جدید ٹیکنالوجی سے بننے والی ہالی وڈ فلموں سے سینما کی رونقیں بحال ہونگی
ایک بات تو طے ہے کہ اگر راتوں رات دنیا بھرمیں شہرت پانی ہو تو پھر ہالی وڈ سے بہترین فلم انڈسٹری کوئی دوسری نہیں۔
ایک بات تو طے ہے کہ اگر راتوں رات دنیا بھرمیں شہرت پانی ہو تو پھر ہالی وڈ سے بہترین فلم انڈسٹری کوئی دوسری نہیں۔ فوٹو : فائل
بلاشبہ ہالی وڈ دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری ہے۔
وہاں بننے والی فلمیں منفرد اورمضبوط کہانیوں، کرداروں اور خوبصورت لوکیشنز کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے باعث اپنی منفرد شناخت رکھتی ہیں۔ ایک بات تو طے ہے کہ اگر راتوں رات دنیا بھرمیں شہرت پانی ہو تو پھر ہالی وڈ سے بہترین فلم انڈسٹری کوئی دوسری نہیں۔ وہاں بننے والی فلموں کے ذریعے متعدد فنکار اپنی پہلی ہی فلم کی نمائش کے بعد کامیابی کی بلندیوں پر پہنچ گئے اوران کا راج آج بھی اسی طرح قائم ودائم ہے۔
دیکھا جائے توہمارے پڑوسی ملک بھارت کوبھی اب تودنیا کی مقبول ترین فلم انڈسٹریوں کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے لیکن ہالی وڈ کی طرح حیرت انگیز فلمیں بنانے کیلئے بھارتی فلم انڈسٹری کوابھی بہت لمبی اور''کامیاب'' اننگز کھیلنا پڑے گی، اس کے بنا ہالی وڈ تک پہنچناان کے بس کی بات نہیں۔
ہالی وڈ میں بننے والی فلموں کی کامیابی کا تناسب اتنا زیادہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں بنائی جانے والی فلم صرف ایک ہفتہ میں نمائش کے دوران اتنا بزنس نہیں کرپاتی ، جتنا ہالی وڈ کی ایک فلم کرتی ہے۔ بلکہ ہرسال ہالی وڈ کی فلمیں بہترین بزنس کے نئے ریکارڈ قائم کرتی ہیں۔ ہالی وڈ فلمیں پاکستان سمیت دنیا کے بیشترممالک میں دیکھی اور پسند کی جاتی ہیں جہاں پر انگریزی زبان بولنے اورسمجھنے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے لیکن اس کے باوجود ہالی وڈ کے فنکارلوگوں کے دلوں پرراج کرتے ہیں۔
بات کی جائے پاکستان کی تو 70ء سے لے کر90ء کی دہائی تک امپورٹ قوانین کے تحت لائی جانیوالی ہالی وڈ فلموں کی پاکستانی فلموں کے ساتھ نمائش کی جاتی تھی اور فلم بینوں کی کثیر تعداد پاکستانی فلموں کے ساتھ ساتھ معمول کے مطابق انگریزی فلمیں بھی دیکھا کرتی تھی۔ عیدالفطر، عیدالاضحیٰ، جشن آزادی سمیت دیگر تہواروں کے موقع پر سینما مالکان کی کوشش ہوا کرتی تھی کہ ہالی وڈ کی ایسی فلمیں نمائش کیلئے پیش کی جائیں جن کو دیکھنے کیلئے فلم بین اپنی فیملیز کے ہمراہ سینما گھروں کا رخ کریں۔
ان میں ''جیمزبانڈ سیریز''، ''انڈیانا جونز ''، ''ٹرمینیٹر''، ''سائی بورگ''، ''راکی''، ''فرسٹ بلڈ''، ''ان دی لائن آف ڈیوٹی''، '' مشن امپوسیبل''، '' فاسٹ اینڈ فیورس''، ''کنگ فوکڈز''، ''کنگ کانگ''، ''بریوہارٹ''، '' سپائیڈرمین''، ''سپرمین''، '' ڈسپراڈو''، ''ٹائی ٹینک''، ''بلیڈ''، ''پریٹی وویمن''، ''ان ڈیسنٹ پرپوزل''، ''دی ماسک''، ''بیٹ مین''، ''جراسک پارک''، '' مین ان بلیک''، ''ہرکولیس''، ''شارک''، ''بیک ٹو دی فیوچر''، ''ہوم آلون''، ''بے بیز ڈے آؤٹ''، ''جمان جی''، ''سپیڈ''، ''پائریٹ آف دی کیربینز''، ''ٹارزن''، ''پیرانا''، ''گولیورز ٹریولز''، ''بلیک کیٹ''، ''ڈائی ہارڈ''، ''سن آف گاڈ''، ''گاڈ زیلا''،''دی کلر''، ''کمانڈو''، ''ٹول ری کال''، ''بلڈ سپورٹس''، '' ڈبل امپکیٹ''، ''کونان دی باربیرن''، '' ٹریولائز''، ''کک باکسر''،
