دہشت گردی کا باب بند ہونے کی نوید

کور کمانڈرز اجلاس کے شرکاء کا یہ عزم لائق تحسین ہے کہ دہشتگردوں کو دوبارہ ان علاقوں میں واپس آنے دیا جائے گا...

کور کمانڈرز اجلاس کے شرکاء کا یہ عزم لائق تحسین ہے کہ دہشتگردوں کو دوبارہ ان علاقوں میں واپس آنے دیا جائے گا۔ فوٹو: آئی این پی/فائل

ملک کی عسکری قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردوں کو واپس آنے اور دوبارہ منظم ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی انھیں ملک بھر میں کہیں جگہ ملے گی۔ پیر کو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کی زیر صدارت کور کمانڈرز کا طویل اجلاس جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کے شرکاء کو آپریشن ضرب عضب اور ملکی سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

یہ بریفنگ بلاشبہ روایتی معنوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق ملکی صورتحال کے داخلی پہلوئوں اور خاص طور پر دہشت گردی، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کا خاتمہ، آپریشن ضرب عضب کے تحت آئی ڈی پیز کی گھروں کو بخیر و عافیت واپسی، سماجی استحکام کے حصول اور امن و امان کی بحالی ہے جس پر پوری قوم اور عسکری اور سیاسی قوتیں یکساں سوچ رکھتی ہیں۔ آرمی چیف کا یہ عزم کہ قوم کی بھرپور حمایت سے آپریشن ضرب عضب فتح سے ہمکنار ہو گا اور دہشت گردوں کو واپس نہیں آنے دیا جائے گا نہ صرف شمالی وزیرستان بلکہ پورے ملک میں دہشت گردی کا راستہ روک دیے جانے کے پختہ عزم و ارادے سے متصف ہے۔

یہی وہ حکمت عملی ہے جو فیصلہ کے سیاسی بحران میں پڑنے سے بہت پہلے اختیار کی جاتی تو انتہا پسندوں کو میڈیا میں جگہ ملتی اور نہ پورا ملک خود کش بمباروں کے رحم و کرم پر ہوتا، چنانچہ دہشت گردی مخالف حکمت عملی کی تیاری میں تاخیر کا جو نقصان قومی معیشت، سماجی ڈھانچے اور سیاسی اداروں کو ہوا اس کے نتیجہ میں قانون شکنی اور ریاستی رٹ کی پامالی کے الم ناک واقعات رونما ہوئے جو دہشت گردی کے حوالہ سے قومی سیاسی تاریخ کا اندوہناک باب کہے جاسکتے ہیں۔

مگر اب جب کہ آپریشن کے حوصلہ افزا نتائج قوم کے سامنے ہیں، سیاسی اور عسکری قیادت یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ دہشت گردوں کو دوبارہ ریاستی رٹ چیلنج کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا جائے گا، اور اس کے لیے پاک فوج نے بے جگری سے ان عناصر کا صفایا کیا ہے جو پاکستان کے آئین، جمہوری نظام اور سماجی و ثقافتی اقدار کو حقارت سے ٹھوکر مارتے رہے، شہریوں کے جسموں کو بم دھماکوں سے اڑاتے رہے، اور جن کے خواب و خیال میں یہی کچھ تھا کہ پاکستانی ریاست ان کی دھمکیوں پر سرنگوں ہو گی اور ان کا مسلط کردہ نظام اہل وطن کا مقدر بن جائے گا۔

اس لیے آپریشن کے نتائج اور پیشرفت کو دیکھتے ہوئے کور کمانڈرز اجلاس میں دہشت گردی کا راستہ مستقل روکنے کی جو نوید دی گئی ہے اس سے قومی امنگوں کی عکاسی ہوتی ہے اور یہ ان غمزدہ خاندانوں کے تالیف قلوب کا باعث ہو گی جن کے لخت جگر طویل عرصے دہشت گردی کی نذر ہوتے رہے، جب کہ پاک فوج کے ان جان نثاروں کے اہل خانہ کو جذباتی و قومی قربت و وابستگی، دردمندی اور روحانی آسودگی ملے گی جنھوں نے وطن کے سلامتی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ میں اپنی جانیں قربان کیں۔

دہشت گردی کے خلاف موجودہ آپریشن ملکی سالمیت اور خود مختاری کی فیصلہ کن جنگ ہے، یہ خطے میں ''وار آن ٹیرر'' کا دوسرا داخلی دورانیہ ہے جس کی تکمیل اسی وقت ہو گی جب وطن عزیز کا چپہ چپہ دہشتگردی کے ناسور سے آزاد ہو گا اور کہیں بھی کوئی خود کش بمبار انسانیت کے چیتھڑے نہیں اڑا سکے گا۔ کوششیں جاری ہیں کہ شمالی وزیرستان کو امن نصیب ہو، وہاں ترقی ہو، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے در بند ہوں اور فاٹا میں جدید سہولتوں کے ساتھ خوف و دہشت کی فضا، سکون، روداری، امن و آسودگی میں بدل جائے۔


