شاہ عنایت شہید

شاہ شہید کے بعد دوسرے نمبر پر نوبل انعام یافتہ روسی ادیب اور مصنف لیو ٹالسٹائی کا نام آتا ہے

معلوم تاریخ کے مطابق زرعی دور اور جاگیرداری نظام کے آنے کے بعد دنیا میں صرف تین ایسے عظیم انسان پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی جاگیریں غریب اور مسکین ہاریوں میں تقسیم کردیں۔

ان عظیم انسانوں میں پہلا نام سندھ کے سپوت شاہ عنایت شہید کا ہے، جنہوں نے 1710ء میں پہلے ٹھٹہ شہر اور پھر جھوک شریف میں دو بڑے کمیون قائم کیے، اپنی جاگیریں غریب لوگوں میں تقسیم کیں اور پہلی مرتبہ باقاعدہ ایک ایسا انسان دوست اور فطری سماج قائم کیا جس نے مغل سلطنت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔

شاہ شہید کے بعد دوسرے نمبر پر نوبل انعام یافتہ روسی ادیب اور مصنف لیو ٹالسٹائی کا نام آتا ہے، جنہوں نے اپنی جاگیریں غریبوں میں تقسیم کیں اور ان کے پیروکاروں نے ماسکو کے قریب’’ لائف اینڈ لیبر کمیون‘‘ قائم کیا۔

اس سلسلے کا تیسرا شخص کوریا کا جنرل کم شاہن ( کم شاشن ) تھا، جو صوبے کا گورنر بھی رہا۔ اس نے غلامی کے کاغذات جلا دیے اور اپنی جاگیر غریب ہاریوں میں تقسیم کردی۔ بہرحال بات ہو رہی ہے، سندھ کے عظیم سپوت شاہ عنایت اللہ شہید کی، جو 1655ء میں ٹھٹہ شہر میں مخدوم فضل اللہ لانگاہ کے گھر پیدا ہوئے۔

علم کی پیاس بجھانے کے لیے پہلے ملتان گئے، جہاں شاہ شمس سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد ہندوستان روانہ ہوئے اور حیدرآباد دکن کے قریب برہانپور میں وقت کے ایک بڑے عالم سید عبدالملک کے مدرسے میں داخل ہوئے، جو مغل حکومت میں مشیر بھی تھے۔

اس طرح شاہ عنایت اللہ کو حکومتی معاملات کو سمجھنے اور پرکھنے کا موقع ملا۔ یہ مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیرکا دور تھا جو مذہبی شدت پسندی کے لیے مشہور تھا۔

اس نے حیدرآباد دکن پر قبضے کے لیے اکیس برس تک جنگ کی، غریبوں کا جینا دوبھرکردیا اور شدید خونریزی کی۔ حساس دل شاہ عنایت اللہ نے مظلوم لوگوں کی زبانی حکومتی مظالم کے قصے خود بھی سنے۔ ظاہر ہے کہ اس ظلم و جبرکی کارروائیوں کا ان پرگہرا اثر ہوا اور ان کے دل میں حکومت کے خلاف نفرت پیدا ہوئی، جو ایک فطری عمل تھا۔

شاہ عنایت اللہ نے کئی سال سید عبدالملک کے مدرسے میں تعلیم حاصل کی اور سخت مشقتیں برداشت کیں۔ اس کے نتیجے میں استاد ان پر مہربان ہوگئے اور انھیں تمام رموز سے آگاہ کیا۔ اب شاہ عنایت اللہ علمی لحاظ سے پختہ ہو چکے تھے۔

انھوں نے سید عبدالملک کے مدرسے میں ہندوستانی فلسفیوں کے ساتھ ساتھ چینی فلسفیوں لاؤزی اور کنفیوشس، یونانی فلسفیوں سقراط، افلاطون اور ارسطو، نیز ایرانی فلسفی مانی اور مزدک کی تعلیمات سے بھی آگاہی حاصل کی۔

مزدک کے مساوات کے فلسفے نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب شاہ عنایت واپس سندھ آئے تو سب سے پہلے ٹھٹہ شہر میں ایک کمیون قائم کیا، مگر حکمرانوں کی مخالفت اور ملاؤں کے فتوؤں سے تنگ آ کر اپنے گاؤں جھوک میران پور آ گئے۔

وہاں انھوں نے اس سے بھی بڑا اجتماعی کمیون قائم کیا اور مشترکہ کاشت کاری شروع کی۔ بڑھاپے کے باوجود وہ خود بھی کاشتکاری کرتے تھے۔ یہاں بھی وڈیروں کی مخالفت اور حکمرانوں و ملاؤں کی مداخلت جاری رہی۔

