کینسر سے جنگ جیتنے والے نے اپنے شہر کو گرین زون میں تبدیل کردیا؛ دلچسپ کہانی

کینسر سے جنگ جیتنے والے ماحولیاتی آلودگی سے جنگ شروع کردی

کینسر سے جنگ جیتنے والے ماحولیاتی آلودگی سے جنگ شروع کردی

بھارتی ریاست آسام میں کینسر کو شکست دینے والے ایک پُرعزم شخص نے ماحولیاتی تبدیلی کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا۔

کینسر جیسے موذی مرض کو شکست دینے والے مریض تاعمر خدشے، اندیشوں اور احتیاطوں میں گزار دیتے ہیں لیکن ایک ایسا باہمت شخص بھی ہے جس نے اس تصور کو الٹ کر رکھ دیا۔

یہ 2006 کی بات تھی جب بھارتی شخص کلیداس زندگی کے تباہ کن موڑ پر کھڑا تھا، اسے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور جان بچنے کے امکانات نہایت کم تھے۔

اس کا جوش، عزم اور زندگی کے لیے محبت نے اسے اس تکلیف دہ بیماری سے لڑنے کا حوصلہ دیا اور اب 61 سال کی عمر میں کلیداس کینسر سے زندہ بچ جانے والا ایک خوش و خرم شخص ہے۔

اُس نے کینسر سے جنگ کے بعد اب ماحولیاتی آلودگی سے جنگ کا آغاز کردیا ہے جس کی ابتدا آسام کے اپنے آبائی شہر دھوبری سے کیا جسے آج کل سبزہ زار بنانے کی کوششوں میں جُتا ہے۔

کلیداس نے دھوبری کی سڑکوں پر پودے لگانے کا آغاز کیا۔ ان کی کوششوں نے دھوبری شہر کے تمام 16 وارڈز اور قریبی گورپور تک کے علاقوں کو سبزہ سے مزین کر دیا ہے۔

ان کی لگن اور محنت نے ان کے شہر کی شکل تبدیل کر دی اور یہ سب اس نے اپنے ذاتی اخراجات پر کیا۔ سڑکوں کے کناروں پر پودے اور پھولوں کے درخت لگائے، اور ان کی دیکھ بھال بھی خود کی۔

اس نے دھوبری کی اہم سڑکوں پر ایک یا دو نہیں بلکہ چار خوبصورت باغات تیار کیے ہیں جو اب شہر کی ایک حسین علامت بن چکے ہیں۔ ان باغات کی دیکھ بھال بھی وہ خود کرتے ہیں۔

کلیداس نے صرف اپنے ذاتی کوششیں نہ کیں بلکہ میونسپل بورڈ کے تحت کئی دیگر باغات کی دیکھ بھال بھی شروع کر دی اور یہ سب کچھ وہ بلا معاوضہ کرتے ہیں۔

کلیداس کا کہنا ہے کہ کینسر سے لڑنے اور موت کو اتنے قریب سے دیکھنے کے بعد میری زندگی کا نظریہ بدل گیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ مجھے یہ احساس ہوا کہ مجھے سماج کے لیے کچھ مثبت کرنا ہے اور ٹھان لی تھی کہ صحت یاب ہونے کے بعد سماج کو تحفہ دینا ہے۔

کلیداس نے یہ بھی کہا کہ سبزہ ماحول میں سکون پیدا کرتا ہے، صحت کو بہتر بناتا ہے اور ایک مثبت فضا تخلیق کرتا ہے۔

 

Load Next Story