مثبت معاشی اشاریے اور سیاسی صورتحال

موجودہ حکومت نے خاصے کٹھن معاشی حالات میں اقتدار سنبھالا تھا ۔۔۔

موجودہ حکومت نے خاصے کٹھن معاشی حالات میں اقتدار سنبھالا تھا. فوٹو: فائل

ملک کی حالیہ ہنگامہ خیز اور غیر معمولی صورت حال میں جہاں غیر یقینی اور مایوسی کے بادل چھائے ہوئے ہیں وہاں معیشت کے حوالے سے بہتری کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود ملکی معیشت استحکام کی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بدھ کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حکومت کی ایک سالہ اقتصادی کارکردگی پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سال کے اقتصادی نتائج توقعات سے بڑھ کر ہیں۔ 31 دسمبر سے پہلے زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب ڈالرز تک بڑھانے کا ہدف حاصل کر لیں گے' اگر زرمبادلہ کے ذخائر بہتر نہ ہوتے تو معیشت کا بیڑا غرق ہو جاتا۔ انھوں نے واضح کیا کہ روپے کی قدر میں کمی کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ڈکٹیشن پر ملکی معیشت نہیں چلا رہے' ہم اپنے فیصلے کرنے میں خود مختار ہیں۔ کسی دوست ملک نے مزید ڈھائی ارب ڈالرز دینے کا وعدہ نہیں کیا۔ ہم اپنی معیشت کو خود آگے لے کر جا سکتے ہیں۔ 6 ہزار 900 میگاواٹ کے منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں جب کہ 9 ہزار میگاواٹ کے نئے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ داسو پاور پرجیکٹ کے لیے عالمی بینک سے قرضے کا معاہدہ رواں ماہ ہو گا۔ ایک سال کے اقتصادی نتائج توقعات سے بڑھ کر ہیں۔

موجودہ حکومت نے خاصے کٹھن معاشی حالات میں اقتدار سنبھالا تھا' اس وقت ڈالر کی قیمت 107 روپے سے بھی بڑھ چکی تھی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی کمی ہو رہی تھی' موجودہ حکومت نے اپنے پہلے سال میں مالیاتی محاذ پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور معاشی اشارے مثبت رجحان کو ظاہر کر رہے ہیں۔ گزشتہ روزہونے والی پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا ہے کہ سوئس بینکوں میں محفوظ پاکستانیوں کے 2 سو ارب ڈالرز واپس لانے کے ٹائم فریم کی ضمانت نہیں دے سکتے' ان کی یہ بات خاصی حد تک درست ہے کیونکہ یہ خاصا پیچیدہ معاملہ ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ اگر یہ رقم واپس آجاتی ہے تو اس سے ملکی معیشت پر انتہائی خوشگوار اثرات پڑیں گے۔

اس وقت حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بجلی کے بحران پر قابو پانا ہے۔ بجلی کے بحران نے گھریلو صارفین کو تو متاثر کر ہی رکھا ہے لیکن اس کے کاروباری سرگرمیوں پر اثرات زیادہ گہرے ہیں۔ حکومت نے برسراقتدار آتے ہی اس جانب کام شروع کیا ہے اور اس کے مثبت اثرات سامنے آنے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ حکومت نے بجلی کے جو منصوبے شروع کر رکھے ہیں' اگر وہ بروقت مکمل ہو جاتے ہیں تو آنے والے تین چار برس میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں خاطر خواہ کمی آ جائے گی۔


یہ امر اطمینان بخش ہے کہ اس وقت ملک بھر میں 6 ہزار 9 سو میگاواٹ بجلی کے منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں' اگر یہ منصوبے بھی آیندہ دو تین برس میں مکمل ہو جاتے ہیں تو بجلی کی لوڈشیڈنگ تقریباً ختم ہو جائے گی تاہم حکومت کو پاور سیکٹر میں بقایا جات کی وصولی کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ بقایا جات کی یہ رقم 263 ارب روپے پر مشتمل ہے۔ اگر یہ ساری رقم وصول کر لی جاتی ہے تو اس سے واپڈا مالی مشکل سے نکل سکتا ہے۔ یہ امر تشویشناک ہے کہ پاکستان میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پچاس فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقتصادی ترقی کے فوائد عام آدمی تک نہیں پہنچ رہے اور ملک میں ارتکاز دولت میں اضافہ ہو رہا ہے' امیر زیادہ امیر اور غریب زیادہ غریب ہو رہا ہے۔ حکومت کو اس حوالے سے جامع پالیسی اختیار کرنی چاہیے تاکہ اقتصادی ترقی کے ثمرات نچلی سطح تک پہنچ سکیں کیونکہ کسی بھی حکومت کو اس وقت تک کامیاب اور اچھی حکومت قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک وہ غریبوں کو فائدہ نہیں پہنچاتی اور مہنگائی میں کمی نہیں کرتی۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ برس مہنگائی کی شرح 8 اعشاریہ 6 فیصد رہی جو مالی سال 2012-13 میں 4ء 7 تھی' اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی اور افراط زر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آج کل بھی صورتحال یہ ہے کہ مارکیٹ میں روز مرہ استعمال کی اشیاء خصوصاً پھل اور سبزیاں بہت مہنگی ہو گئی ہیں۔ ملک کا غریب طبقہ عموماً سبزی دال استعمال کرتا ہے' اگر ان اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ غریب پر مالی بوجھ بڑھ گیا ہے۔ بہر حال حکومت کی مالی پالیسیوں اور سیاسی استحکام کے باعث گزشتہ پورے برس میں ملک کی اسٹاک مارکیٹوں نے اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔

حکومت نے معیشت کے شعبے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اقتصادی ترقی کی شرح کو تیز کرنے میں سیاسی استحکام اور امن و امان انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ گزشتہ برس سیاسی محاذ پر کوئی اتار چڑھائو نظر نہیں آیا لیکن گزشتہ دو تین ماہ سے ملک میں سیاسی گرما گرمی اور ہنگامہ خیز میں اضافہ ہوا ہے۔ جس سے ملک میں ایک بار پھر غیر یقینی کی صورت حال جنم لینے کا خدشہ موجود ہے۔

ایسے حالات میں حکومت اور اپوزیشن کو ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے' سیاسی اختلافات جمہوریت کا لازمی حصہ ہوتے ہیں لیکن جمہوریت میں گھیراؤ جلاؤ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی' اپوزیشن کے جو جائز اور آئینی مطالبات ہیں' حکومت کو چاہیے کہ وہ ان پر غور کر کے انھیں پورا کرنے کی کوشش کرے اور اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ حالات کو اس نہج پر لائے جہاں جمہوریت کا ہی بوریا بستر گول ہو جائے' ملک کی تمام جمہوری قوتوں کو موجودہ حالات میں ہوش مندی اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے' اگر ملک میں سیاسی استحکام رہا تو پھر معیشت بھی ترقی کرے گی۔
Load Next Story