سال 2025 میں مختلف شعبوں میں کارٹلائزیشن پر 2.36ارب روپے کے جرمانے عائد

کمپٹیشن کمیشن نے مارکیٹ میں کارٹلائزیشن، گٹھ جوڑ سے قیمتوں کو فکس کرنے سمیت دیگر خلاف ورزیوں پر جرمانے عائد کیے

کمپٹیشن کمیشن نے سال 2025 میں مختلف شعبوں میں کارٹلائزیشن پر 2.36ارب روپے کے جرمانے عائد کیے، 93 کروڑ روپے ریکور کیے، خلاف ورزیوں پر 47 شوکاز نوٹس جاری کیے۔

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے سال 2025 کے دوران مختلف سیکٹر کی مارکیٹوں میں کارٹلائزیشن، گٹھ جوڑ سے قیمتوں کو فکس کرنے، مارکیٹ میں گٹھ جوڑ بنانے کے ممنوعہ معاہدوں اور گمراہ کن تشہیری سرگرمیوں پر 2.363 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے۔

اس سال کے دوراں کمیشن نے 93 کروڑ 25 لاکھ 60 ہزار روپے کے جرمانے ریکور کیے اور کمپٹیشن کے قانون کی ممکنہ خلاف ورزی پر 47 شوکاز نوٹس جاری کیے۔

گزشتہ سال کے دوران کمپٹیشن کمیشن نے مختلف عدالتوں اور کمپٹیشن ٹربیونل میں زیر التوا مقدمات اور اپیلوں کی موثر پیروی کی اور عدالتوں نے کمیشن کے 567 زیر التو زیر التوا مقدمات میں سے 434 مقدمات پر فیصلے سنائے، جس سے زیر التوا مقدمات کے بیک لاک میں  70 فیصد کمی ہوئی۔

مزید برآں، کمیشن کمپٹیشن ایکٹ 2010 کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد گیارہ فیصلے جاری کیے۔ ان میں پانچ فیصلے کارٹلائزیشن اور ممنوعہ معاہدوں سے متعلق تھے جبکہ چار فیصلے گمراہ کن تشہیر کے خلاف جاری کرتے ہوئے جرمانے عائد کئے۔

اس کے علاوہ کنزیومر گٖڈزکے شعبے میں ایک کیس میں شواہد کی عدم موجودگی پر شوکاز نوٹس کو ختم کر دیا گیا۔ ایک اور بڑا فیصلہ، ٹیلی کام کے شعبے میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے ٹیلی نار پاکستان اور اورین ٹاورز کے حصول کی منظوری تھا۔

پی ٹی سی ایل اورٹیلی نار کی ٹرانزیکشن عالمی سطح پر نمایاں اور منفرد نوعیت کی حامل تھی ، جس میں پانچ مختلف مارکیٹس میں تفصیلی جائزہ لینے کے بعد مشروط فیصلہ جاری کیا گیا۔ کا لین دین تھا۔

سال 2025 کے دوران کمیشن نے کارٹل اور گٹھ جوڑ بنانے اور گمراہ کن تشہیر پر مختلف شعبوں میں 2.363 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے۔

ان میں عائشہ اسٹیل ملز لمیٹڈ اور انٹرنیشنل اسٹیلز لمیٹڈ پر قیمتوں کے تعین (پرائس فکسنگ) پر 1.562 ارب روپے، چھ فرٹیلائزر مینوفیکچررز اور ان کی ایڈوائزری کونسل پر 37 کروڑ روپے، جبکہ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن اور آٹھ ڈے اولڈ چکس کمپنیوں پر قیمتیں فکس کرنے پر 15 کروڑ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔

اس کے علاوہ گمراہ کن تشہیر اور ممنوعہ معاہدوں پر ہنڈائی نشاط موٹرز، الغازی ٹریکٹرز، برٹش لائسیم، کنگڈم ویلی، دواسازی کے ڈسٹری بیوٹرز اور ٹرانسپورٹرز کی ایسوسی ایشنز پر بھی جرمانے عائد کیے گئے۔

سال 2025 میں انفورسمنٹ کی کارروائیوں کے تحت کمپٹیشن کمیشن نے 47 شوکاز نوٹس جاری کیے۔ ان میں 14 نوٹس گمراہ کن تشہیر پر کنزیومر گڈز (ایف ایم سی جی) کی کمپنیوں، سرٹیفکیشن سروسز اور ویٹرنری ادویات فراہم کرنے والے اداروں جبکہ بیس نوٹس نجی تعلیمی اداروں کو کمپٹیشن کے قوانین کی خلاف ورزی پر جاری کیے گئے۔

اسی طرح کارٹلائزیشن پر 13شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، جن میں دس شوگر ملز، دو اسٹیل ملز اور خوردنی تیل کے ٹرانسپورٹرز کی ایک ایسوسی ایشن شامل تھی۔ بیشتر انفورسمنٹ کی کاروائیاں براہِ راست عوام اور صارفین کے مفادات کا تحفظ کے پیش نظر کی گئیں۔

کمیشن کے فیصلوں کی کمپلائنس کو مؤثر بناتے ہوئے، کمپٹیشن کمیشن نے 93 کروڑ روپے ریکور کیے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران جرمانوں کی مجموعی وصولیاںایک ارب 19 کروڑ روپے سے زائد ہو گئیں ہیں۔

کمیشن کے قیام کے بعد سے، گزشتہ 17 برسوں میں جرمانوں کی مجموعی ریکوری دو کروڑ روپے تھی۔ اس سال کمیشن نے توانائی و بجلی، ٹیلی کمیونیکیشن، خدمات، صنعتی و مینوفیکچرنگ، مالیاتی خدمات، صارفین کی اشیاء اور رئیل اسٹیٹ سمیت 34 شعبوں میں 159 مرجرٹرانزیکشن کی منظوری دی۔

اس عرصے کے دوران سب سے اہم ٹرانزیکشن پی ٹی سی ایل کی جانب سے ٹیلی نار کے حصول کی تھی۔ دیگر ٹرانزیکشنز میں شیل پاکستان کا وفی انرجی کے ذریعے حصول، سادہ پے کے شیئرز کی منتقلی، لوٹے کیمیکل پاکستان کا لین دین، ٹوٹل پارکو کی تنظیمِ نو، اور ٹی سی ایس لاجسٹکس کا حصول شامل تھا۔

کمپٹیشن کمیشن ملک بھر میں انفورسمنٹ کو مزید مستحکم بنانے کے پیش نظر ملک کے بڑے شہروں میں دفاتر قائم کئے جائیں گے تاکہ مارکیٹ تک رسائی اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ روابط بہتر بنائے جا سکیں اور پاکستان بھر میں کمپٹیشن کمیشن کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔

Load Next Story