دین اور دین کا استعمال؟

اسلام ایک نہایت قابل عمل اور آسان دین ہے

معاشرے میں رہتے ہوئے عموماً یہ الفاظ ضرور سننے میں ملتے ہیں کہ کسی بارے میں بنایا گیا قانون تو بالکل ٹھیک ہے لیکن اس کا استعمال غلط ہے۔ یہ بات کوئی بھی قانون دان آسانی سے سمجھ سکتا ہے اور سمجھا بھی سکتا ہے۔ کیونکہ قانون ہمیشہ امن قائم کرنے اور ظلم کو روکنے کےلیے بنایا جاتا ہے، لیکن اس کو سمجھنے اور استعمال میں بہت سی کوتاہیاں اور غفلتیں اس کو ناقص بنا دیتی ہیں۔

قوانین اکثر ایسے الفاظ میں بیان کیے جاتے ہیں جن کی تشریح کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ یہ اس انداز سے بنائے جاتے ہیں کہ معاشرے میں امن قائم کرنے کےلیے منفرد حالات میں مختلف نزاکتوں کے ساتھ یہ مختلف افراد کو نیویگیٹ کرسکیں۔ اسی لیے بعض اوقات ایک تحریری قانون سخت اور اطلاقی اعتبار سے متصادم معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے اطلاقات میں اتنی لچک ضرور ہوتی ہے کہ دفع ضرر کیا جاسکے۔ ضرورت صرف اس کو صحیح سمجھنے اور اس کے صحیح استعمال کی ہے۔ اس لیے محض ’’قانون‘‘ بذات خود کافی نہیں ہوتا بلکہ اس کا عمل اور اس کا استعمال ہی اسے موثر بناتا ہے، کیونکہ اس کا حتمی مقصد انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے لیکن اس انصاف کی یقین دہانی صرف تحریری قوانین سے نہیں ہوسکتی۔ یہ ان لوگوں پر زیادہ انحصار کرتا ہے جو اسے لاگو کرتے ہیں۔ کیونکہ مختلف افراد پر متضاد حالات میں اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ مختصراً قانون ایک درست اصول ہوتا ہے لیکن انسانی غلطی، تشریح، اس کے حقیقی نفاذ کو ناقص کرسکتے ہیں۔

بالکل ایسا ہی معاملہ ہماری طرف سے سے دین اسلام کے ساتھ پیش ہے۔ دین اسلام دین الٰہی ہے۔ ایک مکمل اور خالص دین،جیسا کہ قانون کا اطلاق انسانوں (ججوں، وکلا، قانون نافذ کرنے والے) کے ذریعے کیا جاتا ہے، جو فیصلے یا اطلاق میں غلطیاں کرسکتے ہیں۔ ایسے ہی دین کے بارے میں پیدا ہونے والا کوئی بھی منفی تاثر خود بنیادی تعلیمات الٰہی کے بجائے انسانی اطلاق اور تشریح سے پید ا ہوتا ہے، اور اکثر اوقات یہ تاثرات انسانی حقوق کے ضمن میں، خواتین کے بارے میں احکامات یا تشدد کے واقعات کے بارے میں بات چیت میں سامنے آتے ہیں، لیکن بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جہاں اسلام (قرآن و سنہ) کا پیغام خالص اور مکمل ہے، وہیں اسے نافذ کرنے والے آج کے مسلمان خود نامکمل ہیں۔

قرآن و حدیث کا صحیح فہم رکھنے والا کسی بھی دینی مسئلے کے بارے میں آپ کو یہ رائے دیتا نظر آئے گا کہ دین بالکل ٹھیک ہے لیکن دین کا استعمال غلط ہوا ہے۔ اور ہمارے ہاں دین کے نام پر دین کا استعمال ہی تو کیا جاتا ہے اور استعمال بھی غلط طور پر اور اسی غلط استعمال کو ہم بطور ’’دین‘‘ پیش کر دیتے ہیں۔ یہ تو علمی خیانت سے بڑھ کر خدا کے ساتھ خیانت ہے، اس کے رسول کی تعلیمات کے ساتھ خیانت ہے۔ اور اسی علمی خیانت کی وجہ سے مسلم نوجوان نسل کو اسلام اپنانا ایک بوجھ محسوس ہونے لگا ہے۔

اسلام کا تو بنیادی نکتہ ہی تھا کہ ’’آسانیاں پیدا کرو تنگی نہیں، تسلی، اور تشفی دو، خوشخبری دو، نفرت نہ پھیلاؤ‘‘۔ لیکن یہ اسلامی رویہ آج بالکل متضاد صورت میں پیش کیا جارہا ہے۔ ’’دین کی مشکل ترین تشریحات سے لے کر جہنم کی وعید تک‘‘ یہ خلاصہ دین ہم نوجوان نسل تک پہنچا رہے ہیں۔ اس لیے آج کا نوجوان اسلام کے حقیقی تصور سے نابلد اسلام کو ہی چھوڑ بیٹھا ہے۔ ہم جو اسلام کے امین تھے خود ہی اس پر صحیح طرح سے عمل پیرا نہیں تو آنے والی نسلوں تک اسے کیسے صحیح طور پر پہنچائیں گے؟ ان کے نزدیک دین اسلام کو اپنانے کے بجائے اسے چھوڑنا زیادہ آسان لگ رہا ہے۔ یہاں پر کوتاہی دین کو پیش کرنے والوں کی ہے کیونکہ اکثر اوقات دین پیش کرنے والے خود ہی اس پر کاربند نہیں ہوتے۔ یہ اقوال و افعال کا وہ تضاد ہے جو اس سے دوری کا باعث بن رہا ہے۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ’’اسلام کیا کہتا ہے‘‘۔ ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ اسلام (قرآن و سنہ) کیا کہتا ہے وہ ہم سے کیا مطالبہ کرتا ہے۔ یقین کیجئے اسلام ایک نہایت قابل عمل اور آسان دین ہے۔ اسے مشکل ہم نے ہی بنایا ہے۔ اسلام امن کا داعی ہے۔ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا داعی ہے۔ عورت کو معاشرے میں اتنا ہی جینے کا حق ہے جتنا کہ مرد کو۔ عورت کے اس دنیا میں آنے سے مرنے تک تمام تر حقوق کا علمبردار ہے یہ دین۔ اسلام رواداری، تمام مذاہب کا احترام اور ان کی آزادی کا دین ہے، نہ کہ عدم برداشت کا۔ ریاست میں رہتے ہوئے تمام انسانوں کی جان مال عزت آبرو کے تحفظ کا ضامن، نہ کہ صرف مسلم کی۔

ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جو تیز رفتاری سے بدلتی ہے۔ اگر اب اسلامی تعلیمات کو صحیح طور پر پیش نہ کیا گیا تو یہ بحیثیت مسلمان اسلام کے ساتھ آپ کی بہت بڑی غداری ہوگی جو ہم کرتے آئے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story