سیاسی تناؤ سختی نہیں نرمی کی ضرورت

غیر معمولی حفاظتی اقدامات کے باوجود عوامی تحریک ایک بڑی تقریب منعقد کرنے میں کامیاب ہو گئی ...

غیر معمولی حفاظتی اقدامات کے باوجود عوامی تحریک ایک بڑی تقریب منعقد کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ فوٹو: فائل

گزشتہ تین روز سے لاہور اور پنجاب کے عوام کو سفری مشکلات کا سامنا ہے اور اس میں گزشتہ روز بھی کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آ ئی۔ حکومت نے جگہ جگہ کنٹینر اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کر کے لاہور شہر کے داخلی راستے بند کر دیے۔وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ صوبے میں پرتشدد سرگرمیوں کے پیش نظر حکومتی حفاظتی انتظامات کے نتیجے میں عوام کو جس تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہے اس پر وہ معذرت خواہ ہیں۔

یہ حفاظتی اقدامات لاہور میں یوم شہداء کی ماڈل ٹائون میں مرکزی تقریب میں آنے والے پاکستان عوامی تحریک کے شرکاء کو روکنے کے لیے کیے گئے لیکن ان غیر معمولی حفاظتی اقدامات کے باوجود عوامی تحریک ایک بڑی تقریب منعقد کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ اس تقریب سے خطاب کے دوران عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے حکومت پر تنقید کی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ 14 اگست کو عمران خان کے ساتھ مل کر مارچ کیا جائے گا۔ یوں طاہر القادری کا انقلاب مارچ اور عمران خان کا آزادی مارچ بیک وقت شروع ہوگا۔

شروع میں طاہر القادری کی عوامی تحریک اور عمران خان کی تحریک انصاف نے حکومت کے خلاف الگ الگ احتجاج کا رستہ اپنا رکھا تھا۔ سیاسی مبصرین کو یہ اندازہ تھا کہ صورت حال میں کسی بھی وقت تبدیلی آ سکتی ہے اور عوامی تحریک اور تحریک انصاف دونوں اپنے مقصد کی کامیابی کے لیے اکٹھے ہو جائیں گے۔ ان کے یہ اندازے درست ثابت ہوئے اور طاہر القادری نے اپنے خطاب میں یہ اعلان کر دیا کہ 14 اگست کو انقلاب اور آزادی مارچ اکٹھے چلیں گے۔

اب جو سیاسی منظر بنا ہے اس میں پاکستان تحریک انصاف' عوامی تحریک' مسلم لیگ ق' متحدہ علماء کونسل' شیخ رشید اور مجلس وحدت المسلمین متحد ہو کر حکومت کے خلاف لانگ مارچ کرتے نظر آتے ہیں۔ یوں حکومت کے خلاف مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا نیا احتجاجی اتحاد سامنے آیا ہے۔ ادھر حکومت کے تاحال تیور یہی ہیں کہ وہ لانگ مارچ کو روکے گی اور اس مقصد کے لیے اسلام آباد راولپنڈی اور پنجاب کے دیگر شہروں میں حفاظتی اقدامات کے نام پر جو رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں اس سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے اور اس میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔


یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ حکومت اور احتجاجی اتحاد جو رویہ اپنائے ہوئے ہے اس کے پیش نظر لانگ مارچ کے شرکاء اور پولیس کے درمیان تصادم ہو سکتا ہے۔ اگر تصادم ہوتا ہے تو اس کے موجودہ جمہوری نظام پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت کو ان حالات میں افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے معاملات طے کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش سامنے نہیں آئی۔

اگلے روز میاں محمد نواز شریف نے اسلام آباد میں وژن 2025 کے اجراء کے موقع پر اپنے خطاب میں لانگ اور آزادی مارچ کا اعلان کرنے والی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک سال بعد ہی انقلاب والے اور لانگ مارچ کرنے والے آگئے' میں ایسے کسی انقلاب سے اتفاق نہیں کرتا' کینیڈا سے بھاگ کر انقلاب لانے کے لیے بے تاب لوگ جب انتخابات میں حصہ لیتے ہیں تو انھیں کہیں سو اور کہیں دو سو ووٹ ملتے ہیں' دو سو اور چار سو ووٹوں سے انقلاب نہیں آتا' لانگ مارچ کرنا تھا تو انتخابات میں کر لیتے' انقلاب کا کہنے والے ملک میں فساد پھیلانا چاہتے ہیں' انھیں اس طرح کے ایجنڈے لانے والوں پر ہنسی آتی ہے' سمجھ نہیں آتی کہ ان کو ایجنڈا کس نے دیا ہے' ان کی ٹانگیں کھینچنے والے دراصل قوم کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔

وزیراعظم کی تقریر اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کے امکانات کم نظر آ رہے ہیں اگرچہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان انھیں بلائیں گے تو دوبارہ ان کے گھر جائوں گا لیکن سیاسی صورت حال میں جو تنائو اور کشیدگی پیدا ہو چکی ہے اور حکومت مخالف اتحاد جو جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے اس سے یوں لگتا ہے کہ دونوں فریق مذاکرات کا راستہ اپنانے کے لیے آمادہ نہیں ہوں گے۔

ملک جس بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے اور عوام کو درپیش مسائل حل نہیں ہو رہے ایسے غیر معمولی حالات میں دور اندیشی اور تدبر کا تقاضا تو یہ ہے کہ تصادم اور تناؤ کی کیفیت کو تحلیل کیا جائے اور کوئی ایسا قدم اٹھانے سے گریز کیا جائے جس سے بحرانی کیفیت اور افراتفری میں اضافہ ہو۔ اس سے بچنے کا واحد راستہ بات چیت کا ہوتا ہے۔ اگر بات چیت کے تمام دروازے بند کر کے جارحانہ اور غیر لچکدار رویہ اپنایا جائے تو پھر یہ راستہ تصادم کی طرف جا نکلتا ہے۔ اگر حکومت پانچ چھ ماہ قبل ہی تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کرلیتی اور عوامی تحریک سے سختی سے نمٹنے کے بجائے نرمی اور محبت سے معاملہ طے کرلیتی تو آج جو صورت حال پیدا ہو چکی ہے وہ نہ ہوتی۔

بہرحال ابھی وقت ہے اور حالات کو نارمل کرنے کے امکانات موجود ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عمران خان اور عوامی تحریک کے انقلابی مارچ کو سختی سے روکنے اور رکاوٹیں پیدا کرنے کے بجائے اسے سہولتیں فراہم کرے' ٹکرائو اور تصادم سے گریز کرے کیونکہ اس کا نتیجہ کسی بھی فریق کے لیے مثبت برآمد نہیں ہو گا۔ عمران خان اور طاہر القادری بار بار کہہ رہے ہیں کہ ان کا احتجاج پر امن ہو گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان جماعتوں سے پرامن رہنے کی ضمانت لے اور انھیں فری ہینڈ دے۔
Load Next Story