''یونیورسل سولجر''، ''ہارڈ ٹارگٹ''، '' سنیک ان دی ایگل شیڈو''، '' شھنگائی نائٹس''، ''دی میتھ''، ''رش آوور''، '' پولیس سٹوری''، ''رن وے برائیڈ''، ''سیٹسفیکشن''، ''دی بلیولیگون''، ''فری وے''، ''دی ویک اینڈ''، ''راکی''، ''ریمبو''، ''لاک اپ''، ''ڈے لائٹ''، ''دی سپیشلسٹ''، ''کلف ہینگر''، ''وانٹڈ''، ''ٹورسٹ''، ''سالٹ''، ''الیگزینڈر''، ''ٹریووویمن'' اور''دی میٹرکس'' سمیت لاتعداد فلمیں شامل ہیں جن کی بدولت پاکستان میں انگریزی فلموں کودیکھنے کا رجحان فروغ پایا۔ ہالی وڈسٹار مارلن برانڈ، سین کونری، الپاچینو، رابرٹ ڈی نیرو، سلویسٹر سٹالون، آرنلڈ شیوارزنیگر، وین ڈیم، ہیرسن فورڈ، جیکی چن، مائیکل ڈگلس، چک نورس، کرسٹوفرلی، میل گبسن، کیون کوسٹنر، نکلس کیج، جارج کلونی، ٹومی لی جونز، روبن ولیمز، لینارڈو کیپریو، جانی ڈپ، ٹام ہینکس، جم کیری، ول سمتھ، ٹام کروز، راجر موور، کینوریو، ڈیمی مور، شیرون سٹون، بروک شیلڈ، انجلینا جولی، براڈ پٹ، جولیا رابرٹس، پینی لوپ کروز، کیتھرین زیٹا جونز، کیمرون ڈیاز، ایمی ایڈمز، ریچل ویزز، جینفرکیلونی، ہیلی بیری، نومی واٹز، سانڈرا بلوک، نکول کڈمین، ہیلن مرن، کیٹ ونسلٹ، صوفیہ لورین، جوڈی فوسٹر سمیت دیگرسٹارز کی فلمیں پاکستان میں دیکھی گئیں اوران کوپسند بھی کیا گیا۔
پاکستان میں ایک مرتبہ پھر سے سینما انڈسٹری فروغ پارہی ہے۔ ملک بھرمیں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ سینما گھر بنائے جارہے ہیں لیکن ان سینما گھروں میں ہالی وڈ فلموں کے مقابلے بالی وڈ فلموں کو زیادہ ترجیح دی جارہی ہے۔
ایک طرف تو سینما مالکان اور امپورٹرز کی خواہش ہے کہ وہ بھارتی فنکاروں کی فلمیں سینما گھروں میں نمائش کیلئے پیش کرکے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کریں لیکن دوسری جانب فلم بینوں کی وہ بڑی تعداد اب ہالی وڈ فلمیں دیکھنے سے محروم ہے جوآج بھی ماضی کی طرح ہالی وڈ کی جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ، ایکشن، رومانوی، کامیڈی اورہارر فلمین دیکھنا چاہتی ہے۔
اس لئے ضروری ہے کہ جہاں غیرملکی فلمیں امپورٹ کرنے و الے ادارے بھارتی فنکاروں کی فلمیں امپورٹ کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں ، وہیں انہیں ہالی وڈ کی بہترین فلمیں بھی ضرور امپورٹ کرنی چاہئیں۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس رجحان کودوبارہ سے فروغ دینے کیلئے ایک پرائیویٹ کمپنی ''آئم ایم جی سی'' نے باقاعدہ ہالی وڈسٹارز کی فلمیں امپورٹ کرلی ہیں لیکن اب اس کے ساتھ ساتھ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان میں کامیاب بزنس کرنیوالی بھارتی فنکاروں کی فلموں کے سامنے ہالی وڈ سٹارز کی فلمیں کامیاب ہوپائیں گی یا نہیں ؟ اس کافیصلہ آنے والے چند ماہ کے دوران نمائش کیلئے پیش کی جانیوالی فلموں کے ذریعے سامنے آئے گا۔
