پاکستان ریلویز بوگیوں کی کمی پر قابو پانے میں ناکام، مسافر شدید مشکلات کا شکار

ریلوے کی تمام تر توجہ صرف ریلوے اسٹیشنز کی خوبصورتی پر مرکوز دکھائی دیتی ہے

لاہور:

پاکستان ریلویز نہ تو اپنے انفرا اسٹرکچر کو مؤثر طور پر اَپ گریڈ کر سکا ہے اور نہ ہی مسافر ریل گاڑیوں میں بوگیوں کی شدید کمی کو پورا کیا جا سکا، جبکہ تمام تر توجہ صرف ریلوے اسٹیشنز کی خوبصورتی پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ بوگیوں کی قلت کے باعث مسافر ریل گاڑیوں کی روانگی میں گھنٹوں کی تاخیر معمول بن چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق بوگیوں کی کمی پوری کرنے کے لیے پاکستان ریلویز قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسی بوگیوں کو بھی آپریشن میں شامل کر رہا ہے جن کی فزیکل، مکینیکل اور الیکٹریکل اوورہالنگ کی مقررہ مدت مکمل ہو چکی ہے۔

انکشاف ہوا ہے کہ ان غیر فِٹ بوگیوں کو مسافر ٹرینوں میں ایڈجسٹ کر کے آپریشن جاری رکھا جا رہا ہے، جو مسافروں کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

پاکستان ریلویز ذرائع نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ اس وقت ملک بھر میں راولپنڈی، فیصل آباد، کراچی، پشاور سمیت مختلف شہروں کے لیے تقریباً 106 مسافر ریل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں، جن کے لیے 1560 بوگیوں کی ضرورت ہے، جبکہ دستیاب بوگیوں کی تعداد 1100 کے قریب ہے۔ اس طرح 400 سے زائد بوگیوں کی واضح کمی کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق کمی کو پورا کرنے کے لیے 100 سے زائد ایسی بوگیوں کو بھی استعمال میں لایا جا رہا ہے جنہیں فوری اوورہالنگ کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریل گاڑیوں کے اچانک ڈی ریل ہونے کی ایک بڑی وجہ یہی غیر معیاری اور مکمل طور پر فِٹ نہ ہونے والی بوگیاں ہیں، کیونکہ جب کوچز محفوظ حالت میں نہ ہوں تو حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ بوگیوں کی تعداد میں بروقت اضافے کے لیے کیرج ورکشاپ کو اربوں روپے کے فنڈز فراہم کیے گئے تھے، تاہم ریلوے کیرج فیکٹری مقررہ وقت پر نئی بوگیاں فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اسی وجہ سے لاہور، کراچی، راولپنڈی، فیصل آباد سمیت مختلف روٹس پر ٹرینوں کی آمد و رفت میں کئی کئی گھنٹوں کی تاخیر ہو رہی ہے۔

صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ بعض روٹس پر ایک ریل گاڑی کے اسٹیشن پہنچتے ہی اس کی بوگیاں فوری طور پر دوسری ریل گاڑی کے ساتھ جوڑ دی جاتی ہیں، جبکہ بوگیوں کی کمی تیسری ٹرین سے پوری کی جاتی ہے۔ بعض اوقات اگر مطلوبہ ریل گاڑی تاخیر یا حادثے کا شکار ہو جائے تو مسافروں کو بوگیاں کم کر کے دوسری ٹرینوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔

ریلوے ٹریک کی خستہ حالی کے ساتھ ساتھ بوگیوں کی کمی بھی ٹرینوں کی روانگی اور آمد میں تاخیر کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔ تاہم اس معاملے پر ترجمان پاکستان ریلویز کا کہنا ہے کہ اس وقت ریلوے کے پاس 1105 مسافر کوچز موجود ہیں اور کوچز کی کوئی کمی نہیں۔

ان کے مطابق 52 پاور پلانٹس درکار ہیں جبکہ 54 دستیاب ہیں، اور رواں ماہ کے اختتام تک مزید 50 کوچز سسٹم میں شامل کر دی جائیں گی، جس سے ٹرینوں کی اَپ گریڈیشن میں مدد ملے گی۔

ترجمان کے مطابق ضرورت کے مطابق کوچز سسٹم میں موجود ہیں اور بوگیوں کی قلت کا تاثر درست نہیں۔

Load Next Story