14 اگست کو خون خرابہ نہیں ہونا چاہیے نواز شریف غزہ پر او آئی سی اجلاس بلائیں سراج الحق
اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالم اسلام پر قبرستان کی سی خاموشی ہے،17 اگست کو کراچی میں ملین مارچ ہوگا
ملک میں تماشا نہ لگائیں کہ دشمن کو بغلیں بجانے کا موقع ملے، ریلی سے خطاب، سیاسی صورتحال پر اجلاس آج طلب۔ فوٹو: فائل
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ اگر عالم اسلام کے حکمراں جہاد کے لیے تیار نہیں تو ہمارا راستہ چھوڑ دیں، لاکھوں نوجوان اپنی جان فلسطین اور کشمیر پر نچھاور کرنے کے لیے تیار ہیں۔
نوازشریف غزہ کی صورتحال پر او آئی سی کا اجلاس بلائیں، 14 اگست کو ملک میں خون خرابہ نہیں ہوناچاہیے، ایسا تماشا نہ لگایا جائے جس سے دشمن کو بغلیں بجانے کا موقع ملے۔ اسلام آباد میں لبیک قبلہ اول ریلی سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد امریکا نے عالم اسلام کی نصابی کتب سے جہاد کی آیات نکلوانے کی کوشش کی، اسرائیل نے غزہ کو کھنڈر میں تبدیل کردیا، ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کیا مگر ان کے عزم وحوصلے کو شکست نہیں دے سکا۔
سعیدہ وارثی نے احتجاجاً استعفیٰ دے کر عالم اسلام کے حکمرانوں کو غیرت دلانے کی کوشش کی، لندن اور شکاگو میں لاکھوں لوگوں نے مظاہرے کیے مگر عالم اسلام پر قبرستان کی سی خاموشی ہے، یہاں کوئی صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم حکمراں نہیں، 58 ممالک کے حکمرانوں کو خطوط لکھے مگر جواب نہیں آیا، نواز شریف اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور او آئی سی کا اسلام آباد میں اجلاس بلا کر مقبوضہ مسلم علاقوں کی آزادی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنائیں۔
مصر اور کئی دیگر عرب ممالک اسرائیل کے مدد گار بنے ہوئے ہیں، کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لیے عالمی تحریک کا آغاز کر دیا، 17 اگست کو کراچی میں'' لبیک یا غزہ ''کے نام سے ملین مارچ ہوگا جس میں لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔ شرکا سے وزیراطلاعات پرویز رشید، نائب امیر جماعت اسلامی میاں اسلم اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
دریں اثنا اے پی پی کے مطابق سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں سراج الحق نے کہا کہ حکومت اور تحریک انصاف سے رابطے میں ہوں، تحریک انصاف اپنے فیصلے میں آزاد ہے۔ ایک اور ٹی وی کے مطابق انکا کہنا تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی مخالف افواج نہیں جو لڑنے کیلیے نکلے ہیں، کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے۔ این این آئی کے مطابق انکا کہنا تھا کہ مذاکرات اور سیاسی روایات کا احترام نہیں کیا جاتا تو پھر تیسرا فریق فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
نوازشریف غزہ کی صورتحال پر او آئی سی کا اجلاس بلائیں، 14 اگست کو ملک میں خون خرابہ نہیں ہوناچاہیے، ایسا تماشا نہ لگایا جائے جس سے دشمن کو بغلیں بجانے کا موقع ملے۔ اسلام آباد میں لبیک قبلہ اول ریلی سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد امریکا نے عالم اسلام کی نصابی کتب سے جہاد کی آیات نکلوانے کی کوشش کی، اسرائیل نے غزہ کو کھنڈر میں تبدیل کردیا، ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کیا مگر ان کے عزم وحوصلے کو شکست نہیں دے سکا۔
سعیدہ وارثی نے احتجاجاً استعفیٰ دے کر عالم اسلام کے حکمرانوں کو غیرت دلانے کی کوشش کی، لندن اور شکاگو میں لاکھوں لوگوں نے مظاہرے کیے مگر عالم اسلام پر قبرستان کی سی خاموشی ہے، یہاں کوئی صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم حکمراں نہیں، 58 ممالک کے حکمرانوں کو خطوط لکھے مگر جواب نہیں آیا، نواز شریف اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور او آئی سی کا اسلام آباد میں اجلاس بلا کر مقبوضہ مسلم علاقوں کی آزادی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنائیں۔
مصر اور کئی دیگر عرب ممالک اسرائیل کے مدد گار بنے ہوئے ہیں، کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لیے عالمی تحریک کا آغاز کر دیا، 17 اگست کو کراچی میں'' لبیک یا غزہ ''کے نام سے ملین مارچ ہوگا جس میں لائحہ عمل کا اعلان کروں گا۔ شرکا سے وزیراطلاعات پرویز رشید، نائب امیر جماعت اسلامی میاں اسلم اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
دریں اثنا اے پی پی کے مطابق سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں سراج الحق نے کہا کہ حکومت اور تحریک انصاف سے رابطے میں ہوں، تحریک انصاف اپنے فیصلے میں آزاد ہے۔ ایک اور ٹی وی کے مطابق انکا کہنا تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی مخالف افواج نہیں جو لڑنے کیلیے نکلے ہیں، کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے۔ این این آئی کے مطابق انکا کہنا تھا کہ مذاکرات اور سیاسی روایات کا احترام نہیں کیا جاتا تو پھر تیسرا فریق فائدہ اٹھا سکتا ہے۔