انسان کسی کو اس کے حال میں خوش نہیں دیکھ سکتا
sohailyaqoob
اسکول کی درسی کتاب میں مولانا محمد حسین آزاد کا ایک مضمون پڑھا تھا جو جیسے ذہن پر چپک سا گیا ہے۔ مضمون کا عنوان تھا ’’انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا‘‘، اس مضمون میں مصنف نے کہانی کو تمثیلی انداز میں پیش کیا تھا اور یہ ثابت کیا تھا کہ کیوں انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا۔
وہ اچھے وقت کی بات تھی جب انسان اپنے حال میں مگن تھا اور اپنے خوش نہ رہنے کا بھی خود کو ہی ذمے دار قرار دیتا تھا لیکن اگر موجودہ حالات میں مصنف اس طرح کا کچھ لکھتے تو شاید یہ لکھتے کہ ’’انسان کسی کو اس کے حال میں خوش نہیں دیکھ سکتا‘‘۔
کسی نے پوچھا کہ حسد کیا ہے؟ جواب دیا گیا کہ جب بندہ خالق کی تقسیم یا عطا پر راضی نہ ہو تو اسے حسد کہتے ہیں۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ رشک کرو حسد نہ کرو۔
دونوں میں فرق یہ ہے کہ رشک میں ہم رب کی تقسیم پر راضی ہوتے ہیں اور خود کے لیے بھی انھی ثمرات کے لیے دعاگو ہوتے ہیں۔ آج کل لوگ شاید غمی میں تو رونے کے لیے کندھا دے دیتے ہیں لیکن خوشی میں ساتھ ’’قہقہے‘‘ لگانے والے کہیں کھو گئے ہیں۔
لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ جب وہ دوسروں کی خوشیوں میں قہقہے نہیں لگاتے تو خود ان کی اپنی زندگی سے خوشیاں اور قہقہے روٹھ جاتے ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ انگریز کی شادی میں جتنے مہمان ہوتے ہیں اتنے تو ہمارے یہاں صرف روٹھے ہوئے رشتہ دار ہوتے ہیں۔
ہارورڈ بزنس ریو کے ایک مضمون The Friendship Recession کے مطابق امریکا میں ایسے لوگوں کی تعداد جن کا کوئی قریبی دوست نہیں ہے چار گنا بڑھ کر اب بارہ فیصد ہوگئی ہے۔
اسی دوران وہ لوگ جن کے دس یا اس سے زائد قریبی دوست تھے ان کی تعداد میں ایک تہائی کمی واقع ہوگئی ہے۔ پہلے لوگ ریستوران یا تقاریب میں اجنبیوں سے بھی بات کر لیتے تھے، اب لوگ ہجوم میں بھی تنہا ہوتے ہیں۔
امریکا میں اکیلے کھانا کھانے والوں کی تعداد میں انتیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس مضمون میں مزید چشم کشا انکشافات ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک اور 80 سالہ تحقیق کے مطابق حقیقی خوشی اور صحت کا راز نہ دولت میں ہے اور نہ عہدے میں ہے بلکہ قریبی تعلقات میں ہے لیکن اس وقت انسان اپنے قریبی تعلقات سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر ’’وائن ڈبلیو ڈائر‘‘ نے اپنی کتاب ’’پلنگ یور اون اسٹرنگز‘‘ میں لکھا ہے کہ انسان کا استحصال کرنے والوں میں ساٹھ فیصد سے زائد اس کے اپنے قریبی ہوتے ہیں کہ جن میں شریک حیات، والدین، بچے، بھائی بہن اور دیگر قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں۔
