سندھ کا زرعی آمدن پر 45 فیصد ٹیکس کے فیصلے سے یوٹرن

پنجاب کی طرح طے شدہ شرح ایک سال کے لیے مؤخر، 15 فیصد شرح بحال

اسلام آباد:

سندھ حکومت نے زرعی آمدنی پر 45 فیصدتک کے نئے ٹیکس ریٹس کے نفاذ کو ایک سال کیلیے مؤخرکرتے ہوئے پرانی 15 فیصد کی زیادہ سے زیادہ شرح بحال کر دی۔

حکومتِ سندھ نے یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا کہ نئے نرخ یکم جنوری 2025 سے نافذ نہیں کیے جا سکتے، اس فیصلے کے نتیجے میں زرعی شعبہ، جو قومی معیشت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے، آئندہ بھی محض چند ارب روپے ٹیکس کی مد میں ادا کریگا، جبکہ صرف تنخواہ دار طبقے نے مالی سال 2024-25 میں 575 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے ‘‘سندھ ایگریکلچر انکم ٹیکس (ترمیمی)آرڈیننس 2025’’ جاری کیا، جس کے ذریعے آئی ایم ایف سے طے شدہ شرحوں کو ایک سال کیلیے معطل کر دیا گیا۔

صوبائی ریونیو بورڈکے سینئرافسرکے مطابق سندھ حکومت نے یہ اقدام پنجاب حکومت کی پیروی میں کیا ہے، جس نے گزشتہ ماہ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے یہی فیصلہ کیا تھا۔

نئے آرڈیننس کے مطابق یکم جنوری 2025 سے 30 جون 2025 تک زرعی آمدنی پر وہی پرانے نرخ لاگو ہوں گے جو ‘‘سندھ ایگریکلچر انکم ٹیکس آرڈیننس 2000’’ کے تحت نافذ تھے، اس طرح کسان سالانہ 12 لاکھ روپے تک آمدن پر کوئی ٹیکس ادا نہیں کرے گا،جبکہ تنخواہ دار طبقے کیلیے یہی حد صرف 6 لاکھ روپے ہے۔

مزید تفصیلات کے مطابق 24 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر اب صرف 5 فیصد ٹیکس، 48 لاکھ روپے پر 10 فیصد، اور 48 لاکھ روپے سے زائد آمدنی پر 15 فیصد ٹیکس لاگو ہو گا، جبکہ وفاقی حکومت ان ہی آمدنی کی حدوں پر بالترتیب 30 فیصد، 40 فیصد اور 45 فیصد تک ٹیکس وصول کرتی ہے۔

ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے ایک اور ترمیم کے ذریعے یہ اختیار بھی حاصل کر لیاکہ  بغیر قانون میں ترمیم کے کسی بھی وقت محض نوٹیفکیشن کے ذریعے ٹیکس شرحوں میں تبدیلی کی جا سکے گی۔

ناقدین کے مطابق یہ عمل صوبائی اسمبلی کے اختیارات کو محدود کرتا ہے اور پارلیمانی روایات کے منافی ہے۔

دوسری جانب آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی منظوری کے حوالے سے ابھی کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

حکام کاکہنا ہے کہ صوبائی حکومتیں دونوں اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں، تاکہ عملی مشکلات کو حل کیا جا سکے۔

Load Next Story