یونین کونسل کی سطح پر اساتذہ کی بھرتیاں کرنے سے مسائل بڑھے ریفارم سپورٹ یونٹ
آئندہ بھرتیوں سے قبل این ٹی ایس پاس محروم امیدواروں کی تقرری پرغور کرینگے، 64 ماڈل اسکول قائم کیے جائیں گے
پانچویں اور آٹھویں جماعت کے طلبہ کی اہلیت جاننے کیلیے ٹیسٹ کے نتائج 23 فیصد اور 28 فیصد رہے، چیف پروگرام منیجر فوٹو: فائل
KARACHI:
صوبائی محکمہ تعلیم کے ذیلی ادارے ریفارم سپورٹ یونٹ نے کراچی میں اسکول اساتذہ کی بھرتیاں یونین کونسل کی سطح پرکرنے کے فیصلے کو متنازع تسلیم کرتے ہوئے آئندہ بھرتیوں سے قبل این ٹی ایس پاس محروم امیدواروں کی تقرری پرغورکرنے کااعلان کردیا۔
یہ بات ریفارم سپورٹ یونٹ کی چیف پروگرام منیجرصبامحمود نے بدھ کواین جے وی اسکول میں قائم آرایس یوکے دفترمیں منعقدہ پریس بریفننگ کے دوران بتائی، انھوں نے بتایا کہ سندھ میں معیارتعلیم کی بہتری کے لیے 64 ماڈل سرکاری اسکول قائم کیے جارہے ہیں جن میں 4 اسکول کراچی میں ہونگے۔
این ٹی ایس پاس امیدواروں کی بھرتی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اسکول اساتذہ کی بھرتیاں یونین کونسل کی سطح پر کرنے سے مسائل پیدا ہوئے بھرتیوں میں تاخیر ہوئی ہے تاہم آئندہ بھرتی کے عمل کو زیادہ بہتر، مختصر اور تیز کیا جائے گا جکہ این ٹی ایس کے تحت ایچ ایس ٹی، جے ایس ٹی اورپی ایس ٹی کاٹیسٹ نمایاں نمبروں سے پاس کرنے والے امیدواروں کی میرٹ کے مطابق بھرتی کرنے پر غور کررہے ہیں۔
اس موقع پرآرایس یوکی کارکردگی پربریفننگ دیتے ہوئے چیف پروگرام منیجر صبا محمود نے بتایا کہ چھٹی سے دسویں جماعت کی طالبات کو وظائف کی ادائیگی کو شفاف بنانے اور تاخیر کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے اب ایزی پیسہ کے ذریعے وظائف دیں گے اس سلسلے میں چھٹی جماعت سے آٹھویں جماعت کی طالبات کو اے ٹی ایم کارڈ جاری کیے جارہے ہیں جودسویں جماعت تک کارآمد ہوں گے جبکہ نویں اوردسویں جماعتوں کی طالبات کو رقم کے اجرا کے لیے ''پاس ورڈ''جاری کیے جارہے ہیں۔
آرایس یو کی چیف پروگرام منیجر نے انکشاف کیا کہ سندھ میں سرکاری اسکولوں کے پانچویں اور آٹھویں جماعتوں طلبہ کی اہلیت جاننے کے لیے آئی بی اے سکھر کے تحت جو ٹیسٹ لیے گئے ان کے نتائج انتہائی مایوس کن بالترتیب 23 فیصد اور 28 فیصد رہے۔
صوبائی محکمہ تعلیم کے ذیلی ادارے ریفارم سپورٹ یونٹ نے کراچی میں اسکول اساتذہ کی بھرتیاں یونین کونسل کی سطح پرکرنے کے فیصلے کو متنازع تسلیم کرتے ہوئے آئندہ بھرتیوں سے قبل این ٹی ایس پاس محروم امیدواروں کی تقرری پرغورکرنے کااعلان کردیا۔
یہ بات ریفارم سپورٹ یونٹ کی چیف پروگرام منیجرصبامحمود نے بدھ کواین جے وی اسکول میں قائم آرایس یوکے دفترمیں منعقدہ پریس بریفننگ کے دوران بتائی، انھوں نے بتایا کہ سندھ میں معیارتعلیم کی بہتری کے لیے 64 ماڈل سرکاری اسکول قائم کیے جارہے ہیں جن میں 4 اسکول کراچی میں ہونگے۔
این ٹی ایس پاس امیدواروں کی بھرتی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اسکول اساتذہ کی بھرتیاں یونین کونسل کی سطح پر کرنے سے مسائل پیدا ہوئے بھرتیوں میں تاخیر ہوئی ہے تاہم آئندہ بھرتی کے عمل کو زیادہ بہتر، مختصر اور تیز کیا جائے گا جکہ این ٹی ایس کے تحت ایچ ایس ٹی، جے ایس ٹی اورپی ایس ٹی کاٹیسٹ نمایاں نمبروں سے پاس کرنے والے امیدواروں کی میرٹ کے مطابق بھرتی کرنے پر غور کررہے ہیں۔
اس موقع پرآرایس یوکی کارکردگی پربریفننگ دیتے ہوئے چیف پروگرام منیجر صبا محمود نے بتایا کہ چھٹی سے دسویں جماعت کی طالبات کو وظائف کی ادائیگی کو شفاف بنانے اور تاخیر کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے اب ایزی پیسہ کے ذریعے وظائف دیں گے اس سلسلے میں چھٹی جماعت سے آٹھویں جماعت کی طالبات کو اے ٹی ایم کارڈ جاری کیے جارہے ہیں جودسویں جماعت تک کارآمد ہوں گے جبکہ نویں اوردسویں جماعتوں کی طالبات کو رقم کے اجرا کے لیے ''پاس ورڈ''جاری کیے جارہے ہیں۔
آرایس یو کی چیف پروگرام منیجر نے انکشاف کیا کہ سندھ میں سرکاری اسکولوں کے پانچویں اور آٹھویں جماعتوں طلبہ کی اہلیت جاننے کے لیے آئی بی اے سکھر کے تحت جو ٹیسٹ لیے گئے ان کے نتائج انتہائی مایوس کن بالترتیب 23 فیصد اور 28 فیصد رہے۔