انیتا غلام علی کی رحلت…ایک بڑا علمی نقصان

انتیا غلام علی کچھ عرصے قبل ہی سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹرکے عہدے سے سبکدوش ہوئی تھیں

انتیا غلام علی کچھ عرصے قبل ہی سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹرکے عہدے سے سبکدوش ہوئی تھیں. فوٹو؛فائل

معروف ماہر تعلیم پروفیسر انیتا غلام علی طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کرگئیں۔ ان کی عمر 82 برس تھی، مرحومہ 2 مرتبہ سندھ کی وزیرتعلیم بھی رہیں، تعلیمی خدمات کے اعتراف میں انھیں تمغہ حسن کارکردگی، ستارہ امتیاز اور بینظیر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔

ناقدری زمانہ کی اس سے بڑھ کر شکایت کیا ہوگی کہ تعلیم کے شعبے میں بے پناہ خدمات انجام دینے والی کے نماز جنازہ میں وزارت و شعبہ تعلیم سے کسی بھی قابل ذکر شخصیت نے شرکت نہیں کی ۔ وہ نہ صرف بہترین منتظم تھیں بلکہ اساتذہ کی نمائندگی کا تاریخی حوالہ بھی تھیں، انیتا غلام علی کی فروغ تعلیم اور اساتذہ کے حقوق، سندھ کی ثقافت، تہذیب و تمدن کے لیے خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ انیتا غلام علی کو لازمی پرائمری تعلیم کے سلسلے میں 2000 میں سینیگال میں منعقدہ ڈکار کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی اوراس کی دستاویزات پر دستخط کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ سندھ کی سابق وزیرتعلیم کے علاوہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی بانی منیجنگ ڈائریکٹر بھی تھیں، انھیں سابق صدر پرویز مشرف کے ابتدائی دور میں سندھ حکومت میں وزیرتعلیم مقرر کیا گیا تھا۔


انتیا غلام علی کچھ عرصے قبل ہی سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹرکے عہدے سے سبکدوش ہوئی تھیں جس کے بعد تاحال اس عہدے پر کسی ماہرتعلیم کی تقرری نہیں ہوسکی ہے۔ انیتا غلام علی نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کاآغاز 1961 میں لیکچرار کے طور پر سندھ مسلم سائنس کالج سے کیا تھا۔ کالجوں کوقومیائے جانے کی تحریک کا حصہ بھی رہیں۔ 1990 میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن قائم ہوا تو انیتا غلام علی اس کی منیجنگ ڈائریکٹر مقرر ہوئیں۔

1992 میں وہ اپنی سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئیں اور رواں سال جنوری تک مسلسل سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتی رہیں۔ مرحومہ کے انتقال پر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ، وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ، پیرمظہرالحق، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین ، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی اور دیگر رہنماؤں نے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے، اپنے الگ الگ تعزیتی پیغامات میں انیتا غلام علی کی تعلیم کے شعبے اور پاکستان کے لیے خدمات پر ان کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کی رحلت ایک بڑا علمی نقصان ہے ۔
Load Next Story