جمہوریت، طاقت اور عوام کی بے دخلی
کہاں سے بات شروع کریں؟
شاید وہاں سے جہاں الفاظ اپنی معنویت کھو بیٹھتے ہیں، جہاں جمہوریت محض ایک خوش نما خیال بن چکی ہے اور جہاں عوام جن کے نام پر حکومت بنائی جاتی ہے، اقتدارکے ایوانوں سے باہر دھکیل دیے جاتے ہیں۔
جمہوریت ایک ایسا لفظ جسے ہر آمر، ہر سامراجی طاقت، ہر سرمایہ دار نظام، اپنی سہولت کے مطابق استعمال کرتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت واقعی عوام کی حکمرانی ہے یا صرف ایک ایسا پردہ جس کے پیچھے طاقتور اپنے مفادات کا کھیل کھیلتے ہیں؟
ہمیں بتایا گیا تھا کہ جمہوریت میں عوام حاکم ہوتے ہیں، لیکن ہم جس دنیا میں سانس لے رہے ہیں وہاں 98 فیصد عوام کی رائے، زندگی، تکلیف اور خواہشات کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور دو فیصد اشرافیہ کارپوریٹ ادارے، عسکری اتحاد، عالمی مالیاتی ادارے فیصلہ کرتے ہیں کہ کون ملک آزاد ہے اورکون ناکام ریاست ،کون لیڈر جمہوری ہے اورکون آمر۔
وینز ویلا کے منتخب صدر اور ان کی اہلیہ کا اغوا، یہ واقعہ محض ایک خبر نہیں، یہ جمہوریت کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے۔ ایک ایسا صدر جو عوام کے ووٹ سے منتخب ہوا ،جس نے غربت کے خلاف بات کی، جس نے تیل کی دولت پر عوام کے حق کی بات کی اچانک غیر جمہوری قرار دے دیا جاتا ہے۔
کیوں اس لیے کہ اس نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے سامنے سر جھکانے سے ان کارکیا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں جمہوریت کی اصل تعریف عیاں ہو جاتی ہے اگر آپ سامراج کے مفادات کے ساتھ ہیں تو آپ جمہوری ہیں اگر آپ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں تو آپ خطرہ ہیں۔
جمہوریت کے یہ دعوے دار صرف اپنی مرضی کی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، وہ جمہوریت جو ان کے بینک اکاؤنٹس، ان کی ملٹی نیشنل کمپنیوں، ان کے اسلحہ ساز کارخانوں اور ان کے عالمی تسلط کو تحفظ دے۔
ایسی جمہوریت جہاں ووٹ ڈالنے کی اجازت تو ہو مگر معاشی فیصلے عوام کے ہاتھ میں نہ ہوں۔ ایسی جمہوریت جہاں پارلیمان موجود ہو، مگر پالیسیاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک تحریرکریں۔
ہمیں یہ بھی بتایا جاتا رہا ہے کہ امریکا جمہوریت کا علمبردار ہے مگر اس علمبرداری کی تاریخ غلامی، نسل کشی، فوجی بغاوتوں اور منتخب حکومتوں کے تختے الٹنے سے بھری پڑی ہے۔
لاطینی امریکا، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ کہاں کہاں جمہوریت کو برآمد نہیں کیا گیا اور ہر بار اس برآمدات کے ساتھ خون، غربت اور عدم استحکام بھی آیا۔ وینز ویلا اس طویل فہرست کا تازہ نام ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ فلاں لیڈرکامل ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ فیصلہ کرنے کا حق کس کے پاس ہے؟ اگر واقعی جمہوریت عوام کی حکمرانی ہے تو پھر کسی بیرونی طاقت کو یہ اختیارکس نے دیا کہ وہ منتخب صدرکو اغوا کرے، پابندیاں لگائے، معیشت کو مفلوج کرے اور پھرکہے کہ عوام خوش نہیں۔
حقیقی جمہوریت وہ نہیں جس میں ہر پانچ سال بعد ایک پرچی ڈال کر عوام خاموش کرا دیے جائیں۔ حقیقی جمہوریت وہ ہے جس میں 98 فیصد عوام کی مرضی حکمرانی کرے نہ کہ دو فیصد سرمایہ دار طبقہ۔ حقیقی جمہوریت وہ ہے جس میں تعلیم، صحت، روزگار اور رہائش بنیادی حقوق ہوں خیرات نہیں۔ جہاں ریاست کارپوریشنزکی محافظ نہیں، بلکہ عوام کی خادم ہو۔
