عالمی سیاست میں چھوٹے ممالک کی بقا
عالمی سیاست طاقت کا کھیل ہے اور اس کھیل میں اکثر چھوٹے ممالک مہرے سمجھے جاتے ہیں۔ بڑی طاقتیں اپنی معاشی، عسکری اور سفارتی قوت کے بل پر عالمی فیصلوں کی سمت متعین کرتی ہیں، جب کہ کمزور اور متوسط ممالک ان فیصلوں کے اثرات بھگتنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ چھوٹے ممالک محض مجبور فریق نہیں ہوتے بشرطیکہ وہ اپنی حکمتِ عملی، ترجیحات اور قومی مفاد کو واضح رکھیں۔
چھوٹے ممالک کی سب سے بڑی کمزوری ان کا جغرافیہ نہیں بلکہ ان کی داخلی کمزوری ہوتی ہے۔ جب ریاست اندر سے منقسم، معاشی طور پر ناتواں اور ادارہ جاتی طور پر کمزور ہو، تو عالمی طاقتیں اسے آسانی سے دباؤ میں لے لیتی ہیں۔
اس کے برعکس، وہ چھوٹے ممالک جو داخلی استحکام، واضح خارجہ پالیسی اور قومی اتفاقِ رائے قائم کر لیتے ہیں، وہ عالمی سیاست میں اپنا وزن پیدا کر لیتے ہیں۔
دنیا میں سنگاپور، قطر، ناروے اور فن لینڈ جیسے ممالک اس کی مثال ہیں۔ آبادی اور رقبے میں محدود ہونے کے باوجود انھوں نے تعلیم، معیشت، سفارت کاری اور ادارہ جاتی شفافیت کو اپنی طاقت بنایا۔
ان ممالک نے کسی ایک طاقت پر اندھا انحصار کرنے کے بجائے توازن (Balance) اور مفاد (Interest) کو اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد بنایا۔ چھوٹے ممالک کے لیے سب سے خطرناک راستہ یہ ہوتا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کی پراکسی بن جائیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ ایسی ریاستیں وقتی فائدہ تو حاصل کر لیتی ہیں مگر طویل مدت میں خودمختاری، وقار اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کھو بیٹھتی ہیں۔ افغانستان، عراق اور لیبیا جیسے ممالک اس حقیقت کی تلخ مثال ہیں کہ بڑی طاقتوں کی جنگیں ہمیشہ چھوٹوں کی زمین پر لڑی جاتی ہیں۔
عالمی سیاست میں بقا کا اصل ہتھیار عسکری قوت نہیں بلکہ دانشمندانہ سفارت کاری ہے۔ مضبوط خارجہ سروس، پیشہ ورانہ مذاکرات، علاقائی تعاون اور اقتصادی خودانحصاری… یہ وہ ستون ہیں جن پر چھوٹے ممالک اپنی بقا کی عمارت کھڑی کر سکتے ہیں۔
ساتھ ہی، عالمی قوانین، بین الاقوامی اداروں اور کثیرالجہتی فورمز کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنا بھی چھوٹے ممالک کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے سبق واضح ہے۔
جذباتی نعروں کے بجائے حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی، اندرونی استحکام اور قومی مفاد پر مبنی فیصلے ہی عالمی سیاست میں عزت اور بقا کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
طاقتور بننے کی خواہش فطری ہے، مگر دانشمند بننا اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے کیونکہ عالمی سیاست میں چھوٹے ممالک کی بقا طاقت سے نہیں، سمجھداری سے ہوتی ہے۔
عالمی سیاست طاقت کے عدم توازن پر قائم ہے اور اس نظام میں پاکستان جیسے ممالک نہ مکمل طور پر طاقتور ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر کمزو بلکہ ایک ایسے خطے میں موجود ہیں جہاں ہر عالمی اور علاقائی طاقت کے مفادات آپس میں ٹکراتے ہیں۔ یہی جغرافیائی اہمیت پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے اور سب سے بڑی آزمائش بھی۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہم نے اکثر اپنی اہمیت کو طاقت سمجھ لیا اور طاقت کے توازن کو مفاد کے توازن پر ترجیح دی۔ سرد جنگ سے لے کر نائن الیون کے بعد تک، پاکستان بارہا عالمی طاقتوں کی ترجیحات کا حصہ بنا مگر شراکت دار کم اور مہرہ زیادہ رہا۔
پاکستان کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ وہ چھوٹا یا کمزور ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی قومی ترجیحات میں تسلسل نہیں۔ خارجہ پالیسی اکثر داخلی سیاسی کشمکش، وقتی دباؤ اور جذباتی بیانیوں کے زیرِ اثر رہی۔ دنیا کے کامیاب چھوٹے ممالک نے ایک بات واضح رکھی: ریاستیں دوست نہیں، مفادات رکھتی ہیں۔
ہم نے اس اصول کو تسلیم کرنے کے بجائے بارہا وقتی اتحادوں کو مستقل ضمانت سمجھ لیا۔ عالمی سیاست میں پاکستان کی بقا کا دارومدار عسکری اہمیت سے زیادہ معاشی وقار پر ہے۔
دنیا اب ان ممالک کو سنجیدگی سے لیتی ہے جو عالمی معیشت میں اپنا کردار رکھتے ہوں، جن کی برآمدات، انسانی وسائل اور ٹیکنالوجی قابلِ قدر ہوں۔ قرض پر چلنے والی ریاستیں، چاہے جغرافیائی طور پر کتنی ہی اہم کیوں نہ ہوں، فیصلہ سازی میں آزاد نہیں رہ سکتیں۔
پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی سیاست میں بقا کا سوال یہ نہیں کہ آپ کس کے ساتھ کھڑے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ خود کتنے مضبوطی سے کھڑے ہیں۔