بالآخر جھوک پر حملہ کیا گیا اور 35 کامریڈ شہید کردیے گئے۔ اس جرم میں قاتلوں کی زمینیں ضبط کر کے مقتولین کے ورثاء کو دے دی گئیں۔ شاہ عنایت اور ان کے ساتھیوں نے خون بہا میں ملنے والی ان زمینوں پر بھی کمیون قائم کیا اور وہاں کام کرنے والے ہاریوں کو بے دخل کرنے کے بجائے اپنے ساتھ شامل رکھا۔

اس صورتحال نے وڈیروں کو مزید مشتعل کر دیا۔ انھوں نے ٹھٹہ کے نئے گورنر اعظم خان کے ساتھ مل کر کمیون میں کام کرنے والے ہاریوں پر بھاری ٹیکس عائد کیے۔ ان کار پر دہلی کے بادشاہ فرخ سیر کو بھڑکایا کہ شاہ عنایت اللہ بادشاہ کے خلاف بغاوت کر چکے ہیں۔

یوں گورنر ٹھٹہ نے بادشاہ فرخ سیر سے اجازت حاصل کی کہ شاہ عنایت کی تحریک کو کچل دیا جائے۔ اس کے بعد جھوک پر چڑھائی کی گئی، جس میں سبی اور ڈاڈھر کے صوبیدار یار محمد کلہوڑو، بکھر (موجودہ سکہر) کے نواب محمود خان، اڑوس پڑوس کے وڈیرے اور زمیندار شاہی لشکر میں شامل تھے۔

جھوک میران پور پر حملہ کر دیا گیا۔ مسلسل چار ماہ جنگ جاری رہی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ بلکہ دشمن اس بات پر پریشان ہو گیا کہ محاصرے کے باوجود کمیون کے رہائشیوں کو خوراک کی کوئی کمی نہ ہوئی اور نہ ہی کوئی شخص شاہ عنایت کے خلاف اٹھا یا بغاوت ہوئی۔

بلکہ یہ جنگ پورے ہندوستان پر اثر انداز ہو رہی تھی۔ جس طرح ہر انقلاب میں عورت کا کردار ہوتا ہے، اسی طرح جھوک کی جنگ میں بھی صغریٰ پنہور اور سائرہ بی بی جیسے لازوال کردار ملتے ہیں، جن پر تحقیق کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اس صورتحال کے بعد دشمن نے ایک سازش تیار کی اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا ڈھونگ رچایا۔ قرآنِ پاک سر پر اٹھا کر جھوک پہنچے اور ابتدائی بات چیت کے بعد شاہ عنایت کو یہ کہہ کر اپنے ساتھ لے گئے کہ باقی صلح کی باتیں اور معاہدے پر دستخط گورنر اعظم خان کے روبرو ہوں گے۔

بعد ازاں دھوکے سے شاہ شہید کو ان کے بھائی شاہ رحمت اللہ، بھتیجے اور داماد محمد یوسف سمیت پورے مذاکراتی وفد کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد دشمن نے جھوک پر یلغار کر دی اور شہر کو آگ لگا کر جلا دیا۔ اس جنگ میں شاہ عنایت سمیت 25 ہزار کامریڈ شہید ہوئے۔

امر جلیل اپنی کتاب’’سندھ نامہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ جھوک کی جنگ سندھ کے عوام کی سب سے بڑی جنگ ہے، جو سب سے طویل عرصہ چلی۔ ڈاکٹر محمد علی مانجھی، ڈاکٹر مبارک علی، ڈاکٹر شاہ محمد مری اور ڈاکٹر ریاض شیخ جیسے جید علما و دانشور لکھتے ہیں کہ شاہ عنایت کا فلسفہ آج کے دور میں بھی قابلِ عمل ہے۔

جی ایم سید نے بھی لکھا ہے کہ’’ شاہ عنایت نے جو کچھ کہا، اس سے زیادہ آج سائنس اور علم کے دور میں بھی نہیں کہا جا سکتا۔‘‘ ایسی صورت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مل کر شاہ عنایت کے فکر و فلسفے کو اپنائیں اور انسانوں کے دکھ درد اور تکالیف کو کم کریں۔

عمل کا راستہ ہمارے سامنے موجود ہے اور شاہ عنایت کو آج بھی عوام میں جو پذیرائی حاصل ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بائیں بازوکی قوتیں اگر اس فکر پر چلیں تو ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ کرکے عوام کو اس منزل تک پہنچا سکتی ہیں جس کی تمنا ہر باشعور انسان کرتا ہے۔

Load Next Story