اگر یہ رجحان فروغ پاگیا تو پھر بھارتی فلموں کے قائم ہوتے راج کے خاتمے کو کوئی نہیں روک پائے گا۔
وہاں بننے والی فلمیں منفرد اورمضبوط کہانیوں، کرداروں اور خوبصورت لوکیشنز کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کے باعث اپنی منفرد شناخت رکھتی ہیں۔ ایک بات تو طے ہے کہ اگر راتوں رات دنیا بھرمیں شہرت پانی ہو تو پھر ہالی وڈ سے بہترین فلم انڈسٹری کوئی دوسری نہیں۔ وہاں بننے والی فلموں کے ذریعے متعدد فنکار اپنی پہلی ہی فلم کی نمائش کے بعد کامیابی کی بلندیوں پر پہنچ گئے اوران کا راج آج بھی اسی طرح قائم ودائم ہے۔
دیکھا جائے توہمارے پڑوسی ملک بھارت کوبھی اب تودنیا کی مقبول ترین فلم انڈسٹریوں کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے لیکن ہالی وڈ کی طرح حیرت انگیز فلمیں بنانے کیلئے بھارتی فلم انڈسٹری کوابھی بہت لمبی اور''کامیاب'' اننگز کھیلنا پڑے گی، اس کے بنا ہالی وڈ تک پہنچناان کے بس کی بات نہیں۔
ہالی وڈ میں بننے والی فلموں کی کامیابی کا تناسب اتنا زیادہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں بنائی جانے والی فلم صرف ایک ہفتہ میں نمائش کے دوران اتنا بزنس نہیں کرپاتی ، جتنا ہالی وڈ کی ایک فلم کرتی ہے۔ بلکہ ہرسال ہالی وڈ کی فلمیں بہترین بزنس کے نئے ریکارڈ قائم کرتی ہیں۔ ہالی وڈ فلمیں پاکستان سمیت دنیا کے بیشترممالک میں دیکھی اور پسند کی جاتی ہیں جہاں پر انگریزی زبان بولنے اورسمجھنے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے لیکن اس کے باوجود ہالی وڈ کے فنکارلوگوں کے دلوں پرراج کرتے ہیں۔
بات کی جائے پاکستان کی تو 70ء سے لے کر90ء کی دہائی تک امپورٹ قوانین کے تحت لائی جانیوالی ہالی وڈ فلموں کی پاکستانی فلموں کے ساتھ نمائش کی جاتی تھی اور فلم بینوں کی کثیر تعداد پاکستانی فلموں کے ساتھ ساتھ معمول کے مطابق انگریزی فلمیں بھی دیکھا کرتی تھی۔ عیدالفطر، عیدالاضحیٰ، جشن آزادی سمیت دیگر تہواروں کے موقع پر سینما مالکان کی کوشش ہوا کرتی تھی کہ ہالی وڈ کی ایسی فلمیں نمائش کیلئے پیش کی جائیں جن کو دیکھنے کیلئے فلم بین اپنی فیملیز کے ہمراہ سینما گھروں کا رخ کریں۔
ان میں ''جیمزبانڈ سیریز''، ''انڈیانا جونز ''، ''ٹرمینیٹر''، ''سائی بورگ''، ''راکی''، ''فرسٹ بلڈ''، ''ان دی لائن آف ڈیوٹی''، '' مشن امپوسیبل''، '' فاسٹ اینڈ فیورس''، ''کنگ فوکڈز''، ''کنگ کانگ''، ''بریوہارٹ''، '' سپائیڈرمین''، ''سپرمین''، '' ڈسپراڈو''، ''ٹائی ٹینک''، ''بلیڈ''، ''پریٹی وویمن''، ''ان ڈیسنٹ پرپوزل''، ''دی ماسک''، ''بیٹ مین''، ''جراسک پارک''، '' مین ان بلیک''، ''ہرکولیس''، ''شارک''، ''بیک ٹو دی فیوچر''، ''ہوم آلون''، ''بے بیز ڈے آؤٹ''، ''جمان جی''، ''سپیڈ''، ''پائریٹ آف دی کیربینز''، ''ٹارزن''، ''پیرانا''، ''گولیورز ٹریولز''، ''بلیک کیٹ''، ''ڈائی ہارڈ''، ''سن آف گاڈ''، ''گاڈ زیلا''،''دی کلر''، ''کمانڈو''، ''ٹول ری کال''، ''بلڈ سپورٹس''، '' ڈبل امپکیٹ''، ''کونان دی باربیرن''، '' ٹریولائز''، ''کک باکسر''،
