نئے سال کی تڑتڑاہٹ
نئے سال کی پہلی شب جب دنیا بھر میں نئے سال کا استقبال کیا جارہا تھا، حسب روایت کراچی شہر کے مختلف علاقوں سے ہوائی فائرنگ کی تڑتڑاہٹ اور دھماکوں کی آوازوں نے ایک بار پھر شہر کو خوفزدہ اور غمگین کردیا۔
نیوز رپورٹس کے مطابق نئے سال کی رات ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں شہر کے مختلف علاقوں میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 27 شہری زخمی ہوئے، جنھیں مختلف سرکاری و نجی اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں منتقل کیا گیا۔
درجنوں بے گناہ خاندانوں نے نئے سال کی پہلی رات اسپتالوں کی ایمرجنسی میں اپنے پیاروں کی زندگیوں کی دعائیں کرتے ہوئے گزاری۔ یہ منظر نامہ کسی حادثے کا نہیں، بلکہ ایک بار بار دہرائی جانے والی کہانی کا تسلسل ہے، جس کا تاحال کوئی حل نہیں۔
حالانکہ حکومت نے اس سال ہوائی فائرنگ روکنے کے لیے پہلی مرتبہ کراچی میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کیا تھا اور شہر کے مختلف تھانوں کی حدود میں اس ٹیکنالوجی کے تحت ملزمان کی گرفتاری اور سخت ترین اقدامات کا اعلان بھی کیا تھا، جب کہ دوسری طرف کمشنر کراچی طرف سے دفعہ 144 کا نفاذ، اسلحہ کی نمائش اور ڈبل سواری پر پابندی بھی عائد کی گئی تھی۔
لیکن یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ نئے سال کی رات کراچی میں ہوائی فائرنگ نے لوگوں کی خوشیوں کو غم اور خوف میں نہ بدل دیا ہو۔ اسی طرح سے یکم جنوری 2025 کی رات بھی اور اس کے فوراً بعد شہر کے مختلف اسپتالوں میں 25 سے 30 زخمی لائے گئے تھے۔
یہ تعداد صرف ایک رات کے واقعات تک محدود تھی۔ خواتین اور بچوں کا زخمی ہونا، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آوارہ گولی کسی کو نشانہ بنا کر نہیں آتی، بلکہ یہ ہراس شخص کے لیے خطرہ ہوتی ہے جو اس کی زد میں آجائے، اگرچہ اس رات جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، مگر30 معصوم افراد کسی نہ کسی معذوری کے سبب زندہ لاشوں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہر سال خوش قسمتی پر انحصار کیا جا سکتا ہے؟ہوائی فائرنگ کا مسئلہ صرف نئے سال کی رات تک محدود نہیں رہا۔ سال 2025 کے ابتدائی مہینوں سے لے کر وسط سال تک کراچی میں شادی بیاہ، محلے کی تقریبات، سیاسی سرگرمیوں اور کھیلوں میں کامیابی کے بعد ہوائی فائرنگ کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے۔
ان واقعات میں کم از کم 40 سے زائد افراد جان سے گئے جب کہ 200 سے زیادہ شہری زخمی ہوئے۔ ہر واقعہ اپنی نوعیت میں مختلف تھا، مگر انجام تقریباً ایک جیسا، ایمرجنسی وارڈز میں زخمی، سوگوار خاندان اور چند دن بعد اجتماعی خاموشی۔
اگست 2025 میں یومِ آزادی کے موقع پر بھی یہی منظر دہرایا گیا۔ 14 اور 15 اگست کی درمیانی رات کراچی میں ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 3 افراد جاں بحق اور 80 سے زائد زخمی ہوئے۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ تھا کہ متاثرین میں بچوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔
یومِ آزادی جو قومی فخر، اتحاد اور خوشی کی علامت ہونا چاہیے تھا، ایک بار پھر ریاستی غفلت اور سماجی غیر ذمے داری کی مثال بن گیا۔اگر سال بھر کے ان واقعات کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو ایک واضح پیٹرن سامنے آتا ہے۔
نئے سال کی رات، یومِ آزادی، چاند رات، شادیوں کا سیزن اور کھیلوں میں فتوحات، یہ وہ مواقعے ہیں جہاں ہوائی فائرنگ کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ انتظامیہ کو یہ سب پہلے سے معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود اقدامات وقتی، محدود اور نمائشی رہتے ہیں۔
