پاکستان کو وینز ویلا کون سمجھ رہا ہے؟ اویسی یا مودی؟

جرمن صدر فرانک والٹر کہتے ہیں کہ دنیا عالمی نظام کو ایسے ’’ ڈکیتوں کے اڈے ‘‘ میں تبدیل نہ ہونے دے جہاں بے ایمان لوگ جو چاہیں لے لیں

قارئین! کیا آپ کے ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے کہ جس طرح سے ٹرمپ نے وینز ویلا میں فوجی آپریشن کر کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اپنے مخالفین کو گرفتار کر کے امریکا میں لا کر بدمعاشی کی بالکل ویسے ہی بھارت کے مودی بھی پاکستان کے خلاف ہیلی کاپٹر کو بھیج کے اپنے مخالفین کو اٹھا کر بھارت لے جائیں اور پھر اس کو سزا دینے کی بات کریں؟

ایسا کوئی پاکستانی تو کیا بھارتی بھی خواب و خیال میں بھی نہیں سوچ سکتا مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی بات بھارت کے مشہور رہنما کر رہے ہیں اور وہ کوئی انتہا پسند ہندو جماعت کے لیڈر نہیں بلکہ بھارتی مسلمانوں کی ایک جماعت کے رہنما ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے وینز ویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکی سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ایک تقریب سے خطاب میں انڈین وزیرِاعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ممبئی حملے کے ملزمان کو پاکستان سے اِسی طرح اٹھوانے کا چیلنج دیا ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ’’مودی جی ہم آپ کو کہہ رہے ہیں کہ آپ بھی امریکی صدر ٹرمپ کی طرح پاکستان میں آرمی بھیج کر ممبئی کی سڑکوں پر سازش کرنے والے پاکستانیوں کو اٹھوا لیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینیز ویلا کے منتخب صدر کو اپنی فوج کے ذریعے گرفتار کر کے امریکا لے جا سکتے ہیں تو انڈیا بھی ایسا کر سکتا ہے۔‘‘ اویسی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’ اگر ٹرمپ کر سکتا ہے تو کیا آپ کم ہیں؟ ‘‘ اویسی نے صرف اس پر بس نہیں کیا بلکہ امریکا کی وینز ویلا میں کارروائی کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی یمن میں کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب دیگر ممالک اپنی فوجی طاقت استعمال کر سکتے ہیں تو انڈیا کیوں پیچھے رہے؟

ان کے اس بیان پر ایک پاکستانی سوشل میڈیا پر یہ پیغام دیا ہے کہ ’’ میں چاہوں گا کہ آپ پہلے پاکستان سے ایشیا کپ کی ٹرافی اٹھوائیں، محسن نقوی نے وہ ابھی تک نہیں دی۔‘‘ بہرحال یہ ایک بڑا اہم سوال یہ ہے کہ اویسی جیسے رہنما اس قسم کی زبان کیوں بول رہے ہیں اور ماضی میں بھی اس قسم کی باتیں کیوں کرتے رہیں؟ ایک خیال یہ ہے کہ مودی سرکار اپنی خواہشات ان کی زبان سے ظاہر کروا رہی ہے لیکن یہ ان کی مجبوری ہے کیونکہ وہ ماضی قریب میں جس طرح پاکستانی فضائیہ افواج کے ہاتھوں اپنی عزت خراب کروا چکے ہیں، اس کے بعد خود انھیں بھی یقین ہے کہ وہ عملاً پاکستان کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔ یہ حقیقت بھارت اچھی طرح جان چکا ہے کہ ان کے  آپریشن ’’سندور‘‘ کو پاک فضائیہ نے جلتے ’’ تندور‘‘ میں تبدیل کردیا تھا جس میں ان کے سارے ارمان جل گئے۔

بھارتی مسلمانوں کے رہنما اویسی اس قسم کی گفتگو اکثر کرتے ہیں، اہم سوال یہ ہے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف زمین اس قدر تنگ کر دی گئی ہے کہ اب انھیں ان کے بنیادی انسانی حقوق بھی میسر نہیں آرہے ہیں اور اس قدر کھلی بدمعاشی چل رہی ہے کہ مسلمانوں کو اس ظلم و ستم سے بچنے کے لیے مجبوراً بار بار یہ ظاہر کرنا پڑتا ہے کہ وہ بھارت کے بہت بڑے وفادار ہیں، نیز اس بات کا یقین دلانے کے لیے اویسی جیسے لوگ دھواں دھار تقریرکر کے پاکستان کو برا بھلا کہتے ہیں کہ شاید اس طریقے سے انتہا پسندوں کے ظلم و ستم سے کسی حد تک بچ سکیں اور یہ ثابت کر سکیں کہ مسلمان بھارت کے خلاف عزائم یا سوچ نہیں رکھتے لیکن اس سب کے باوجود مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کے اقدامات مسلسل سامنے آرہے ہیں جس پر خود بھارت کی غیر مسلم شخصیات بھی سخت تنقید کرتی آرہی ہیں۔

