یوم آزادی اور سیاسی قیادت کی ذمے داری

آج یوم آزادی یوں منایا جا رہا ہے کہ پنجاب اور اسلام آباد کے تمام شہروں میں پولیس نے اہم شاہراہوں ...

آج یوم آزادی یوں منایا جا رہا ہے کہ پنجاب اور اسلام آباد کے تمام شہروں میں پولیس نے اہم شاہراہوں اور چوراہوں پر کنٹینرز کھڑے کر رکھے ہیں۔ فوٹو ڈیزائن ؛ اویس خان

14 اگست پاکستان کا یوم آزادی ہے' پوری دنیا میں قومیں اپنا یوم آزادی انتہائی جوش و خروش اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر مناتی ہیں' اس میں رنگ و نسل اور مذہب و مسلک اور سیاسی گروہ بندیوں سے بالاتر ہو کر قومی یکجہتی کو سامنے رکھا جاتا ہے، پاکستان میں ہمیشہ یوم آزادی انھی جذبوں سے منایا جاتا رہا ہے لیکن آج پاکستان کے منظرنامے پر نظر ڈالی جائے تو قومی اتحاد کے بجائے انتشار اور غیر یقینی کی فضا نظر آتی ہے۔

یوم آزادی کے شایان شان جذبے بھی ماند پڑے ہوئے ہیں اور مایوسی و نا امیدی کا عالم ہے کیونکہ ملک کا سیاسی منظرنامہ احتجاج و لانگ مارچ اور پولیس گردی سے آلودہ ہو گیا ہے۔ تحریک انصاف لاہور سے اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ کر رہی ہے جسے وہ آزادی مارچ کا نام دیتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عوامی تحریک نے بھی لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے جسے اس نے انقلاب مارچ کا نام دے رکھا ہے' ادھر حکومت نے ان نازک لمحات میں معاملہ فہمی' دانشمندی اور افہام و تفہیم کا مظاہرہ کرنے کے بجائے سخت انتظامی اقدامات کر کے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔

حکومت کی معاملات کو سختی سے ہینڈل کرنے کی حکمت عملی نے سانحہ ماڈل ٹائون لاہور کو جنم دیا' جس کے ردعمل میں عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی تقاریر میں بعض اشتعال انگیز جملے استعمال کیے' حالات کی شاید اسی نزاکت اور حساسیت کا اثر تھا کہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو بھی حکمرانوں کے بارے میں غیر معمولی طور پر سخت لہجے میں گفتگو کرنا پڑی' اگر وفاقی اور پنجاب حکومت تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے احتجاج کو ہینڈل کرنے میں صبر و تحمل اور احتیاط کا مظاہرہ کرتی تو شاید ملک کے سیاسی ماحول میں جو تلخی و غصہ شامل ہو گیا ہے' وہ نہ ہوتا۔

آج یوم آزادی یوں منایا جا رہا ہے کہ پنجاب اور اسلام آباد کے تمام شہروں میں پولیس نے اہم شاہراہوں اور چوراہوں پر کنٹینرز کھڑے کر رکھے ہیں' اسلام آباد اور راولپنڈی میں کئی مقامات پر گڑھے کھودے گئے ہیں' پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جگہ جگہ کنٹینرز کھڑے کر دیے گئے ہیں' اس صورت حال سے عوام کو جو پریشانی ہے' اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ٹیلی ویژن کی اسکرینیں سب کچھ دکھا رہی ہیں' یہ صورت حال گزشتہ دس بارہ روز سے جاری ہے جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔


ملک میں ایسی حکومت قائم ہے جو خود کو عوام کے ووٹوں سے منتخب شدہ کہلاتی ہے۔ بلاشبہ اسے عوام نے ووٹ دے کر حق حکمرانی دیا ہے۔ عوام کی منتخب کردہ حکومت کے دور میں عوام کو ایسی تکالیف کا سامنا نہیں ہونا چاہیے تھا' ہم انھی سطور میں لکھتے رہے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن کو ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھ کر افہام و تفہیم سے اپنے اختلافات طے کرنا چاہیے۔ دنیا میں کوئی ایسا مسئلہ یا تنازعہ نہیں ہوتا' جسے بات چیت کے ذریعے طے نہ کیا جا سکے مگر اس کے لیے غصے پر قابو پانا' ضد اور ہٹ دھرمی کو چھوڑنا اور اپنے ذاتی و گروہی مفادات کو پس پشت ڈالنا ضروری ہوتا ہے۔

جمہوریت کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ حزب اقتدار مختار کل ہے اور اپوزیشن کچھ نہیں۔ جمہوری نظام خصوصاً پارلیمانی جمہوریت میں اپوزیشن مستقبل کی متوقع حکومت ہوتی ہے۔ اس کی باتوں' مشوروں اور تجاویز پر غور کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے' اس طرح جمہوریت کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ جو جماعت اسمبلی میں نشست حاصل کر لے' وہی جمہوری دائرے میں ہو گی اور جو اسمبلی یا پارلیمنٹ میں نہ ہو' اسے اچھوت سمجھ لیا جائے'جمہوری معاشرے میں ایک جانب اگر لاکھ شخص ہیں اور دوسری طرف ایک شخص ہے تو اس ایک کی جان و مال اور رائے کا احترام انتہائی ضروری ہوتا ہے۔

پاکستان میں سیاسی جماعتیں جمہوریت کا نعرہ لگاتی ہیں لیکن جب وہ اقتدار میں آتی ہیں تو جمہوریت کی وہ تعریف کرتی ہیں جو ان کے اقتدار کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ جمہوری معاشروں میں احتجاج کرنا' جلسے کرنا' جلوس نکالنا یا لانگ مارچ کرنا ہر جماعت کا حق ہے بشرطیکہ یہ پرامن ہو' حکومت کا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ اپوزیشن کے مطالبات پر غور کرے اور انھیں حتی المقدور آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر پورا کرنے کی کوشش کرے۔

اگلے روز وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی طرف سے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے 3 رکنی کمیشن کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی کی سفارشات پر عمل کے لیے قانون' آئین' الیکشن کمیشن اور نگران حکومتوں کا ڈھانچہ بدلنا پڑا تو بدلیں گے۔ ادھر تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے وزیراعظم کی طرف سے مئی2013 کے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کا کمیشن قائم کرنے کی پیشکش کو مسترد کر دیا اور اس سے پہلے وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔

یوں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کا امکان بظاہر ختم ہو گیا ہے۔ حکومت عمران خان کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے۔ اس طرح حالات زیادہ خراب ہو سکتے ہیں' وقت ابھی ختم نہیں ہوا' حالات کو درست نہج پر لایا جا سکتا ہے۔ حکومت لانگ مارچ کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات نہ کرے اور شہروں میں لگائی گئی رکاوٹیں اور بیرئیرز ہٹا دیے جائیں تو لانگ مارچ پرامن رہ سکتا ہے۔اگر سختی کا رویہ جاری رہا تو پھر معاملات بگڑ سکتے ہیں۔
Load Next Story