نتیجتاً ہر چند ماہ بعد وہی خبریں، وہی زخمی اور وہی لاشیں سامنے آتی ہیں۔قانونی طور پر ہوائی فائرنگ ایک سنگین اور ناقابلِ قبول جرم ہے۔ دفعہ 144، آرمز ایکٹ اور تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات اس عمل کو صریحاً غیر قانونی قرار دیتی ہیں۔
تاہم عملی صورتحال یہ ہے کہ بیشتر معاملات میں گرفتاریاں محض علامتی ہوتی ہیں، مقدمات کمزور بنتے ہیں اور سزا کا خوف مجرم کے دل میں پیدا نہیں ہو پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر جشن میں فائرنگ کرنے والا خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔
یہاں حکومت، پولیس اور مجموعی طور پر ریاستی اداروں کی ذمے داری سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ غیر قانونی اسلحے کی بھرمار، لائسنس کے نظام کی کمزور نگرانی اور اثر و رسوخ رکھنے والوں کے خلاف کارروائی سے گریز نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
جب شہری یہ دیکھتے ہیں کہ فائرنگ کے باوجود زندگی معمول پرآجاتی ہے اور مجرم چند دن بعد آزاد گھومتا ہے، تو قانون کی ساکھ خود بخود کمزور ہو جاتی ہے۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہوائی فائرنگ کے زیادہ تر متاثرین غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
آوارہ گولی نہ یہ دیکھتی ہے کہ وہ کس کے سر پر گری، نہ یہ کہ متاثرہ شخص کس جرم کا مرتکب تھا۔ یہ گولی صرف یہ ثابت کرتی ہے کہ ریاست شہری کی چھت تک تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہوائی فائرنگ محض ایک سماجی برائی نہیں رہتی بلکہ ریاستی ناکامی کی علامت بن جاتی ہے۔
کراچی جیسے شہر میں، جہاں پہلے ہی اسلحے کے استعمال، ٹریفک حادثات اور جرائم سے سالانہ سیکڑوں جانیں ضایع ہوتی ہیں، ہوائی فائرنگ اس مجموعی المیے میں ایک الگ مگر مہلک اضافہ ہے۔ جرائم کے گراف میں کمی بیشی ہوسکتی ہے، مگر تہواروں اور خاص مواقع پر ہوائی فائرنگ کا گراف ہر سال یکساں طور پر اوپر جاتا ہے۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مسئلہ مخصوص دنوں پر شدت اختیار کرتا ہے اور اسی لیے اس کے لیے خصوصی اور مستقل حکمتِ عملی درکار ہے۔ماہرینِ سماجیات اور نفسیات کے مطابق ہوائی فائرنگ طاقت کے اظہار، مردانگی کے غلط تصور اور اس خطرناک خوش فہمی کا نتیجہ ہے کہ فضا میں چلائی گئی گولی نقصان نہیں پہنچاتی۔
حالانکہ طبیعیات کا سادہ اصول ہے کہ جو چیز اوپر جاتی ہے، وہ واپس نیچے آتی ہے اور اکثر جان لیوا رفتار کے ساتھ۔ اس کے ساتھ اسلحے کی آسان دستیابی، خواہ وہ قانونی ہو یا غیر قانونی، اس رجحان کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ قانون کا نفاذ وقتی نہیں بلکہ مسلسل ہونا چاہیے۔ صرف ایک رات یا ایک دن کی پابندی کافی نہیں۔
اسلحے کے غلط استعمال پر سخت اور یقینی سزا ناگزیر ہے۔ پولیس کے ڈنڈے سے زیادہ اثر معاشرتی دباؤ کا ہوتا ہے، اگر مساجد کے آئمہ، مقامی معززین اور کمیونٹی لیڈرز ہوائی فائرنگ کو کھل کر’’ گناہ‘‘ اور ’’ سماجی برائی‘‘ قرار دیں، تو اس کے اثرات دیرپا ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح ہمیں بحیثیت معاشرہ اس شخص کا سماجی بائیکاٹ کرنا ہوگا جو خوشی کے اظہار کے لیے اسلحے کا سہارا لیتا ہے۔ دنیا کے دیگر بڑے شہروں میں نئے سال اور قومی ایام پر لاکھوں کے مجمعے جمع ہوتے ہیں، مگر وہاں خوشی کا اظہار لیزر شو، موسیقی اور ثقافتی سرگرمیوں سے کیا جاتا ہے، نہ کہ گولیوں سے۔
دبئی، لندن اور بیجنگ جیسے شہروں میں قانون کا احترام اور انسانی جان کی قدر اولین ترجیح ہے۔اس کے برعکس ہمارے ہاں بندوق کو طاقت اور مردانگی کی علامت بنا دیا گیا ہے۔