استحصال ہونے والے کے لیے ڈاکٹر ڈائر نے ’’وکٹم‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ان حالات میں انسان نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہر رشتے اور تعلق میں انسان یا تو شکار ہے یا شکاری، کوئی تیسری راہ نہیں ہے۔
یہ بات اہم نہیں ہے کہ کوئی آپ کو اپنا وکٹم نہ بنائے بلکہ اہم بات یہ ہے کہ آپ بھی کسی کو اپنا وکٹم نہ بنائیں۔ اگر ہم یہ سبق نہیں لیں گے تو نہ خود خوش رہیں گے اور نہ دوسروں کو خوش رہنے دیں گے۔ بدقسمتی سے من حیث القوم ہم نے سبق نہ لینے والی راہ اپنائی ہوئی ہے۔
اس وقت انسان سماجی ذرائع ابلاغ کی چکا چوند میں مگن ہے جہاں فیس بک پر دوست ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں لیکن حقیقی یا قریبی دوست دو بھی نہیں ہوتے اور اپنی چھوٹی سی ضرورت کا اشتہار سماجی ذرائع ابلاغ پر دینا پڑتا ہے۔
انسان ایک ’’سماجی حیوان‘‘ ہے، پر کیوں آج کا انسان سماج سے متنفر ہورہا ہے؟ جب کہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اگر سماجی حیوان میں سے سماج کو نکال دیا جائے تو پھر جو بجتا ہے وہ اس کو کسی طور پر دیگر مخلوقات سے ممتاز نہیں کرتا بلکہ ہو سکتا ہے کہ سماج کے نکلنے کے بعد شاید انسان اشرف المخلوقات کے منصب پر بھی فائز نہ رہ سکے۔
آج کے انسان نے حقیقی زندگی سے فرار اختیار کرکے خود کو سماجی ذرائع ابلاغ کی دنیا میں گم کر لیا ہے جو لائیک کے نشان جیسے انگوٹھا، دل اور دیگر اشاروں کی دنیا ہے، حالانکہ یہ اشارے یا نشان بھی بعض حالات میں صیحیح دلی کیفیات کی عکاسی نہیں کرتے۔
کچھ صورتحال میں انگوٹھے کے ساتھ باقی چار انگلیاں بھی ہونی چاہئیں یا دل کے نشان کے ساتھ اس میں چھریاں بھی ہونی چاہئیں، غصے کی کیفیت دکھانے کے لیے ایک سے زائد اشارے ہونے چاہئیں۔ اگر ایسا ہوگیا جو دلوں میں موجود ہے تو پھر آخر اس کا انجام کیا ہوگا؟
اس کا انجام یہ ہوگا کہ انسان کامیاب تو ہوگا لیکن تنہا ہوگا۔ اس کے پاس پیسہ تو بہت ہوگا لیکن ساتھ کوئی خرچ کرنے والا نہیں ہوگا۔ انسان کے پاس اپنی کارگزاری یا کارکردگی بتانے کے لیے بہت کچھ ہوگا لیکن کیا وہ اس کے اپنوں کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے؟ شاید کیا یقیناً نہیں۔
اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو ہمارے ارد گرد آسائشوں کا انبار ہوگا لیکن ساتھ میں تنہائی کا عذاب ہوگا۔ ہمارے ملک میں ذہنی امراض کے مسائل بڑھ رہے ہیں لیکن ہمیں اس کا ادراک نہیں ہے۔
اگر ہم اسی راہ پر چلتے رہے کہ ہم کسی کو اس کے حال میں خوش نہیں دیکھ سکتے تو پھر ہم خود بھی خوش نہیں رہیں گے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں خوشیاں چاہتے ہیں تو دوسروں کی خوشیوں میں خوش ہونا شروع کر دیجیے۔
ان کے ساتھ قہقہے لگائیں آپ کی زندگی میں قہقہے واپس آجائیں گے۔ ہم نے راستہ بتانا تھا سو بتا دیا، آگے کون سا راستہ لینا ہے وہ آپ کی مرضی پر منحصر ہے اور کوئی کسی پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکتا کیونکہ ہمارے ملک میں خالص جمہوریت ہے۔