بلوچستان سیلاب زدہ اضلاع کیلئے 26ارب امداد کا اعلان حکومت کا بلور کے انعام سے اظہار لاتعلقی
بلوچ عوام کی مدد و بحالی کیلیے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے، راجا پرویز اشرف مواصلات فوری بحال کرنے کی ہدایت
وزیر اعظم سیلاب زدگان میں امدادی چیک تقسیم کررہے ہیں۔ فوٹو: پی پی آئی
وزیر اعظم نے بلوچستان کے اضلاع نصیرآباد ، جعفرآباد اور جھل مگسی کے سیلاب متاثرین کوخوراک کی فراہمی کے لیے 60کروڑ ،انفرااسٹرکچر کی بحالی کے لیے2 ارب اورجاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے فی کس 4لاکھ روپے کی فوری فراہمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہم اپنے بلوچ بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
بلوچستان ہمارے لیے اہم ہے، صدر آصف علی زرداری ،وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی میں سنجیدہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم نے کچھی کینال سمیت صوبے کے تمام میگا پروجیکٹس کے لیے یکمشت اور بلا تعطل فنڈز کی فراہمی کے احکامات جاری کیے ہیں اور ان منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی کے لیے ہمیں اگر کوئی میگاپروجیکٹ ختم کرنا پڑا تو وہ بھی کریںگے۔ اتوار کو ڈیرہ مراد جمالی میں متاثرہ اضلاع کے دورے کے بعد علاقائی عمائدین، وفاقی و صوبائی وزراء اور حکام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حالیہ سیلاب اور بارشوں سے بڑی تباہی ہوئی ہے، حالیہ برساتی آفت پوری قوم کے لیے چیلنج ہے اور ہماری ہر ممکن کوشش ہے کہ متاثرین کی مدد و بحالی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں اور متاثرین تک امداد پہنچائیں۔
انھوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کوہدایت کی کہ متاثرہ اضلاع میں ہنگامی بنیادوں پر 20ہزار خیمے فراہم کرکے متاثرین کو فوری امداد فراہم کی جائے جبکہ بجلی ، گیس ،ذرائع مواصلات کی جلد از جلد بحالی کے لیے متعلقہ محکموں کو فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔وزیر اعظم نے فیڈر کینال کا شگاف پر کرنے کے لیے واٹر اینڈ پاور وزارت کو محکمہ آبپاشی کی مدد کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کینال سسٹم کو جلد از جلد بحال کرنے کا حکم دیا۔وزیر اعظم کی آمد کے موقع پر ڈیرہ مراد جمالی میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔وزیر اعظم کے دورہ نصیر آباد کے موقع پر گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی، سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی، چیف سیکریٹری بابر فتح محمد یعقوب ودیگر بھی موجود تھے۔
بلوچستان ہمارے لیے اہم ہے، صدر آصف علی زرداری ،وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی میں سنجیدہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم نے کچھی کینال سمیت صوبے کے تمام میگا پروجیکٹس کے لیے یکمشت اور بلا تعطل فنڈز کی فراہمی کے احکامات جاری کیے ہیں اور ان منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی کے لیے ہمیں اگر کوئی میگاپروجیکٹ ختم کرنا پڑا تو وہ بھی کریںگے۔ اتوار کو ڈیرہ مراد جمالی میں متاثرہ اضلاع کے دورے کے بعد علاقائی عمائدین، وفاقی و صوبائی وزراء اور حکام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حالیہ سیلاب اور بارشوں سے بڑی تباہی ہوئی ہے، حالیہ برساتی آفت پوری قوم کے لیے چیلنج ہے اور ہماری ہر ممکن کوشش ہے کہ متاثرین کی مدد و بحالی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں اور متاثرین تک امداد پہنچائیں۔
انھوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کوہدایت کی کہ متاثرہ اضلاع میں ہنگامی بنیادوں پر 20ہزار خیمے فراہم کرکے متاثرین کو فوری امداد فراہم کی جائے جبکہ بجلی ، گیس ،ذرائع مواصلات کی جلد از جلد بحالی کے لیے متعلقہ محکموں کو فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔وزیر اعظم نے فیڈر کینال کا شگاف پر کرنے کے لیے واٹر اینڈ پاور وزارت کو محکمہ آبپاشی کی مدد کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کینال سسٹم کو جلد از جلد بحال کرنے کا حکم دیا۔وزیر اعظم کی آمد کے موقع پر ڈیرہ مراد جمالی میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔وزیر اعظم کے دورہ نصیر آباد کے موقع پر گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی، سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی، چیف سیکریٹری بابر فتح محمد یعقوب ودیگر بھی موجود تھے۔