یہی مسئلہ ہے اگر واقعی 98 فیصد حکمران ہو جائیں تو پھر اس نظام کا کیا بنے گا جہاں چند ہاتھوں میں دولت اور طاقت ہوتی ہے۔ یہ چند لوگ باقی سب کو محکوم بنائے رکھتے ہیں۔ اس خوف کی وجہ سے ہر اس تجربے کو کچل دیا جاتا ہے جو ترقی پسند اور عوام دوست ہوتا ہے۔ اس پر آمریت انتہاپسندی یا غیر جمہوری کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔
ہم اپنے ملک کی طرف دیکھیں تو تصویر زیادہ مختلف نہیں۔ یہاں بھی جمہوریت کا شور ہے مگر عوام کے لیے روٹی، بجلی، پانی اور انصاف نایاب ہیں۔ یہاں بھی فیصلے عوام نہیں کرتے کہیں اور ہوتے ہیں۔ یہاں بھی طاقت ور طبقات جمہوریت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور جب عوام سوال اٹھائیں تو انھیں غدار کہہ دیا جاتا ہے۔
جمہوریت صرف آئین میں لکھی چند شقوں کا نام نہیں، یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ یہ جدوجہد اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک معاشی انصاف قائم نہ ہو۔ سیاسی برابری اُس وقت بے معنی ہو جاتی ہے جب معاشی صورتحال اس کے برعکس ہو۔
وینزویلا کا واقعہ ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ مسئلہ افراد کا نہیں نظام کا ہے۔ ایک ایسا نظام جو عوام کی خود مختاری کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ایک ایسا نظام جو کہتا ہے ووٹ دو مگر ہماری شرائط پر۔
کہاں سے بات شروع کریں؟
شاید وہاں سے جہاں ہم یہ مان لیں کہ جوکچھ ہمیں جمہوریت کے نام پر بیچا جا رہا ہے، وہ جمہوریت نہیں۔ شاید وہاں سے جہاں ہم یہ سوال اٹھائیں کہ اگر عوام کی اکثریت حکمران نہیں، تو اس نظام کو جمہوریت کہنے کا حق کس کو ہے؟
حقیقی جمہوریت تب آئے گی، جب وینز ویلا، فلسطین، پاکستان اور دنیا کے تمام محکوم عوام اپنی تقدیر کے فیصلے خود کریں گے، بغیر کسی اغوا ، بغیر کسی پابندی، بغیرکسی سامراجی سرپرستی کے اور یہی وہ جمہوریت ہے جس سے طاقتور سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں۔
جمہوریت کو کمزورکرنے کے لیے صرف فوجی مداخلت یا کھلی آمریت ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ نرم ہتھکنڈے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ میڈیا کے ذریعے رائے عامہ کو ہموار کرنا، این جی اوز اور تھنک ٹینکس کے ذریعے مخصوص بیانیے کو فروغ دینا اور انسانی حقوق کے نام پر منتخب حکومتوں کو بدنام کرنا، اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
عوام کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کی بدحالی کی وجہ ان کے اپنے منتخب نمائندے ہیں جب کہ اصل طاقتیں پس منظر میں رہ کر خود کو بری الذمہ ظاہر کرتی ہیں۔ اس عمل میں عوام کے شعور کو تقسیم کیا جاتا ہے، انھیں لسانی، مذہبی اور نسلی بنیادوں پر ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا جاتا ہے تاکہ وہ اجتماعی طور پر سوال اٹھانے کے قابل نہ رہیں۔
جب بھوک، خوف اور غیر یقینی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں تو ووٹ کی طاقت محض ایک علامت بن کر رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی جمہوریت صرف سیاسی ڈھانچے کی تبدیلی سے نہیں آتی بلکہ سماجی شعور طبقاتی یکجہتی اور سامراجی مفادات کی پہچان سے جنم لیتی ہے۔
جب تک عوام یہ نہیں سمجھیں گے کہ ان کے مسائل مقامی نہیں بلکہ عالمی نظام سے جڑے ہیں، تب تک ہر ملک میں جمہوریت کا خواب اسی طرح پامال ہوتا رہے گا اور طاقتور طبقہ اسے ایک خوبصورت مگر کھوکھلا نعرہ بنا کر استعمال کرتا رہے گا۔