بلغاریہ نے ملکی کرنسی ترک کرکے نیا سال کا جشن منایا؛ اب کونسی کرنسی ہوگی؟

بلغاریہ یورو کو بطور ملکی کرنسی اپنانے والا 19 واں ملک بن گیا

بلغاریہ یورو کو بطور ملکی کرنسی اپنانے والا 19 واں ملک بن گیا

بلغاریہ نے یکم جنوری 2026 کا آغاز ہوتے ہی آدھی رات کو اپنی 19 ویں صدی سے سکہ رائج الوقت کرنسی ’’لیو‘‘ کو خیرباد کہہ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بلغاریہ نے باضابطہ طور پر یورو کو اپنی قومی کرنسی کے طور پر اپنا لیا اور یوں یورو زون میں شامل ہونے والا وہ 21 واں ملک بن گیا۔

یہ اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب ملک نے آدھی رات کو اپنی پرانی کرنسی لیو (Lev) کو ترک کر دیا، جو انیسویں صدی کے اواخر سے استعمال ہو رہی تھی۔

اس موقع پر دارالحکومت صوفیہ میں بلغاریہ کے مرکزی بینک کے سامنے جشن کا سماں تھا جہاں شدید سردی کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔

مرکزی بینک کی عمارت پر بلغاریہ کے یورو سکے کی تصاویر روشن کی گئیں اور شاندار رنگا رنگ آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا۔

اس طرح نئے سال کے ساتھ ساتھ یورو کلب میں شمولیت کا جشن بھی منایا گیا۔ جس نے اس تاریخی لمحے کو مزید یادگار بنا دیا۔

یورپی مرکزی بینک کی صدر کرسٹین لاگارڈ نے بلغاریہ کو یورو فیملی میں خوش آمدید کہتے ہوئے اس فیصلے کو یورپی اتحاد کے لیے اہم قدم قرار دیا۔

بلغاریہ کی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سے ملک کی کمزور معیشت کو استحکام ملے گا، مغربی اداروں کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوں گے اور بیرونی اثر و رسوخ، خصوصاً روسی دباؤ سے بچاؤ ممکن ہوسکے گا۔

البتہ عوام کی بڑی تعداد نے خدشہ ظاہر کیا ہے یورو اپنانے سے مہنگائی کا طوفان آئے جو پہلے سے غربت میں پسے عوام کے لیے کڑا امتحان ہوگا۔

خیال رہے کہ تقریباً 64 لاکھ آبادی کے ساتھ بلغاریہ اب بھی یورپی یونین کا غریب ترین رکن سمجھا جاتا ہے۔

صدر رومین رادیف نے آدھی رات کو قوم سے خطاب میں یورو کو یورپی یونین میں بلغاریہ کے انضمام کا آخری مرحلہ قرار دیا لیکن انھوں نے اس فیصلے پر عوامی ریفرنڈم نہ کرانے پر تنقید بھی کی۔

ان کے بقول یہ بات سیاسی اشرافیہ اور عوام کے درمیان گہری خلیج کی علامت ہے، جس کا اظہار ملک گیر مظاہروں سے بھی ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ سیاسی عدم استحکام کے شکار ملک بلغاریہ میں گزشتہ ماہ بدعنوانی کے خلاف مظاہروں کے نتیجے میں قدامت پسند حکومت کا خاتمہ ہوا اور 5 برسوں میں آٹھویں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

Load Next Story