وینز ویلا
جنگِ پلاسی کے بعد انگریز میسور میں داخل ہوئے اور ٹیپو سلطان نے لڑتے لڑتے شہادت پائی، مگر انگریزوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے، اسی طرح پنوشے نے چلی میں صدر آلندے کے محل کا محاصرہ کیا اور اس نے اسی بندوق سے اپنی جان لے لی جو اس کو تحفے میں فیدل کاسترو نے کبھی دی تھی مگر ہتھیار نہیں ڈالے۔
اسی طرح مادورو، نیو یارک کی جیل میں یہ کہہ رہا ہے کہ وہ ، وینز ویلا کا آئینی صدر ہے۔ لاطینی امریکا دنیا کا ایک بدنصیب خطہ ہے جو ہمیشہ آمریتوں کے زیرِ تسلط رہا۔ سرد جنگ کے زمانے میں لاطینی امریکا سے کوئی امریکا کا اتحادی رہا اورکوئی سوویت یونین کا۔
چی گویرا ارجنٹینا کا باشندہ تھا، مگر وہ اپنے آپ کو لاطینی امریکا کا باشندہ کہتا تھا۔ اس نے کیوبا میں کاسترو کے آگسٹو کی آمریت کا خاتمہ کیا، پھر ٹراٹسکی کے فکرکو مانتے ہوئے وہ بولیویا چلا گیا، وہ پورے لا طینی امریکا کی آزادی کا خواہاں تھا اور پھر وہیں چی گویرا مارا گیا۔
غبارِ خاطرکے تمام باب کھل گئے جب مادردوکو امریکا کے کمانڈوز نے یرغمال بنایا۔ میری جوانی لاطینی انقلابیوں کے رومانس میں گزری۔
دنیا کا خوبصورت لٹریچر یہیں سے آیا۔ گارشیا، نرودا، بورجز، پاز۔ بین الاقوامی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا لیکن یہاں پر ایسا ہی ہے ’’ جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ یہاں جنگل کا قانون راج کرتا ہے۔
نیتن یاہو نے جو کچھ کیا وہ انسانیت کے خلاف جرم نہیں اور مادورو نے کچھ نہ کرتے ہوئے بھی جرم کیا۔ اس کو سزا دینے کا حق صرف وینز ویلا کی عوام کے پاس ہے،کسی اورکے پاس نہیں۔
تین عظیم جنگیں، دو لگ چکی ہیں اور تیسری لگنے والی ہے، ان جنگوں نے دنیا کے نقشے تبدیل کیے۔ سرحدیں توڑیں، نئی سرحدیں بنائیں، نئی ریاستیں بنائیں اور نئی ریاستیں توڑی۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد اب رواں سال میں ایسا ہونے جا رہا ہے کہ دنیا کا نقشہ پھر سے تبدیلی کی طرف جا رہا ہے۔ تیسری اور شاید آخری بار کیونکہ ٹیکنالوجی کے انقلاب نے دنیا کی ریاستوں کو مدِ مقابل لا کھڑا کیا ہے۔
ریاستوں کے بیچ فاصلوں، زبانوں اور ثقافت کو قریب سے قریب ترکردیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے زبانوں کے فاصلوں کو کم کردیا ہے، اگر میں اردو میں کہوں گا اور میرے سامنے والا اردو نہیں بلکہ انگریزی میں سمجھے اور جواب دے گا تو جدید ٹیکنالوجی ان زبانوں کو اس وقت ترجمہ کر کے دوسرے بندے تک پہنچائے گی۔ صرف کچھ ہی عرصے بعد زبانوں کے حوالے سے ایک جدید ایپ ایجاد کی جائے گی۔
پہلے جنگیں اس دنیا پر مسلط رہیں۔ دائیں بازوکی سیاست کی نفرت نے جمہوریت کو یرغمال بنایا، لیکن وہ صبح کبھی تو آئے گی اور ساحر لدھیانوی سچ ثابت ہوںگے۔ یہ ایک دھول ہے جو جلدی ہی بیٹھ جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تاریخ کے اس حادثے پر انسانوں کو کتنی قیمت ادا کرنی ہوگی۔
ذوالفقار علی بھٹو نے اس ملک کو ایٹمی طاقت بنا کر فولاد کی سرحدیں دے کر گئے۔ اس قوم کو ایٹم بم دے کر انھوں نے ایک تاریخ رقم کی۔ یہ حقیقت ہے کہ ایٹمی قوت بننے کے بعد ہمیں بھوک، غربت اور بہت سے سختیاں جھیلنی پڑیں مگر سوچیں اگر ہمارے پاس ایٹم بم نہ ہوتا تو آج پاکستان کاکیا ہوتا؟
ذوالفقار علی بھٹو کہتے تھے کہ ’’ ہم گھاس کھائیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے‘‘ آخرکار وہ اس بم کی پاداش میں سولی چڑھ گئے۔ اس وقت جن ریاستوں کے پاس ایٹمی توانائی موجود نہیں، وہ اپنی ساخت اور وجود کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی ہیں۔
یورپ جو دوسری جنگِ عظیم کا محور تھا، وہ آج بہت پیچھے ہے۔ یورپ، بغداد کی تہذیب کے بعد دنیا کی وہ دوسری بڑی تہذیب تھی جس نے دنیا میں علم و تحقیق کو اجاگرکیا۔ اب یہ مرکز ایشیاء منتقل ہو رہا ہے۔
یورپ کی بڑی فوجی طاقت روس ہے اور پوری لاطینی، شمال اور مغربی امریکا کا مرکز متحدہ امریکا ہے۔ ایشیاء کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی طاقت چین ہے، لیکن ان تینوں میں طاقت کے لحاظ سے امریکا کو فوقیت حاصل ہے۔