لہٰذا کور کمانڈرز اجلاس کے شرکاء کا یہ عزم لائق تحسین ہے کہ دہشتگردوں کو دوبارہ ان علاقوں میں واپس آنے دیا جائے گا۔ فوجی قیادت نے اس عہد کا اعادہ بھی کیا کہ دہشتگردوں کو ملک میں کہیں بھی جگہ نہیں ملے گی۔ چیف آف آرمی اسٹاف نے ضرب عضب میں اب تک کی پیشرفت پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا اور جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا۔ انھوں نے آپریشن میں اب تک حاصل کی گئی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ آپریشن میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو مستحکم بنانے کے لیے اسٹیک ہولڈرز انسداد دہشتگردی کے لیے طویل المدت اقدامات کریں گے۔

چیف آف آرمی اسٹاف نے ہدایت کی کہ آئی ڈی پیز کے عارضی قیام اور ان کی جلد اپنے گھروں کو واپسی کے حوالے سے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے۔ اس نکتے پر کہ دہشت گردوں کو ملک میں کہیں بھی جگہ نہیں ملے گی سیاسی قیادت اور ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بطور خاص توجہ دینا چاہیے کیونکہ کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں اور ان کے نواح میں ٹارگٹ کلرز، دہشت گردوں اور طالبان کے نیٹ ورک کی موجودگی اور طالبان کمانڈرز اور کارندوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات میڈیا میں تسلسل کے ساتھ آ رہی ہیں۔

ادھر پاکستان نے افغان قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملا فضل اﷲ کو گرفتار کرکے اس کے حوالے کرے، جب کہ آرمی چیف اس سے قبل بھی واضح کر چکے ہیں کہ آپریشن بلا امتیاز جاری رہیگا اور کسی انتہا پسند گروپ اور ملک دشمن کو نہیں بخشا جائے گا۔ جنرل راحیل نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اللہ کے فضل و کرم اوربہادر قوم کے تعاون سے آپریشن ضرب عضب کامیاب ہو گا۔ ادھر عسکری ذرایع نے کورکمانڈرز کانفرنس کو معمول کی ماہانہ مشاورت کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ اس میں خالصتاً عسکری معاملات، شمالی وزیرستان آپریشن اور سرحدوں کی صورت حال پر بات چیت ہوئی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ شمالی وزیرستان سے آپریشن ضرب عضب کے دوران افغانستان کے صوبہ خوست کو ہجرت کرنیوالے چارہزار قبائلی خاندان کرم ایجنسی علی زئی کے مختلف علاقوں میں پہنچ گئے جن کی فاٹا سیکریٹریٹ کی انتظامیہ نے باقاعدہ طور پر رجسٹریشن بھی کر لی ہے، ان آئی ڈی پیز کو گورنمنٹ ہائی اسکول میں رکھا گیا ہے، ان کی تعداد 25 ہزار ہے، مذکورہ آئی ڈی پیز کو ضرورت کا سامان اور اشیائے خوردونوش فراہم کردی گئی ہیں جب کہ کیمپ میں انکو مفت کھانا بھی فراہم کیا جا رہا ہے، بچوں کو پولیو کے قطرے بھی پلائے گئے۔

اس وقت سب سے اہم ضرورت ان بے گھر لوگوں کی عارضی رہائش اور پھر سے گھروں کی جلد واپسی کو یقینی بنانا ہے تاہم اس حقیقت کا ادراک کرنے کی سخت ضرورت ہے کہ کہ دہشت گردی سے ہونے والا نقصان بظاہر ناقابل یقین اور ناقابل تلافی نظر آتا ہے، اربوں روپے کا خسارہ قومی معیشت برداشت کر چکی، ان گنت معصوم جانیں دہشت گردی کی بھینٹ چڑھائی گئیں، انتہا پسندی کے باعث معاشرے میں فسطائیت نے فساد و فتنے کے نئے در کھول دیے۔

آج بھی قوم سیاست دانوں سے یہی اپیل کرتی ہے کہ وہ دوراندیشی، حکمت و تدبر اور معاملہ فہمی و افہام وتفہیم سے بحرانوں کی انقلابی کشتیوں کو ساحل مراد تک لانے کے پر امن جتن کریں، دہشت گردی ختم ہو گی تب ہی جمہوریت اور ترقی شانہ بشانہ چل سکیں گے، امن ہو گا تب ہی غریب کا بچہ وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھ سکے گا۔ ایک دانشور کا قول ہے کہ ہم اجتماعی طور پر بڑے فیصلوں پر خوب خیال آرائی کرتے ہیں، مگر ہمیں اب ان تمام امور کے اوراق و ابواب میں دہشت گردی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ یہ قول صادق ہے۔ پوری قوم آپریشن کے منطقی انجام اور اسے نتیجہ خیز دیکھنے کی منتظر ہے۔
Load Next Story