''یونیورسل سولجر''، ''ہارڈ ٹارگٹ''، '' سنیک ان دی ایگل شیڈو''، '' شھنگائی نائٹس''، ''دی میتھ''، ''رش آوور''، '' پولیس سٹوری''، ''رن وے برائیڈ''، ''سیٹسفیکشن''، ''دی بلیولیگون''، ''فری وے''، ''دی ویک اینڈ''، ''راکی''، ''ریمبو''، ''لاک اپ''، ''ڈے لائٹ''، ''دی سپیشلسٹ''، ''کلف ہینگر''، ''وانٹڈ''، ''ٹورسٹ''، ''سالٹ''، ''الیگزینڈر''، ''ٹریووویمن'' اور''دی میٹرکس'' سمیت لاتعداد فلمیں شامل ہیں جن کی بدولت پاکستان میں انگریزی فلموں کودیکھنے کا رجحان فروغ پایا۔ ہالی وڈسٹار مارلن برانڈ، سین کونری، الپاچینو، رابرٹ ڈی نیرو، سلویسٹر سٹالون، آرنلڈ شیوارزنیگر، وین ڈیم، ہیرسن فورڈ، جیکی چن، مائیکل ڈگلس، چک نورس، کرسٹوفرلی، میل گبسن، کیون کوسٹنر، نکلس کیج، جارج کلونی، ٹومی لی جونز، روبن ولیمز، لینارڈو کیپریو، جانی ڈپ، ٹام ہینکس، جم کیری، ول سمتھ، ٹام کروز، راجر موور، کینوریو، ڈیمی مور، شیرون سٹون، بروک شیلڈ، انجلینا جولی، براڈ پٹ، جولیا رابرٹس، پینی لوپ کروز، کیتھرین زیٹا جونز، کیمرون ڈیاز، ایمی ایڈمز، ریچل ویزز، جینفرکیلونی، ہیلی بیری، نومی واٹز، سانڈرا بلوک، نکول کڈمین، ہیلن مرن، کیٹ ونسلٹ، صوفیہ لورین، جوڈی فوسٹر سمیت دیگرسٹارز کی فلمیں پاکستان میں دیکھی گئیں اوران کوپسند بھی کیا گیا۔
پاکستان میں ایک مرتبہ پھر سے سینما انڈسٹری فروغ پارہی ہے۔ ملک بھرمیں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ سینما گھر بنائے جارہے ہیں لیکن ان سینما گھروں میں ہالی وڈ فلموں کے مقابلے بالی وڈ فلموں کو زیادہ ترجیح دی جارہی ہے۔
ایک طرف تو سینما مالکان اور امپورٹرز کی خواہش ہے کہ وہ بھارتی فنکاروں کی فلمیں سینما گھروں میں نمائش کیلئے پیش کرکے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کریں لیکن دوسری جانب فلم بینوں کی وہ بڑی تعداد اب ہالی وڈ فلمیں دیکھنے سے محروم ہے جوآج بھی ماضی کی طرح ہالی وڈ کی جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ، ایکشن، رومانوی، کامیڈی اورہارر فلمین دیکھنا چاہتی ہے۔
اس لئے ضروری ہے کہ جہاں غیرملکی فلمیں امپورٹ کرنے و الے ادارے بھارتی فنکاروں کی فلمیں امپورٹ کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں ، وہیں انہیں ہالی وڈ کی بہترین فلمیں بھی ضرور امپورٹ کرنی چاہئیں۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس رجحان کودوبارہ سے فروغ دینے کیلئے ایک پرائیویٹ کمپنی ''آئم ایم جی سی'' نے باقاعدہ ہالی وڈسٹارز کی فلمیں امپورٹ کرلی ہیں لیکن اب اس کے ساتھ ساتھ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان میں کامیاب بزنس کرنیوالی بھارتی فنکاروں کی فلموں کے سامنے ہالی وڈ سٹارز کی فلمیں کامیاب ہوپائیں گی یا نہیں ؟ اس کافیصلہ آنے والے چند ماہ کے دوران نمائش کیلئے پیش کی جانیوالی فلموں کے ذریعے سامنے آئے گا۔
اگر یہ رجحان فروغ پاگیا تو پھر بھارتی فلموں کے قائم ہوتے راج کے خاتمے کو کوئی نہیں روک پائے گا۔