جلے بھی جلائے بھی
Shireenhaider65@hotmail.com
ہم سبھی جانتے ہیں اس چیز کو… بلکہ اس جذبے کو جو کہ دوسرے کو جلا کر بھسم کر دیتا ہے اور کرنیوالے کو بھی نہ صرف جلاتا ہے بلکہ اسے یوں اندر ہی اندر کھاتا ہے جیسے لکڑی کو دیمک- انسانی جذبات میں غصے اور نفرت کے جذبات کو عموما ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے مگر یہ دو جذبات بھی عموما اسی جذبے کے بطن سے جنم لیتے ہیں جسے حسد کا جذبہ کہا جاتا ہے- حسد سے مراد یہ ہے کہ ہم کسی شخص کے لیے تمنا رکھیں کہ جو کچھ اسے عطا ہوا ہے، جو کچھ اس کی صلاحیتیں ہیں، انھیں زوال آجائے-
اس کی کامیابی اور خوشی سے ہمارے دل کو تکلیف اور اس کی ناکامی اور تکلیف سے ہمیں خوشی محسوس ہو- اس کے لیے دل میں کینہ اور بغض ہو اور نہ صر ف دل میں سوچیں بلکہ اس کے بارے میں لوگوں سے بات بھی کریں کہ اسے یہ کامیابی کیوں ملی ہے… وہ تو اس کے قابل ہی نہیں ہے- میں اگر ڈاکٹر نہیں ہوں، استاد نہیں ہوں ، انجینئر نہیں، سیاست دان بھی نہیں اور عالم بھی نہیں مگر کسی ڈاکٹر، استاد، انجینئر، سیاست دان یا عالم کو کوئی کامیابی ملے، دوسرے اسے سراہیں اور اسے اپنی قابلیت کی بنا پر کوئی اہم عہدہ ملے، مراعات حاصل ہوں تو مجھے خواہ مخواہ میں تکلیف ہو کہ یہ سب اسے کیوں ملا… یہ سوچ کیوں نہیں آتی کہ اسی کو ملتا ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے، جس نے اس کے لیے محنت کی ہوتی ہے اور جس کی فیلڈ ہوتی ہے-
کوئی مجھ سے پوچھے کہ کسی خلا باز نے کوئی کامیابی حاصل کر لی تو اس نے اس کے لیے محنت کی اور کام کیا، مجھے گھر میں صوفے پر بیٹھ کر ٹیلی وژن دیکھتے ہوئے تو یہ کامیابی نہیں مل سکتی نہ ہی کسی اور شخص کے نصیب کا مجھے مل سکتا ہے- مجھے تو وہی ملے گا جو میرے نصیب میں لکھا ہے، جس کے لیے میں نے کام کیا ہے اور جو میری محنت کے نتیجے میں اللہ تعالی کا کرم ہے، اگر مجھے کسی اور کو حاصل ہونے والی خوشیوں سے تکلیف محسوس ہوتی ہے تو مجھے سوچنا چاہیے کہ اگر اسے نہ ملتا تو کیا مجھے مل جاتا؟اگر آپ ایک ہی عمر، جماعت، کلاس، محکمے اور ایک جیسی قابلیت کے دو یا دو سے زیادہ لوگ ہیں تو اس میں امکان ہوتا ہے کہ ایک ہی نوعیت کا مقابلہ ہوا اور اس میں وہ لوگ کامیاب ہوجائیں جو کسی قابلیت میں آپ سے بڑھ کر ہیں، وہاں حسد محسوس ہونا تو سمجھ میں آتا ہے کہ ظاہر ہے وہ اور آپ دوبدو مقابلے پر تھے اور آپ کو اس کے مقابلے میں ہار ہوئی- وہاں آپ کے دل میں حسد پیداہونا justifiedہے مگر جہاں کوئی مقابلہ ہو نہ واسطہ نہ تعلق… وہاں حسد بالکل بے جا اور ایک بیماری ہے-