اویسی جیسے رہنماؤں کے اس قسم کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کے قیام کے وقت جن لوگوں نے پاکستان کی مخالفت کی تھی اور وہ سمجھتے تھے کہ ہندو مسلم مل کر ایک ملک میں سکون کی زندگی گزار سکتے ہیں اور انھیں مذہبی آزادی بھی میسر آسکتی ہے، ان کا یہ نظریہ قطعی غلط ثابت ہوا۔ آج جو کچھ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے وہ ثابت کر رہا ہے کہ بٹوارے کے وقت جن مسلمانوں نے علیحدہ وطن کے نظریے کو اپنایا تھا وہ قطعی درست تھا۔

ان کا یہ سمجھنا قطعی درست تھا کہ ہندو کے ساتھ رہتے ہوئے ان کو ان کے مذہبی اور بنیادی حقوق نہیں مل سکتے اور وقت نے ثابت کر دیا کہ ان کا خیال غلط نہیں تھا کانگریس کا ساتھ دینے والے مسلمان رہنما اس دنیا سے چلے گئے اگر وہ آج زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ مسلمانوں پر زمین کس قدر تنگ کر دی گئی ہے کہ ایک مسلم رہنما کہلوانے والا بھی اپنے آپ کو محب وطن اور بھارت کا وفادار ثابت کرنے کے لیے پاکستان پہ حملہ کرنے کے لیے ایسے احمقانہ بیانات دے رہا ہے جو کوئی بھی ذی شعور انسان نہیں دے سکتا۔ ایسے بیانات تو انتہا پسند ہندو بھی نہیں دے رہے ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ٹرمپ کے وینز ویلا کے خلاف اقدامات کو پوری دنیا میں سخت نفرت سے دیکھا جا رہا ہے اور اس کو خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔

جرمن صدر فرانک والٹر کہتے ہیں کہ دنیا عالمی نظام کو ایسے ’’ ڈکیتوں کے اڈے ‘‘ میں تبدیل نہ ہونے دے جہاں بے ایمان لوگ جو چاہیں لے لیں۔ عالمی جمہوریت پر ایسا حملہ کیا جا رہا ہے جتنا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ یہ دنیا ڈاکوؤں کے اڈے میں تبدیل ہوگئی ہے جہاں سب سے زیادہ بے ایمان لوگ جو چاہیں لے لیتے ہیں، جہاں خطے یا پورے ممالک کو چند بڑی طاقتوں کی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔‘‘

 یوں تمام ہی دنیا ٹرمپ کی اس حرکت کو غلط قرار دے رہی ہے مگر بھارت میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ مسلمان رہنما اپنے مستقبل سے یقیناً خوف زدہ ہوچکے ہیں تب ہی وہ اس قسم کے بیانات دے رہے ہیں۔

ان حالات کی گواہی خود بھارت کے اندر سے بھی آرہی ہے۔ مثلا پرکاش راج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ انڈیا میں بھارتی مسلمانوں کو ختم کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ تمام لوگ اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس ملک میں کیا ہورہا ہے، جو کچھ ہورہا ہے وہ دراصل ایک نسل کشی کی تیاری ہے۔ مسلمانوں کو یہ لوگ مٹانا چاہتے ہیں، قبائلی لوگوں کو اور اقلیتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم قوانین اور ضابطوں کی بات کرتے ہیں مگر ان کے لیے ایسی کسی چیزکی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ان کے پاس ضمیر نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ میں اس سے قبل بھی یہ بات کہہ چکا ہوں۔‘‘ واضح رہے کہ ان کا اصل نام پرکاش رائے ہے اور یہ 26 مارچ 1965 کو کرناٹک، بھارت کے ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مودی کی خواہش اویسی کی زبان پر آئی ہے تاہم ان حالات میں اویسی جیسے کسی لیڈر کا پاکستان کو وینز ویلا سمجھنے کا بیان تو سمجھ میں آتا ہے لیکن اگر مودی ایسی کوئی خواہش رکھتے ہیں تو وہ شاید بھول رہے ہیں کہ  پاکستان کے حافظ صاحب ابھی کچھ ہی ماہ قبل بھارت کو یہ باور کرا چکے ہیں کہ پاکستان کے سامنے اس کی اوقات وینز ویلا سے زیادہ نہیں۔

Load Next Story