13 برس کی عمر میں اولیول پاس کرنے والا کراچی کا طالب علم، چیٹ جی پی ٹی سے بھی مدد لی

عبیر نے کوئی ٹیوشن نہیں لیا بلکہ یوٹیوب، میری رہنمائی سے یہ کامیابی حاصل کی اور کراچی کا پہلا بچہ بن گیا، والد کامران

فوٹو ایکسپریس

چیٹ جی پی ٹی اور عصر حاضر کی جدت سے مدد لے کر کراچی کے 13 سالہ طالب علم نے کم عمری میں او لیول امتحانات میں امتیازی نمبروں سے تاریخی کامیابی حاصل کر کے سب کو حیران کردیا۔

سید محمد عبیر نے صرف 13 سال کی عمر میں کیمبرج کے امتحانات میں امتیازی نمبرز سے کامیابی حاصل کر کے سندھ کے پہلے کم عمر طالب علم کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔

اس سے قبل 2022 میں علی سیف پہلے طالب علم تھے جنہوں نے صرف 13 سال کی عمر میں ملکی تاریخ میں پہلی بار یونیورسٹی آف کیمبرج کے او لیول امتحان میں اے گریڈ حاصل کیا تھا۔

سید محمد عبیر کا تعلق کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد سے ہے جنہوں نے کمپیوٹر سائنس گروپ میں کیمبرج یونیورسٹی کے او لیول امتحان میں شرکت کی اور صرف 13 سال کی عمر میں اے گریڈ حاصل کرنے کا سنگ میل حاصل کیا۔

13 سال کے عبیر نے اسلامیات اور کمپیوٹر سائنس کے دونوں مضامین میں اے گریڈ حاصل کیا اور کم عمری میں تعلیمی میدان میں حاصل کرنے والے سندھ کے پہلے جبکہ پاکستان کے دوسرے طالب علم بن گئے۔

والد کامران کے مطابق عبیر کراچی اور سندھ کا پہلا بچہ ہے جس نے او لیول کمپیوٹر سائنس کے امتحان میں انتہائی کم عمری میں اے گریڈ لینے کا اعزاز حاصل کیا جبکہ اس سے قبل کم عمری میں گریڈ حاصل کرنے والے طالب علم کا تعلق لاہور سے ہے۔

فیملی نے اس کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سید محمد عبیر کی تعلیمی میدان میں مزید کامیابی کیلیے دعا کی ہے۔

والد کامران جو پیشے کے اعتبار سے پروگرامر ہیں انہوں نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کوویڈ کے دور میں عبیر دوسری کلاس میں تھا تو پھر ہم نے اسے اسکول سے اٹھا لیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اسکول سے ہٹانے کیوجہ معاشی یا دیگر معاملات نہیں بلکہ بیٹے کی تعلیم کا حرج تھا، اُس کے بعد ہم نے چار سال تک اُسے گھر میں پڑھا کر پھر 7ویں جماعت میں داخل کروایا۔

کامران کے مطابق سال 2022 میں جب سیف نامی بچے کی خبر سامنے سے گزری تو اُس وقت عبیر کو کہا تھا کہ یہ آپ بھی کرسکتے ہیں اور پھر ہم نے اُسے اسکول سے اٹھوا کر گھر میں ہی او لیول کی تیاری کروائی۔

والد کے مطابق بیٹا چونکہ بچپن سے ہی مجھے پروگرامنگ اور کوڈنگ کرتا دیکھ رہا ہے تو اُس کا رجحان بھی کمپیوٹر سائنس کی طرف شروع سے ہے اور ہم اُسے سپورٹ کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’عبیر نے او لیول امتحان کیلیے کوئی ٹیوشن نہیں لیا بلکہ چیٹ جی پی ٹی، یوٹیوب پر موجود ٹیچرز کے ویڈیوز اور میری رہنمائی کے ساتھ اُس نے امتحان میں شرکت کر کے امتیازی نمبر حاصل کیے‘۔

او لیول بورڈ کے انتخاب سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’کراچی اور سندھ کے بورڈ کا حال آپ کو معلوم ہے جہاں پر باصلاحیت بچوں کے ساتھ کھلواڑ ہوتا ہے جبکہ ہمارا دیرینہ خواب عبیر کو مستقبل میں بیرون ملک بھیجنا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ بیٹے کی کامیابی کا سب سے زیادہ کریڈٹ عبیر کی والدہ کو جاتا ہے جنہوں نے گھر میں ہونے کے باوجود ہر چیز کا شیڈول بنایا ہوا تھا اور پابندی کے ساتھ پڑھنے کیلیے بٹھاتی بھی تھیں‘۔

کامران کے مطابق کمپیوٹر سائنس اور پروگرامنگ کے حوالے سے وہ اپنے بیٹے کی گاہے بگاہے رہنمائی کرتے رہتے ہیں اور خواہش ہے کہ وہ بھی بڑا ہوکر ایک اچھا پروگرامر بنے۔

والد نے دیگر والدین کو مشورہ دیا کہ وہ بھی اس عمل کی تقلید کر کے اپنے بچوں کو او لیول امتحانات میں شامل کرسکتے ہیں جس سے نہ صرف اخراجات بچیں گے بلکہ کامیابی بھی مل سکتی ہے۔

کیمبرج بورڈ بورڈ کی ویب سائٹ پر جاری معلومات کے مطابق سال 2025 میں دنیا کے 128 ممالک کے 2 لاکھ 20 ہزار بچوں نے شرکت کی اور کامیابی کا تناسب تقریباً 87 فیصد کے قریب رہا۔

متعلقہ

Load Next Story