شرپسندوں کے گھروں سے امریکی ہتھیار اور دھماکا خیز مواد پکڑا گیا؛ ایران
مظاہرین میں شامل شرپسندوں کو بیرون ملک سے دہشتگردی کی ہدایات ملنے کی آڈیو بھی ریکارڈ کی ہیں
ایران میں ملک گیر احتجاج کے دوران حالات اس وقت مزید کشیدہ ہوگئے جب درمیان میں امریکا بھی کود پڑا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر کی مظاہرین کی حمایت اور ایران پر حملے کی دھمکی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ مظاہرین کو بیرونی ممالک کی حمایت حاصل ہے جن میں امریکا اور اسرائیل شامل ہیں۔
تازہ پیشرفت میں ایرانی انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں سے امریکی اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا ہے.
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اسلحہ اور دھماکا خیز مواد شرپسندوں نے اپنے گھروں میں چھپا کر رکھے تھے اور بیرونِ ملک سے ہدایات لے رہے تھے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو انٹرویو میں بتایا کہ ایران کے پاس ایسی آڈیو ریکارڈنگز بھی موجود ہیں جن میں بیرونِ ملک سے دہشت گرد ایجنٹس کو پولیس اور مظاہرین پر فائرنگ کے احکامات دیے جا رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ اُسی وقت بند کیا گیا جب ہمیں یقین ہوگیا کہ دہشت گردوں کو ان کارروائیوں کی ہدایات ملک سے باہر سے آ رہی ہیں۔ جن کا مقصد قتل و غارت پھیلانا تھا۔”
یاد رہے کہ ایران اس سے قبل بھی امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کر چکا ہے کہ وہ احتجاج کو پرتشدد بنانے کے لیے غیر ملکی ایجنٹس استعمال کر رہے ہیں۔
ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق تہران سمیت مختلف شہروں میں مظاہروں کے دوران گاڑیاں اور عمارتیں نذرِ آتش کی گئیں جب کہ سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں بھی جاری ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صدر ٹرمپ کی فوجی کارروائی کی دھمکیوں پر کہا کہ اگر امریکا فوجی آپشن آزمانا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں۔ یہ آپشن پہلے بھی آزمایا جا چکا ہے۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اب بھی مذاکرات کو ہی دانشمندانہ راستہ سمجھتا ہے مگر بعض طاقتیں امریکا کو اسرائیل کے مفادات کے لیے جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہیں۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے دفتر کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت اعلیٰ حکام صدر ٹرمپ کو سفارتی اور فوجی آپشنز پیش کر رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں 15 دن سے جاری مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 800 سے زائد ہے۔
اقوام متحدہ نے بھی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں ہلاکتوں کی تعداد سیکڑوں میں پہنچ گئی ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں 28 دسمبر سے معاشی بدحالی اور کرنسی کی شدید گراوٹ کے خلاف جاری مظاہرے اب حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہوگئے۔