کاٹن ایئر 2025-26 کے دوران سندھ میں کپاس کی ترسیل میں غیر معمولی اضافہ

2014-15 میں پاکستان کی کپاس کی مجموعی پیداوار ایک کروڑ 48لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ تھی

کاٹن ایئر 2025-26 کے دوران سندھ کے کاٹن جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی ترسیل میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے.

تفصیلات کے مطابق کاٹن ایئر 2025-26 کے دوران پنجاب اور بلوچستان سے ملکی تاریخ میں پہلی بار بڑے پیمانے پر کپاس کی خریداری سرگرمیوں کے نتیجے سندھ کے کاٹن جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی ترسیل میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جسکے باعث سندھ میں گذشتہ 2سال کے مقابلے میں دوگنا اضافے سے 82 جننگ فیکٹریاں فعال ہوگئی ہیں۔

چیئرمین کاٹن جنر فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ روایتی طور پر سندھ کے بڑے کاٹن زون کے بیشتر اضلاع جن میں بدین، ٹھٹھہ، میرپور خاص، حیدر آباد، عمر کوٹ اور سانگھڑ شامل ہیں، کے ساتھ ساتھ دیگر کچھ علاقوں میں فروری اور مارچ کے دوران کپاس کی کاشت شروع ہونے سے جون کے مہینے سے ہی نئے کاٹن جننگ سیزن کا آغاز اور اکتوبر، نومبر میں اس اس کا اختتام ہوتا تھا اور اس دوران پنجاب کے متعدد کاٹن جنرز بھی سندھ سے کپاس کی خریداری کرکے اپنی جننگ فیکٹریوں کو فعال کرلیا کرتے تھے تاہم گزشتہ تین سال سے سندھ کے بیشتر کاٹن جنرز نے پنجاب کی بیشتر بڑی منڈیوں رحیم یار خان، بہاولپور، بہاولنگر، ڈی جی خان، خانیوال اور وہاڑی کے ساتھ بلوچستان سے بھی اعلیٰ معیار کی کپاس کی خریداری شروع ہونے سے  سندھ میں 31 دسمبر کو سندھ بھر میں فعال کاٹن جننگ فیکٹریوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ کے مذکورہ کاٹن زون میں بیشتر فعال جننگ فیکٹریاں فی الوقت اعلیٰ اور درمیانے معیار کی کپاس کو مکسڈ کرکے کاٹن کی جننگ کر رہے ہیں جس سے مقامی ٹیکسٹائل ملوں کو مناسب قیمتوں پر روئی کی فراہمی کے مواقع پیدا ہوگئے ہیں اور انہی عوامل کے سبب روئی طلب اور قیمتوں میں بتدریج اضافے کا رحجان پیدا ہوگیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 31دسمبر 2022 کو پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 27لاکھ 18ہزار اور سندھ میں 18لاکھ 12ہزار گانٹھوں کے مساوی کپاس کی ترسیل ہوئی تھی جس میں بلوچستان کی 92ہزار گانٹھیں بھی شامل ہیں۔ یہ اطلاعات بھی زیرگردش ہیں کہ ملک بھر میں نئی شوگر ملز کے قیام اور پہلے سے قائم شوگر ملز پر پیداواری صلاحیت بڑھانے پر عائد پابندی ختم ہونے کے امکانات ہیں لیکن اس ممکنہ اقدام ملک میں کپاس کی کاشت مزید کمی کے خطرات پیدا ہوں گے جو کپاس کی مقامی پیداوار میں خدشات ہیں۔ جس کے نتیجے میں مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار بڑھ جائے گا اور پاکستان کو اربوں ڈالر مالیتی روئی کے ساتھ خوردنی تیل بھی درآمد کرنا پڑے گا۔

انہوں نے بتایا کہ 2014-15 میں پاکستان کی کپاس کی مجموعی پیداوار ایک کروڑ 48لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ تھی جو تواتر کے ساتھ کم ہوتے ہوئے صرف 55لاکھ گانٹھوں تک محدود ہو گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایات پر اس وقت پاکستان میں مختلف سطحوں پر کپاس کی بحالی بارے مختلف پراجیکٹس زیر غور ہیں تاہم اگر نئی شوگر کے قیام پر پابندی ہٹادی جاتی ہے تو ان پراجیکٹس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا اس لئے وفاقی حکومت کو چاہیئے کہ وہ نئی شوگر ملز پر پابندی ہٹانے کی بجائے کراپ زوننگ قوانین پر عمل درآمد کروائے تاکہ پاکستان میں کپاس حقیقی طور پر ”بحال“ ہوسکے۔

Load Next Story