قرآن کریم میں بھی اور احادیث مبارکہ میں بارہا اس کے بارے میں ذکر کیا گیا اور بتایا گیا ہے کہ حسد انسان کو خود بھی تباہ کردیتا ہے اور حسد کی نظردوسرے کو جلا دیتی ہے- اگر پیغمبروں سے ان کے بھائیوں کو حسد ہو سکتا ہے اور وہ حسد ان کی عمر کا جانے کتنا ہی حصہ تکلیف میں گزار دیتے ہیں تو ہم تو بہت ہی عام لوگ ہیں- جابجا حسد کا ذکر کیا گیا ہے اور اس سے بچنے کا کہا گیا ہے اور تو اور حسد سے پناہ مانگی گئی ہے- سورۃ البقرہ، سورۃ النساء، سورۃآل عمران، سورۃ یوسف، سورۃ الحجر، سورۃ الحشر، اور سورۃ الفلق میں حسد کا ذکر کیا گیا اور ہمیں اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے-ہم میں سے جو دوسروں سے دنیاوی یا دینی، کسی بھی لحاظ سے بہتر ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنا موازنہ دوسروں کے ساتھ نہ کرے اور بالخصوص دوسروں کے سامنے اس کا تذکرہ نہ کرے -
اگر آپ کو لگے کہ کسی کو کسی بھی معاملے میںآپ سے خار ہے، خاندانی، کاروباری، دفتری یا محلے داری کا تو اسے اپنے گھر سے اور گھر کے حالات سے دور رکھیں- کوشش کریں کہ وہ آپ کے گھر نہ آئے، آپ کے گھر میں وہ سہولتیں نہ دیکھے اور نہ ہی آپ کے گھر کے حالات کو جانے- آپ کی دولت، زیور، لباس، صلاحیتیں ، گاڑیاں، آپ کی فرمانبردار اولاد، آپ زوجین کا آپسیںحسن سلوک، آپ کے گھر کے کھانے، ملازمین، سلیقہ اور اخلاق- یہ سب دوسروں کو حسد میں مبتلا کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں- جب تک یہ سب دوسروں کی نظروں سے اوجھل ہے آپ ان کی سوچ کے فتنے اور حسد سے محفوظ رہتے ہیں، اپنے بچوں کو بھی بتائیں کہ اپنے گھر کے بارے میں نہ کسی کو بتائیں اور نہ دکھائیں-
کوئی آپ کو گزند نہیں پہنچا سکتا جب تک کہ وہ آپ کے اور آپ کے گھر کے بارے میں تمام تفصیلات کو جانتا نہ ہو- آپ کے منصوبے تبھی ناکام ہو سکتے ہیں جب تک آپ انھیں قبل از وقت دوسروں کیساتھ شئیر نہ کریں، آپ کے مستقبل کے بارے میں منصوبے آپ کا اپنا راز ہیں، انھیں آپ خود ہی دوسروں کو بتاتے اور انھیں ان منصوبوں کو مسمار کرنے کا موقع دیتے ہیںیا آپ کو جان بوجھ کر ایسا غلط مشورہ دیں گے کہ جس سے نقصان کا احتمال ہو، اس سے ان کی حس حسد کو تسکین ملے گی- آپ کے خاندان کے بارے میں صرف وہ لوگ سازش کریں گے جو آپ کے ہاں کثرت سے آتے ہیں، جن پر آپ پورا اعتماد کرتے ہیں اور انھیں اپنے بچوں اور گھروں کے بارے میں معلومات دیتے ہیں- مثا ل کے طورپر آپ نے انھیں بتایا کہ آپ کا فلاں بچہ آپ کی بات نہیں مان رہا ہے اور وہ کام کرنے کی ضد کررہا ہے جو اس کے حق میں نقصان دہ ہے-
وہ شخص حاسد ہے تو وہ آپ کے اور آپ کے بچے کے درمیان اختلاف کو ہوا دے گا تا کہ آپ دونوں کے بیچ خلیج پیدا ہو جائے- جس کام سے آپ اپنے بچے کومنع کررہے ہیں وہ اسے وہی کام کرنے پر مجبور کرے گا تا کہ آپ کے بچے کو تقصان ہو اور آپ کو اس کا دکھ ہو، اس کے جذبات کو سکون مل جائے گا- کوئی شخص اس وقت آپ کی کمزوریوں کو نہیںجان سکتا جب تک کہ آپ اسے خود نہ بتائیں یا وہ آپ کے بہت قریب نہ رہا ہو- قطع تعلقی نہ کریں مگر ہر رشتے، تعلق اور دوستی کی ایک حد ہوتی ہے- بسا اوقات بعض باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو کہ آپ کا ایسا راز ہیں جس کا کسی اور کو معلوم ہو جانا آپ کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے، وہ راز آپ کا قیدی ہے اور جب آپ کسی اور کو بتا دیتے ہیں تو آپ اپنے راز کے قیدی بن جاتے ہیں-
