہیں چرانے یا فرسودہ و جمود زدہ ذہن و حکمت عملی لے کر بھارتی مذاکرات کار مسئلہ حل نہیں کرسکیں گے ۔ وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کے فہمیدہ حلقے ان دیرینہ معاملات کے مستقل اور پائیدار حل کی جانب فیصلہ کن پیش رفت کریں تاکہ خطے میں امن ، ترقی اور خوشحالی کے خوابوں کی تعبیر مل سکے۔