آپریشن ضرب عضب کا دوسرا مرحلہ شروع عیدک کے مکینوں کو نقل مکانی کی ہدایت
آئندہ2سے3دنوں میں 30ہزار تک نئے آئی ڈی پیز بنوں پہنچیں گے
متاثرین کیلیے 2.8ارب روپے جاری کردیے، چھٹیوں کے اختتام سے پہلے آئی ڈی پیز سے اسکول خالی کرالیے جائینگے، ایڈیشنل سیکریٹری سیفران۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
شمالی وزیرستان میں دہشتگردی کیخلاف جاری فوجی آپریشن کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے عیدک کے مکینوں سے کہا ہے کہ وہ علاقہ چھوڑ کر نکل جائیں۔
وزارت سیفران کے ایڈیشنل سیکریٹری طارق حیات خان کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آئندہ 2 سے 3 دنوں میں 30 ہزار تک نئے آئی ڈی پیز بنوں پہنچیں گے، نئے آنیوالے آئی ڈی پیز کیلیے سیدگئی کے مقام پر رجسٹریشن سینٹر دوبارہ قائم کر دیاگیا ہے، جن لوگوں نے افغانستان نقل مکانی کی تھی ان میں سے 28ہزار کے لگ بھگ افراد کرم ایجنسی کے راستے واپس پہنچ گئے ہیں، ان کیلیے علی زئی کے مقام پر رجسٹریشن سینٹر قائم کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہاکہ آئی ڈی پیز کیلیے حکومت نے اب تک 2.8ارب روپے جاری کیے ہیں، 10لاکھ رجسٹرڈ آئی ڈی پیز میں سے نادرا نے 5 لاکھ 73ہزار افراد کی تصدیق کر لی۔ خیبرپختونخوا میں موسم گرما کی چھٹیوں کے اختتام سے پہلے آئی ڈی پیز سے اسکول خالی کرالیے جائینگے تا کہ تعلیمی عمل میں رکاوٹ نہ بنے جبکہ بے گھر ہونے افراد کے بچوں کی تعلیم و تربیت کیلیے جامع حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے۔ انھوں نے سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ بے گھر افراد پاکستان کے شہری اور ہمارے بھائی ہیں ان کی مدد کیلیے آگے آئیں۔
وزارت سیفران کے ایڈیشنل سیکریٹری طارق حیات خان کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آئندہ 2 سے 3 دنوں میں 30 ہزار تک نئے آئی ڈی پیز بنوں پہنچیں گے، نئے آنیوالے آئی ڈی پیز کیلیے سیدگئی کے مقام پر رجسٹریشن سینٹر دوبارہ قائم کر دیاگیا ہے، جن لوگوں نے افغانستان نقل مکانی کی تھی ان میں سے 28ہزار کے لگ بھگ افراد کرم ایجنسی کے راستے واپس پہنچ گئے ہیں، ان کیلیے علی زئی کے مقام پر رجسٹریشن سینٹر قائم کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہاکہ آئی ڈی پیز کیلیے حکومت نے اب تک 2.8ارب روپے جاری کیے ہیں، 10لاکھ رجسٹرڈ آئی ڈی پیز میں سے نادرا نے 5 لاکھ 73ہزار افراد کی تصدیق کر لی۔ خیبرپختونخوا میں موسم گرما کی چھٹیوں کے اختتام سے پہلے آئی ڈی پیز سے اسکول خالی کرالیے جائینگے تا کہ تعلیمی عمل میں رکاوٹ نہ بنے جبکہ بے گھر ہونے افراد کے بچوں کی تعلیم و تربیت کیلیے جامع حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے۔ انھوں نے سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ بے گھر افراد پاکستان کے شہری اور ہمارے بھائی ہیں ان کی مدد کیلیے آگے آئیں۔