مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈے کہاں کہاں اور کیوں ہیں؟

ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں، تنصیبات اور مفادات کو نشانہ بنانے کی جوابی دھمکی دی ہے

ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

بی بی سی اردو میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایران نے واضح انتباہ دیا ہے کہ اگر امریکا نے فوجی حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اسی تناظر میں رائٹرز کے مطابق قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر موجود بعض امریکی اہلکاروں کو عارضی طور پر وہاں سے واپس آنے کا کہا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن یہ عندیہ دے چکا ہے کہ وہ ایران میں جاری احتجاجی تحریک کے دوران مظاہرین کے تحفظ کے لیے فوجی مداخلت کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔

العدید ایئر بیس: امریکی فضائی طاقت کا مرکز

العدید ایئر بیس قطر کے دارالحکومت دوحہ کے نواح میں واقع ہے اور اسے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیوں کا سب سے اہم فضائی مرکز سمجھا جاتا ہے۔

یہ اڈہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے فضائی آپریشنز کا ہیڈکوارٹر ہے، جہاں 10 ہزار امریکی فوجی اور جدید جنگی طیارے تعینات ہیں جبکہ برطانوی فوج بھی وقفے وقفے سے موجود رہتی ہے۔

اس اڈے کو امریکا نے دو دہائیاں قبل قطر کے ساتھ دفاعی تعاون کے تحت فعال کیا تھا جبکہ بعد ازاں دوطرفہ معاہدوں کے ذریعے امریکی موجودگی کو باضابطہ حیثیت دی گئی۔

حالیہ برسوں میں امریکا نے اس اڈے پر اپنی موجودگی کو مزید طویل کرنے کا فیصلہ کیا، جو اس کی اسٹریٹیجک اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکا مشرقِ وسطیٰ میں کہاں کہاں موجود ہے؟

العدید ایئر بیس کے علاوہ امریکا کی فوجی موجودگی خلیج اور اس کے گرد و نواح میں پھیلی ہوئی ہے۔ بحرین، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، عراق، شام اور مصر سمیت متعدد ممالک میں امریکی فوجی یا عسکری سہولیات موجود ہیں۔

امریکی وزارتِ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت خطے میں کئی ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ عراق اور شام میں یہ فوجی خاص طور پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں اور مقامی فورسز کی تربیت کے فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ دیگر ممالک میں ان کی موجودگی میزبان حکومتوں کی منظوری سے ہے۔

بحری محاذ پر بھی امریکی موجودگی

فضائی اور زمینی اڈوں کے ساتھ ساتھ امریکا نے بحیرۂ احمر، خلیجِ عمان اور بحیرۂ روم میں بھی اپنی بحری قوت تعینات کر رکھی ہے۔

امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ان پانیوں میں گشت کر رہے ہیں، جس کا مقصد کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال میں فوری عسکری ردِعمل کی صلاحیت برقرار رکھنا ہے۔

یوں مشرقِ وسطیٰ اس وقت امریکا کی بری، بحری اور فضائی تینوں افواج کی موجودگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔

امریکا اتنی دور فوج کیوں رکھتا ہے؟

ماہرین کے مطابق امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں مستقل عسکری موجودگی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ خطہ ایشیا، یورپ اور افریقہ کے سنگم پر واقع ہے اور عالمی تجارت کے اہم بحری راستے یہیں سے گزرتے ہیں۔

تیل کی دریافت کے بعد اس خطے کی اسٹریٹیجک حیثیت مزید بڑھ گئی، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی دلچسپی اب محض توانائی تک محدود نہیں رہی۔ اسرائیل کی سلامتی، اتحادی ریاستوں کا دفاع، شدت پسند تنظیموں کا مقابلہ اور ایران جیسے علاقائی حریفوں کو متوازن رکھنا بھی امریکی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

ایران، روس اور چین کا عنصر

امریکا خطے میں اپنی موجودگی کو اس لیے بھی ضروری سمجھتا ہے تاکہ روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود رکھا جا سکے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی فوجی اڈے نہ صرف فوری عسکری کارروائی کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں بلکہ کئی مواقع پر بغیر گولی چلائے بھی طاقت کا تاثر قائم رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

 

Load Next Story