اسی لیے امریکا احتساب سے بالا تر ہے،کوئی اس سے سوال نہیں کرسکتا۔ امریکا نے اسرائیل کی غزہ میں بربریت کی حمایت کی، اس وقت کہاں تھا چین اورکہاں تھا روس۔ بین الاقوامی قانون کی سب سے بڑی خلاف ورزی روس نے 2014 میں کی جب اس نے کریمیا پر چڑھائی کی۔
یوکرین پر حملہ کر کے پورے یورپ کو حیران کردیا۔ روس اور ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں تضادات کو ہوا دی کہ یوکرین پر حملے کی بات ثانوی ٹھہرے۔ دوسری طرف چین نے تائیوان کی سرحدوں پر اپنی جنگی مشقیں تیز کردیں۔
بات بڑھتے ہوئے یہاں تک پہنچی کی شام کے صدرکو بھاگنا پڑا۔ ایران اور اسرائیل آمنے سامنے ہوگئے، حوثی باغی تیز ہوگئے۔ اسرائیل نے حزب اللہ پر لبنان میں حملہ کردیا اور اسی پسِ منظر میں ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کردیا، یہاں منظرنامہ reverse ہوتا ہے۔
وہ پاکستان جو بدحالی کا شکار ہے، معاشی طور پر بے حد کمزور تھا اور جس کا دنیا میں کوئی مقام نہیں تھا، اس نے دنیا کو کر دکھایا۔ دنیا نے پاکستان کو صرف ایٹمی طاقت ہی نہیں مانا بلکہ فوجی اور دفاعی طاقت کو بھی مانا۔ پاکستان کی طرف دنیا کا رویہ تبدیل ہوا۔ ہندوستان اور افغانستان اتحادی بن گئے۔
ایران میں عوام مظاہرے کر رہے ہیں۔ مذہبی حکومت خود اپنے بیانیے کا شکار بن چکی ہے۔ افغانستان کی حکومت نے مذہبی انتہا پرستی کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے مگرکب تک؟ بنگلہ دیش میں، شیخ حسینہ واجد سے میرے اور میری فیملی کے دیرینہ تعلقات تھے، جب بھی ان سے ملنے کا بہانہ بنا، میں نے ان کو یہی کہا کہ پاکستان سے اتنا دور نہ جائیں۔
شیخ حسینہ واجد کی پارٹی اسی بیانیہ پر منحصر تھی، وہ ہندوستان سے بہت قریب ہوگئے اور اب جو حالات بنگلہ دیش میں ہیں وہ ڈھکے چھپے نہیں۔ اب وہاں پاکستان کے لیے نفرت نہیں، مگر گماں ایسا ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش ابھی تک سنبھلا نہیں۔
آنے والے وقت میں ساؤتھ ایشیاء میں یقیناً بھائی چارہ ہوگا کیونکہ یہی ہمارے مفاد میں ہے کہ یہاں امن ہو اور اس خطے کو آگے لایا جائے۔ یہی بات سامراجی قوتوں کو اچھی نہیں لگتی۔
2025 ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی شکست کا سال تھا۔ امریکا نے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔2025 میں پاکستان کے لیے کامیابیوں کا سال ثابت ہوا۔ ہم نے سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کر لیا۔
دفاعی اعتبار سے ہم چین سے بہت قریب ہیں۔ ہم ایران میں آنیوالی تبدیلیوں کو بھی قریب سے دیکھ رہے ہیں اور اسرائیل کا اثرورسوخ بھی بڑھا ہے ۔ 2026 کے شروع ہوتے ہی وینز ویلا کے واقعے نے دنیا کے منظر نامے کو تبدیل کردیا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ یہ آپریشن وینز ویلا کے اندر سے مخبری اور فوج کے گرین سگنل کے بغیر ہوا ہے تاکہ گولی نہ چلے اورکوئی جانی نقصان بھی نہ ہو اور وہاں کے صدرکو محل سے اٹھایا جائے۔
چین یہ سب دیکھتا رہا جب کہ وینز ویلا اس کا سب سے بڑا اتحادی تھا اور اب جو ایران میں ہونے جا رہا ہے، کیا وہاں بھی چین اور ایران کے اتحادی ایسے ہی دیکھتے رہیں گے؟
ہندوستان کو یہ گمان تھا کہ وہ امریکا، چین اور روس کے بعد سب سے بڑی فوجی و معاشی طاقت ہے مگر پاکستان کی اس مختصر جنگ کے بعد ہندوستان کا یہ بھرم ٹوٹ چکا ہے کہ اس دوڑ میں اب پاکستان بھی شامل ہوچکا ہے۔
ہماری ایٹمی طاقت ہم سے چھیننے کے لیے ہمیں ایران کی طرح اندر سے کھوکھلا کرنے کی سازشیں کی گئیں، ہماری کالی بھیڑیں ظاہر ہوئیں۔ ہماری صفیں اندر سے اب قدرے بہتر ہیں۔ ہم فوجی طاقت بھی ہیں اور ہم ایٹم طاقت بھی مگر ضرور اس بات ہے کہ ہمیں معاشی طور پر مضبوط بننا ہے۔ ہماری معاشی حالت اب بھی بہت کمزور ہے۔
ہمیں ذوالفقار علی بھٹو نے نہ صرف ایٹمی طاقت بنایا بلکہ ایک مضبوط آئین بھی دیا، مگر افسوس کہ آج وہ ہی پارٹی اپنا وقارکھو بیٹی ہے اور اس پارٹی میں کوئی ایسی شخصیت نہیں، جس کے لیے یہ نعرہ لگایا جائے کہ چاروں صوبوں کی زنجیر بے نظیر بے نظیر۔