کبھی کبھار کوئی بات ایسی ہے جس کا آپ کے بچوں کے لیے بھی جاننا ضروری نہیں ہے تو انھیں بھی نہ بتائیں - اسی طرح اپنے قریبی عزیزوں کے لیے بھی ایک حد مقرر ہونا چاہیے کہ انھیں کس بات کا علم ہونا چاہیے اور کس کا نہیں- نہ آپ خود دوسروں سے کرید کرید کر باتیں دریافت کریں اور نہ کسی اور کو اجازت دیں کہ وہ آپ سے غیر ضروری سوالات کرے جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے- مختصر بات، مختصر کال، مختصر بیانات سب سے بہتر ہیں کہ اس میں فضول گوئی کے امکانات بھی کم ہوتے ہیں اور انسان اپنے بارے میں خواہ مخواہ بڑھا چڑھا کر بات نہیں کرتا جو کہ دوسروں کو تکلیف دے - اپنی زندگی کے وہ گوشے کسی پر عیاںنہ کریں جو آپ کے بہت ذاتی ہیں، جانے کب وقت بدل جائے، دوست دشمنوں کی اور دشمن دوستوں کی صف میں کھڑے نظر آئیں - جو لوگ کبھی آپ کے لیے وہ حیثیت رکھتے ہیں جن کے بغیر جینا محال لگتا ہے، کبھی وہ سکون جان تھے وہ جان کا عذاب بن جاتے ہیں کیونکہ وہ آپ کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں اور جب وہ آپ کے مخالف ہوتے ہیں تو وہ ان حاسدوں سے ہاتھ ملا لیتے ہیں جو ہمیشہ سے آپ کو برباد کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں-
اپنے گھر کو بری نظر اور حسد سے محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ کسی کو اتنا بے تکلف نہ ہونے دیں کہ وہ اس بے تکلفی میںبہت سی باتیں جان لے، آپ کا احترا م اور عزت کرنا چھوڑ دے، آپ کے اہم خانہ سے ایسی دوستی کرلے جسے آپ پسند نہ کریں- ان اہل خانہ کے ذریعے وہ آپ کے بارے میں معلومات جمع کر کے ان سے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے، کوئی اور نقصان نہ بھی کرے مگر آپ کے اندرون خانہ حالات اسے آپ سے حسد میں مبتلا کردیں اور وہ آپ کو زبانی اور عملی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے- نہ وہ لکڑی بنیں جوخود بھی جلتی دوسروں کو جلاتی ہے، نہ وہ دیمک بنیں جولکڑی کو اندر ہی اندر کھاتی ہے اور جب اس کا علم ہوتا ہے تو وہ خود بھی تلف کر دی جاتی ہے-
حسد ایک ایسا کھٹمل ہے جو آپ کے بدن کو یوں غیر محسوس طریقے سے کاٹتا ہے کہ آپ کو درد اور جلن تو محسوس ہوتی ہے مگر آپ اسے ڈھونڈنے کی کوشش کریں کہ اسے مار دیا جائے یا تلف کردیا جائے تو نہیں مل سکتا- تعلیم اور شعور ہمیں یہ ضرور سکھاتا ہے کہ نہ حسد کریں اور نہ دوسروں کو خود سے حسد محسوس کروائیں- اپنی کسی خوبی یا ملکیت کو بڑھا چڑھا کر پیش نہ کریں کہ دوسروں کو اس کی کمی کا غم لگ جائے اور وہ آپ کے لیے بھی نقصان کی خواہش اوربد دعا کرنے لگیں - حسد کی آگ جلتی بھی ہے، حسد کرنیوالے کو بھی اور دوسروں کو جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